دیر بالا حملہ، حکومت پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرے: رہنما مسلم لیگ ن

دیر بالا میں پولیس پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے دوران اہلکاروں کا پوری رات مقابلہ جاری رہا، تاہم امیونیشن ختم ہونے پر مقامی مسلح افراد پولیس کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر نثار وردگ نے حکومت سے پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ

چوکی میں محصور پولیس اہلکار بازیابی کے بعد ڈئی آئی جی ملاکنڈ سے ملاقات کر رہے ہیں(اپر دیر پولیس)

خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں پولیس پوسٹ پر عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر نثار وردگ نے جمعے کو صوبائی اور وفاقی حکومت سے پولیس کو جدید اسلحہ اور وافر مقدار میں ایمونیشن فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دیر میں مقامی عمائدین کے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے نثار وردگ نے کہا کہ ’پولیس اہلکاروں نے پوری رات بہادری سے مقابلہ کیا، تاہم ان کے پاس راشن اور ایمونیشن ختم ہو گیا تھا۔‘

دیر بالا کے پہاڑی علاقے میں گزشتہ رات دو بندو پولیس پوسٹ پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے پوری رات مقابلہ کیا۔ پولیس کے مطابق پوسٹ میں موجود اہلکاروں کا ایمونیشن ختم ہونے پر مقامی لوگ مسلح ہو کر پولیس کی مدد کے لیے پہنچے۔

مقامی عمائدین، سابق اراکین اسمبلی اور امن کمیٹی کے مشران کی سربراہی میں واڑئی، عشیرئی درہ، ماتاڑ، براول اور دیگر قریبی علاقوں سے مسلح افراد پولیس کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔

نثار وردگ نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کیا جائے تاکہ وہ عسکریت پسندی کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

نثار وردگ نے کہا کہ ’پولیس کے پاس لڑنے کے دوران کارتوس ختم ہوئے تھے، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ انہیں جدید اسلحہ اور ضروری وسائل فراہم کرے۔‘

ریجنل پولیس آفیسر ملاکنڈ فدا حسین نے دیر بالا کا دورہ کر کے مقامی عمائدین سے ملاقات کی اور پولیس کو مدد فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں توصیفی اسناد بھی تقسیم کیں۔

فدا حسین کے مطابق پولیس نے پہاڑی علاقے میں یہ پوسٹ اس مقصد کے لیے قائم کی تھی کہ عسکریت پسند نیچے آبادی والے علاقوں میں داخل نہ ہو سکیں، تاہم اسی دوران پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ پوسٹ میں موجود پولیس اہلکاروں نے پوری رات بہادری سے مقابلہ کیا اور انہیں اسلحہ استعمال کرنے کی مکمل اجازت تھی، تاہم لڑائی کے دوران ایمونیشن ختم ہو گیا۔

فدا حسین نے کہا کہ ایمونیشن ختم ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کا بھرپور ساتھ دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ 2008 میں بھی، جب وہ دیر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر تھے، علاقے کے لوگوں نے دیر کو عسکریت پسندوں سے بچانے اور امن برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا تھا اور حالیہ واقعے میں بھی انہوں نے اسی جذبے کا مظاہرہ کیا۔

ریجنل پولیس آفیسر کے مطابق حملے کے دوران انہوں نے کور کمانڈر پشاور سے بھی رابطہ کیا، جس کے بعد مدد کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی بھیجے گئے، تاہم موسم کی صورت حال کے باعث کچھ مشکلات پیش آئیں۔

دوسری جانب پولیس کی مدد کے لیے مسلح ہو کر جانے والے مقامی افراد کو بھی راستے میں عسکریت پسندوں کی جانب سے فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر نثار وردگ بھی مقامی مسلح افراد کے ایک لشکر کی سربراہی میں پولیس کی مدد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ان کی گاڑی پر بھی عسکریت پسندوں نے فائرنگ کی، تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔

مسلح مقامی افراد کی قیادت کرنے والوں میں سابق رکن اسمبلی صاحبزادہ ثنااللہ بھی شامل تھے۔ پولیس کی مدد کے لیے روانگی سے قبل مقامی افراد سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پولیس پوسٹ میں موجود کمانڈنگ افسر سے ان کا رابطہ ہوا تھا اور اہلکار بہادری سے لڑ رہے تھے، تاہم انہیں اسلحے اور ایمونیشن کی کمی کا سامنا تھا۔

صاحبزادہ ثنااللہ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر ڈی آئی جی سے بھی بات کی اور پولیس کی مدد کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی نے انہیں مختلف طریقوں سے مدد پہنچانے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ اگر پولیس اہلکاروں کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ضلعی انتظامیہ پر ہو گی۔

مقامی ایس ڈی پی او کے مطابق پولیس پوسٹ میں محصور تمام اہلکاروں کو باحفاظت نکال لیا گیا ہے اور پولیس لائن میں ان کا استقبال کیا گیا۔

پولیس کے مطابق حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ اب علاقے میں صورت حال سازگار ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان