پاکستان اور ناروے کا افغان سرزمین عسکریت پسندی کے لیے استعمال نہ ہونے پر زور

پاکستان اور ناروے نے انسداد دہشت گردی اور یورپ کی جانب غیر قانونی تارکین روکنے کی کوششوں میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

14 اگست 2026 کو بنائی گئی ویڈیو سے لیے گئے اس سکرین گریب میں ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے اسلام آباد میں پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کر رہے ہیں (وزارت داخلہ، پاکستان)

پاکستان اور ناروے نے جمعے کو ایک مشترکہ بیان میں افغانستان میں عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دھمکی یا حملے کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

پاکستان اور ناروے نے انسداد دہشت گردی اور یورپ کی جانب غیر قانونی تارکین روکنے کی کوششوں میں تعاون مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق رائے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے درمیان جمعے کو اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات کے دوران ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی صورت حال، انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت مختلف امور پر بات چیت کی گئی۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے مطابق محسن نقوی نے ناروے کے وزیر خارجہ کو افغانستان کی صورت حال اور افغان سرزمین پر ’کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں‘ کے بارے میں اپنے مؤقف سے آگاہ کیا۔

محسن نقوی نے کہا کہ ’افغانستان کی سرزمین مسلسل پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستان دنیا اور دہشت گردی کے درمیان ایک دیوار کے طور پر کھڑا ہے۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔‘

ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کے دورۂ پاکستان کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں دونوں ملکوں نے عسکریت پسندی کی تمام اقسام اور مظاہر کے خلاف عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔

پاکستان طویل عرصے سے افغانستان پر الزام عائد کرتا آیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کے لیے عسکریت پسند گروہوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملاقات میں غیر قانونی امیگرنٹس کی روک تھام، پولیس کی تربیت اور باہمی قانونی معاونت کے امور بھی زیر بحث آئے۔

محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے مؤثر اقدامات کے باعث یورپ کی جانب غیر قانونی تارکین کی روانگی میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے قانونی امیگریشن کے مواقع کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ناروے کے وزیر خارجہ کا پاکستان کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے ناروے میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو بھی سراہا۔

ان کے مطابق ناروے میں پاکستانی برادری سیاست اور صحت سمیت مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

ایسپن بارتھ ایدے جمعرات کو پاکستان کے 10 سال بعد دورہ کرنے والے پہلے ناروے کے وزیر خارجہ بنے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی، جس میں تعلیم، ہنرمند افرادی قوت، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی۔

ناروے کے وزیر خارجہ نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں علاقائی سکیورٹی اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی فوج کے مطابق دونوں جانب سے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا اور دفاع و سکیورٹی کے شعبوں میں روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان