4 اکتوبر لانگ مارچ: حکومت و پی ٹی آئی مذاکرات کا اگلا دور کل

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’حکومت کا gesture مناسب تھا، جب کوئی مذاکرات میں بیٹھتا ہے تو gesture مناسب ہی ہوتا ہے۔ میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ مزید بات کر سکوں۔‘

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 29 ستمبر، 2026 کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے( پی ٹی آئی سوشل میڈیا)

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج سمیت کئی معاملات سے متعلق جمعے کو ہوئے اجلاس کا پہلا دور مکمل ہو گیا۔ تاہم شرکا نے تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ مذاکرات کا اگلا اجلاس کل دو بجے پارلیمنٹ ہاؤس سپیکر چیمبر میں ہوگا۔

انہوں نے کہا اس اجلاس میں ’حکومت کا gesture مناسب تھا، جب کوئی مذاکرات میں بیٹھتا ہے تو gesture مناسب ہی ہوتا ہے۔ میں اس حالت میں نہیں ہوں کہ مزید بات کر سکوں۔ یہ مذاکرات جاری رہیں گے، کل اجلاس ہوگا۔ اس کے بعد فیصلہ ہوگا کہ کیا کرنا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

’کیا اجلاس میں عمران خان سے متعلق کوئی بات ہوئی؟‘ اس سوال پر سینیٹر راجہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ کل اجلاس ہوگا، ’اس کے بعد ہم کچھ کہنے کے قابل ہوں گے۔‘

پارلیمان میں سپیکر چیمبر میں منعقد ہونے والے اجلاس میں حکومتی جماعتوں، مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پارلیمان میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ 

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اچھے ماحول میں بات چیت ہوئی ہے، اور تفصیل سے موجودہ صورت حال پر گفتگو ہوئی۔ کل دو بجے تک مذاکرات میں بریک آئی ہے، تب دوبارہ اکٹھے ہوں گے۔

لانگ مارچ کو موخر کرنے سے متعلق سوال پر طارق فضل چوہدری نے کہا ’ابھی یہ طے پایا ہے کہ مذاکرات کی تفصیلات شئیر نہیں کی جائیں گی، اس کی پاسداری ہم سب پر فرض ہے۔ مذاکرات کا مقصد ہی ایک دوسرے کو تحمل اور برداشت سے سننا ہے۔ مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالنا مقصد ہوتا ہے۔‘

’کیا جماعت کے رہنماؤں سے عمران خان کی ملاقات  ہوگی؟‘ اس سوال پر وفاقی وزیر نے کہا ’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے زیر صدارت اجلاس میں ’اپوزیشن نے مذاکرات کے دوران ایک دوسرے کو اپنے اپنے موقف سے آگاہ کیا، جبکہ مختلف معاملات پر تحمل کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی۔‘

ترجمان نے کہا ’حکومت اور پیپلز پارٹی نے اپوزیشن کے ساتھ قومی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔‘

ان مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وفاقی وزیر امیر مقام شامل ہیں۔ 

دوسری جانب پیپلز پارٹی کی نمائندگی شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی کر رہے ہیں۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین گوہر خان، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجہ اور حلیم عادل شیخ اس اجلاس میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست