اسرائیل جانے والی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی مبینہ کوشش کے پیچھے وجوہات بظاہر واضح بھی ہیں اور مبہم بھی۔
یہ کوشش غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہزاروں افراد کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی یا اس کے پیچھے کسی شخص کی ذہنی کیفیت میں اچانک بگاڑ کا معاملہ تھا، لیکن اس سے صرف ایک شخص کو فائدہ پہنچتا ہے، اور وہ اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو ہیں۔
اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والے نتن یاہو نے بھی متحدہ عرب امارات سے اسرائیل کے لیے تقریباً اسی فضائی راستے پر سفر کیا تھا جس پر بدقسمت فلائی دبئی کے مسافر محو پرواز تھے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وہ ابوظبی میں موجود تھے، جہاں ان کی کوشش تھی کہ وہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے یہ بیان دلوانے کی کوشش کر رہے تھے کہ انہوں نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملوں سے قبل نتن یاہو کو خبردار نہیں کیا تھا۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
نیتن یاہو کو اس بیان کی ضرورت اس لیے تھی کیونکہ وہ لیکوڈ (Likud) پارٹی کے سربراہ اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اسرائیلی حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ہمیشہ خود کو ایک ایسے طاقت ور رہنما کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں جو اسرائیل کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔
ان کے سامنے 27 اکتوبر کو اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات ہیں۔
فلائی دبئی کے واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے نتن یاہو نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ’ہمارے دشمن ہم پر حملہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘
اسرائیل کے ایک فضائی اڈے سے اپنے دشمنوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا: ’ہم سے الجھنے کی کوشش نہ کریں۔‘
ان کا کہنا تھا: ’نہ ابھی اور نہ کبھی۔ ہمارا لمبا ہاتھ آپ تک ہر جگہ اور ہر مقام پر پہنچے گا۔‘
اسرائیل نے بے رحمانہ اور شدید تشدد کے ذریعے بڑی حد تک ثابت کیا ہے کہ اس کے یہ دعوے درست ہیں۔ یہودی ریاست ایران کی قیادت کو ختم کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ رہی ہے۔ اس نے ایسے منصوبوں میں بھی حصہ لیا جن کے نتیجے میں ایران کے جوہری سائنس دان جان سے گئے۔
لبنان میں اسرائیل کی زمینی فوج کی محدود نوعیت کی یلغار اور جنوب اور دارالحکومت پر بڑے پیمانے پر بمباری سے پہلے غیر معمولی خفیہ کارروائیاں کی گئیں، جن میں ہزاروں پیجرز اور پھر ہاتھ میں پکڑے جانے والے ریڈیو آلات میں چھوٹے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔
غزہ میں بھی اسرائیل نے سات اکتوبر کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی کی مہم چلائی، جس کے نتیجے میں 70 ہزار سے زیادہ افراد قتل کیے گئے۔
اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب علاقے پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔
تاہم ان میں سے کسی اقدام سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی ساکھ بہتر نہیں ہوئی۔ ابراہام معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش کے ساتھ قائم ہونے والے دوستانہ تعلقات میں سعودی عرب کو شامل کرنے کی نتن یاہو کی امید پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
ممکنہ طور پر سات اکتوبر کو حماس کے حملوں کے محرکات میں یہ خواہش بھی شامل تھی کہ اسرائیل کو اس قدر غیر متناسب ردعمل پر اکسایا جائے کہ ریاض میں جاری سفارتی بات چیت مکمل طور پر منجمد ہو جائے۔ یہ مقصد پورا ہو چکا ہے۔
سعودی عرب واضح کر چکا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی بحالی تک وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں لائے گا۔
وسیع تر عالمی سطح پر بھی اسرائیل نے اپنے کئی دوست کھو دیے ہیں۔ برطانیہ نے کئی دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں کام کرنے والے اسرائیلی کاروباروں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
اسرائیل پر تنقید کو یہود دشمنی قرار دینے کی کوششیں، بعض اوقات قانون سازی کے ذریعے بھی، کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اسی طرح کئی مغربی ممالک میں بائیکاٹ، سرمایہ کاری کے خاتمے اور پابندیوں (بی ڈی ایس) کی دھمکی دینے یا ان پر عمل کرنے کو غیر قانونی قرار دینے کی کوششیں بھی اس تصور کو قانونی حیثیت نہیں دلا سکیں کہ بی ڈی ایس یہود دشمنی ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے تمام یہودیوں کے مفادات کو اسرائیل کی ضروریات یا خواہشات سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ان کے دور حکومت میں اسرائیل پر اقوام متحدہ میں غزہ میں مبینہ نسل کشی یا نسل کشی کے اقدامات کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل نے ایسا قانون بھی منظور کیا ہے جو صرف نسلی بنیادوں پر، یعنی فلسطینیوں کے خلاف، سزائے موت عائد کرنے کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل مغربی کنارے میں غیر یہودی آبادی کو ان کے گھروں اور زمینوں سے طاقت کے ذریعے بے دخل کر رہا ہے۔
نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہے۔ اس کی کئی روایتی اتحادی حکومتیں انتہائی دائیں بازو کی اسرائیلی حکومت کے اقدامات سے بیزار ہو چکی ہیں اور یہاں تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی نیتن یاہو کے جارحانہ طرز عمل پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
نیتن یاہو کو بدعنوانی کے کئی الزامات کا سامنا بھی ہے اور ان کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے۔ عدالتی آزادی ختم کرنے کے لیے آئینی تبدیلیوں کی کوششوں پر انہیں ملک کے اندر بھی بڑے پیمانے پر عوامی غصے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
نیتن یاہو جانتے ہیں کہ اسرائیل کی قیادت سے الگ ہونے کے بعد انہیں بدنامی اور حتیٰ کہ جیل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ وہ کسی بھی دوسرے اسرائیلی رہنما سے زیادہ عرصے تک اس منصب پر فائز رہے ہیں۔
اسرائیل کے ترقی پسند اخبار ’ہرٹز‘ کے مطابق، مختلف سروے کے مجموعی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے سیاسی اتحاد کو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمان (کنیسٹ) میں 52 نشستیں مل سکتی ہیں۔
اتنی ہی، یعنی 52 نشستیں، اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ باقی 16 نشستیں فیصلہ کن حیثیت اختیار کر سکتی ہیں، تاہم آئزنکوٹ نے ان اسرائیلی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے انکار کیا ہے جن میں اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرنے والی جماعتیں غالب ہیں۔
اس صورت حال میں نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب میں کامیابی کا انحصار انتہائی کم فرق پر ہے۔
فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی کوشش نیتن یاہو کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ ان کی قیادت میں اسرائیل دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ظلم کا شکار ہے، اور یہ کہ وہ تشدد اور جنون سے گھرے ایک جمہوری جزیرے کی حفاظت کر رہے ہیں، جسے صرف وہی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
© The Independent