شمشال کی ثمانہ، دیر کی ثمر اور پشاور کی جنت کا ایک ہی جواب سامنے آیا: ’ایڈوینچر آزادی کی طرف ایک قدم، روح کو پر سکون رکھنے اور نئے معرکوں کو سر کرنے کا نام ہے۔‘
شاہد خان بتاتے ہیں کہ ’میری والدہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ اگر خود اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوئے تو یہ معاشرہ آپ کی زندگی حرام کر دے گا۔ اسی نصیحت کو لے کر میں آج اس مقام پر ہوں۔‘