پاکستان فوج نے بدھ کو کہا ہے کہ بلوچستان کے ضلع سوراب میں گاڑی میں نصب دیسی ساختہ بم تیاری کے دوران پھٹنے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 18 دہشت گرد مارے گئے جب کہ قریب موجود تین سویلین بھی ان دھماکوں کا شکار ہو گئے۔
پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ’12 اگست کی صبح سوراب میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد ایک گاڑی میں نصب دیسی ساختہ بم تیار کر رہے تھے کہ وہ قبل از وقت پھٹ گیا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے میں آٹھ عسکریت پسند موقع پر مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ان کی جانب سے وہاں ذخیرہ کیے گئے دیگر دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے قریبی علاقے میں موجود تین شہری بھی جان سے گئے۔
واقعے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز اور بلوچستان پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر مشترکہ کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی ایس پی آر کے مطابق آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے فرار ہونے والے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور کارروائی کرتے ہوئے مزید 10 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں دو سکیورٹی اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
بیان کے مطابق علاقے میں باقی ماندہ عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ’وفاقی ایپکس کمیٹی کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کے تحت منظور کردہ ’عزم استحکام‘ کے وژن کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ملک میں غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ عسکریت پسندی کے خاتمے کی مہم بھرپور رفتار سے جاری رہے گی۔‘
دوسری جانب نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بدھ کو جاری بیان میں گدر، سوراب میں اموات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’عام شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔‘
بیان کے مطابق ’نیشنل پارٹی نے روزِ اول سے واضح کیا ہے کہ طاقت کا استعمال بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں، بلکہ اس سے مزید بداعتمادی اور تشدد کو جنم ملتا ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، آئین و قانون کی بالادستی اور عوام کے بنیادی حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔‘