پاکستان کے نامور مذہبی رہنما مفتی محمد تقی عثمانی کے دستخط سے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے، جس میں موجودہ شرعی تحقیق کی بنیاد پر کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
فتوے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ شرعی تحقیق کے مطابق کرپٹو کرنسی نہ تو شرعی اعتبار سے ’مال‘ ہے اور نہ ہی اسے کرنسی قرار دیا جا سکتا ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں۔
یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے فروغ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں بہت سے اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کی گئی، جس کے چیئرمین بلال بن ثاقب ہیں۔
بلال بن ثاقب نے آج ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کی مفتی تقی عثمانی کے ساتھ ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت کے حوالے سے تعمیری گفتگو ہوئی۔
انہوں نے کہا ’ہم ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں: پاکستانی عوام کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھنا۔‘
بلال کے مطابق ’میں نے زور دیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، سٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزڈ حقیقی اثاثے مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمالات پر مشتمل ایک وسیع شعبہ ہیں۔
Today, I had a constructive discussion with Mufti Taqi Usmani Sahib on digital assets and the ongoing conversation around their Shariah status.
— Bilal bin Saqib MBE (@Bilalbinsaqib) July 11, 2026
We are united on one fundamental objective: protecting Pakistanis from fraud, exploitation, and financial harm.
I shared that…
’اس لیے ان کا جائزہ کسی ایک زاویے سے لینے کی بجائے محتاط تکنیکی تجزیے کے ساتھ ساتھ جامع شرعی تحقیق کا تقاضا ہے۔‘
بلال کے مطابق وہ خواہاں ہیں کہ ممتاز علما، ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت جاری رہے تاکہ پاکستان کا نقطۂ نظر اسلامی اصولوں اور جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی مکمل سمجھ بوجھ دونوں کی بنیاد پر تشکیل دیا جا سکے۔
کرپٹو کرنسی ایک خاص قسم کی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے، جسے بلاک چین کہتے ہیں۔
یہ ایک قسم کا انکرپٹڈ یا خفیہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے جو صرف آن لائن ہوتا ہے اور اسی میں ہر لین دین یا ٹرانزیکشن کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔
یہ ریکارڈ دنیا بھر کے کمپیوٹروں پر موجود ہوتا ہے اور ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے، لیکن کوئی اس میں ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔
مختلف کرپٹو کرنسیاں مختلف بلاک چینز پر بنی ہوتی ہیں۔
بٹ کوائن، بٹ کوائن بلاک چین پر بنی ہے، جبکہ ایتھر، ایتھریم بلاک چین پر۔ کچھ نئی کرنسیاں پرانی کرپٹو کرنسیوں کی بلاک چینز پر بھی بنائی جا رہی ہیں لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر کرپٹو کرنسی کا ڈیٹا کسی نہ کسی بلاک چین پر محفوظ ہوتا ہے۔
بلاک چین چونکہ بےحد محفوظ ٹیکنالوجی ہے، اس لیے اسے صرف کرنسی ریکارڈ کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ جائیداد کے کاغذات، یا کھانے پینے کی اشیا کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو نے حکومتی اقدامات اور حالیہ فتوے کے تناظر میں کرپٹو ماہرین سے گفتگو کی۔
پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی کرپٹو اینڈ بلاک چین کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور آئی بی ایم سرٹیفائیڈ ڈیٹا سائنٹسٹ و بلاک چین انجینیئر شیخ فیضان کہتے ہیں کہ جس طرح کاغذی کرنسی کی قدر کو تسلیم کیا جاتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اثاثوں کی بھی ایک قابلِ شناخت ملکیت موجود ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کرپٹو سیکٹر خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے گھر بیٹھے آن لائن روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم اس کے لیے تربیت، سرمایہ کاروں کی آگاہی اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا مناسب ریگولیشن کے ذریعے پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے سے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
بقول شیخ فیضان ’پاکستان دنیا کے نمایاں کرپٹو استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک میں کرپٹو ٹریڈنگ کا حجم کافی بڑا ہے۔‘
دسمبر 2021 میں ایف پی سی سی آئی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نے 2021 میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی قدر ریکارڈ کی۔
ڈیٹا سائنٹسٹ، محقق اور تھنک ٹینک کے ریسرچ ہیڈ ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے جنوری 2025 میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا تھا 2021 میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جو 2023 میں 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
شیخ فیضان کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے بانی کی پاکستان میں دلچسپی بھی اسی وجہ سے ہے کہ یہاں کرپٹو صارفین اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
ان کے مطابق اگر اس شعبے کے لیے واضح قوانین اور مؤثر ریگولیٹری نظام متعارف کروایا جائے تو بیرونی سرمایہ پاکستان آ سکتا ہے، جس سے زرمبادلہ اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔