چار اکتوبر کو ہر صورت لانگ مارچ کریں گے: سہیل آفریدی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مطابق اگر کسی نے لانگ مارچ کے دوران انتشار پھیلانے یا دوبارہ نو مئی جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کارکن اس کے لیے تیار ہوں گے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 29 ستمبر، 2026 کو پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے( پی ٹی آئی سوشل میڈیا)

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے منگل کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ چار اکتوبر کو ہر صورت ہو گا اور پارٹی کارکن پرامن طریقے سے اس میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر کسی جانب سے حالات خراب کرنے یا کسی قسم کی اشتعال انگیزی کی کوشش کی گئی تو عوام کا ردعمل سامنے آئے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پی ٹی آئی نے راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ چار اکتوبر تک مؤخر کر دیا تھا کیونکہ حکام نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد جانے والے اہم راستے بند کر دیے تھے۔ 

وفاقی حکومت کا کہنا تھا کہ وہ دارالحکومت کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات کر رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ وہ پُرامن احتجاج کرنا چاہتی ہے۔

27 ستمبر کو ہونے والے مارچ سے قبل حکام نے ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو حراست میں لیا اور اسلام آباد جانے والے راستوں پر مال بردار کنٹینرز رکھ دیے۔ 

بڑی شاہراہیں بند ہونے سے دارالحکومت اور خیبر پختونخوا کے درمیان آمدورفت متاثر ہوئی۔ مارچ مؤخر کیے جانے کے بعد زیادہ تر راستے دوبارہ کھول دیے گئے۔

تاہم منگل کو اسلام آباد کے بعض علاقوں میں کنٹینرز موجود رہے۔

سہیل آفریدی نے آج کی پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نہتے اور پُرامن طور پر لانگ مارچ میں شریک ہوں اور ہر ایسے شخص کو روکیں جو انتشار پھیلانے کی کوشش کرے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کے مجوزہ لانگ مارچ کے موقعے پر بھی حکومت کو بڑی تعداد میں لوگوں کے نکلنے کا اندازہ تھا، اسی لیے بڑی تعداد میں کنٹینرز لگائے گئے۔ 

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت ہے اور عوام نے ماضی میں بھی اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن صوبے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر کسی نے لانگ مارچ کے دوران انتشار پھیلانے یا دوبارہ نو مئی جیسی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی کارکن اس کے لیے تیار ہوں گے۔

’حکومتی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کی کوشش‘

سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت اور اس کے حامیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ اور وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی بیانات اور الزامات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو عوام کو یہ بتانا چاہیے کہ مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور قرضوں میں اضافے کے باوجود اس کی معاشی پالیسیوں کے نتائج کیا ہیں۔

وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی فی کس آمدن، مجموعی ملکی پیداوار اور قرضوں کی صورتحال تشویش ناک ہے جبکہ ملک میں غربت اور بے روزگاری بھی بڑے مسائل ہیں۔

انہوں نے افغانستان کی معاشی شرح نمو کا پاکستان سے تقابلی حوالہ بھی دیا۔

سہیل آفریدی نے حکومت پر شاہ خرچیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عام آدمی کو دو وقت کی روٹی کے مسائل کا سامنا ہے اور دوسری جانب مہنگی سرکاری گاڑیوں اور طیاروں پر اخراجات کیے جا رہے ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے صدر جنید اکبر نے آج ایکس پر خبر دار کیا کہ ’جو جو ایم پی ایز، ایم این ایز یا پارٹی قائدین 4 اکتوبر کو پاکستان میں موجود نہیں ہوں گے، ان کا پاکستان تحریکِ انصاف سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ وہ اپنے لیے کوئی دوسری پارٹی بنا لیں۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست