پاکستان نے افغانستان میں سمگل کیے گئے ہلکے اور بھاری ہتھیار قبضے میں لینے سے متعلق کابل کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے جو مبینہ طور پر پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان نے اتوار کو کابل کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ پاکستان سے افغانستان سمگل کیے گئے ہلکے اور بھاری ہتھیار قبضے میں لیے گئے ہیں۔
پاکستان نے طالبان کی زیر قیادت افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس کے بجائے ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جو مبینہ طور پر پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) August 9, 2026
پاکستان کی وزارت اطلاعات کا یہ ردعمل افغانستان کی 201 ویں خالد بن ولید کور کے ترجمان مولوی وحیداللہ محمدی کے اتوار کو جاری کیے گئے ایک ویڈیو پیغام کے بعد سامنے آیا۔ محمدی نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلی جنس فورسز نے ملک کے مشرقی علاقے میں 74 ہتھیار قبضے میں لیے ہیں۔
افغان ترجمان کے مطابق ان میں سے بعض ہتھیار پاکستان سے افغانستان سمگل کیے گئے تھے تاکہ انہیں ’تخریبی کارروائیوں‘ کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کا یہ دعویٰ کہ نام نہاد ’تخریبی سرگرمیوں‘ کے لیے پاکستان سے افغانستان ہتھیار سمگل کیے جا رہے ہیں، فضول، بے بنیاد اور مسلمہ حقائق کے منافی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت اطلاعات کے مطابق افغانستان میں پہلے ہی بڑی تعداد میں ہتھیار اور فوجی سازوسامان موجود ہے، جن میں وہ بڑی مقدار بھی شامل ہے جسے امریکی اور اتحادی افواج نے 2021 میں افغانستان سے انخلا کے وقت چھوڑ دیا تھا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سوویت دور کے ہتھیاروں کے بھی بڑے ذخائر موجود ہیں۔
وزارت نے مزید کہا کہ ’ایسے ہتھیاروں کا تعلق پاکستان سے جوڑنے کی کوشش بظاہر عالمی توجہ ایک زیادہ سنگین اور دستاویزی تشویش سے ہٹانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین پر اب بھی جگہ، سہولت اور کارروائی کی آزادی حاصل ہے، جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی، معاونت اور کارروائیاں جاری رکھتے ہیں۔‘
پاکستان نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود ’دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں‘ کے مسئلے کو حل کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف عسکریت پسندوں کے حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
پاکستان افغانستان کی حکومت پر اپنے شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے خلاف عسکریت پسندوں کے حملوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی مسائل کو اندرونی طور پر حل کرے۔
دونوں ممالک کے تعلقات بدستور کشیدہ ہیں، جبکہ افغانستان سے متصل پاکستان کے مغربی صوبوں میں عسکریت پسندی میں اضافے کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہوئے ہیں۔