کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کے خلاف فتویٰ، ماہرین کیا کہتے ہیں؟

یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حکومت نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے فروغ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں بہت سے اقدامات کیے ہیں اور ماہرین کے مطابق کرپٹو سیکٹر خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے گھر بیٹھے آن لائن روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔

17 دسمبر، 2024 کو ایک سمارٹ فون پر بٹ کوائن کرپٹو کرنسی کے سکے کی تصویر اور اس کے ساتھ ایک سکرین پر تجارتی چارٹ دکھایا جا رہا ہے (اے ایف پی)

جامعہ دارالعلوم کراچی کے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی کے دستخط سے کرپٹو کرنسی سے متعلق ایک فتویٰ جاری کیا گیا ہے، جس میں موجودہ شرعی تحقیق کی بنیاد پر کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔

فتوے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ شرعی تحقیق کے مطابق کرپٹو کرنسی نہ تو شرعی اعتبار سے ’مال‘ ہے اور نہ ہی اسے کرنسی قرار دیا جا سکتا ہے، اس لیے اس کی خرید و فروخت شرعاً جائز نہیں۔

یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حکومت نے ملک میں کرپٹو کرنسی کے فروغ کے حوالے سے حالیہ دنوں میں بہت سے اقدامات کیے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بھی قائم کی گئی، جس کے چیئرمین بلال بن ثاقب ہیں۔

کرپٹو کرنسی ایک خاص قسم کی ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے، جسے بلاک چین کہتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا انکرپٹڈ یا خفیہ ڈیجیٹل ریکارڈ ہے جو صرف آن لائن ہوتا ہے اور اسی میں ہر لین دین یا ٹرانزیکشن کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے۔ یہ ریکارڈ دنیا بھر کے کمپیوٹروں پر موجود ہوتا ہے اور ہر کوئی اسے دیکھ سکتا ہے، لیکن کوئی اس میں ردوبدل یا چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا۔

مختلف کرپٹو کرنسیاں مختلف بلاک چینز پر بنی ہوتی ہیں۔ بٹ کوائن، بٹ کوائن بلاک چین پر بنی ہے، جبکہ ایتھر، ایتھریم بلاک چین پر۔ کچھ نئی کرنسیاں پرانی کرپٹو کرنسیوں کی بلاک چینز پر بھی بنائی جا رہی ہیں، لیکن بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر کرپٹو کرنسی کا ڈیٹا کسی نہ کسی بلاک چین پر محفوظ ہوتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلاک چین چونکہ بےحد محفوظ ٹیکنالوجی ہے، اس لیے اسے صرف کرنسی ریکارڈ کرنے کے لیے ہی نہیں، بلکہ جائیداد کے کاغذات، یا کھانے پینے کی اشیا کا ریکارڈ رکھنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے حکومتی اقدامات اور حالیہ فتوے کے تناظر میں کرپٹو ماہرین سے گفتگو کی۔

پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی کرپٹو اینڈ بلاک چین کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر اور آئی بی ایم سرٹیفائیڈ ڈیٹا سائنٹسٹ و بلاک چین انجینیئر شیخ فیضان کہتے ہیں کہ جس طرح کاغذی کرنسی کی قدر کو تسلیم کیا جاتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اثاثوں کی بھی ایک قابلِ شناخت ملکیت موجود ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کرپٹو سیکٹر خصوصاً نوجوانوں اور خواتین کے لیے گھر بیٹھے آن لائن روزگار کے مواقع پیدا کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے تربیت، سرمایہ کاروں کی آگاہی اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  مناسب ریگولیشن کے ذریعے پاکستان اس ابھرتے ہوئے شعبے سے معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے تحفظ اور شفافیت کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

بقول شیخ فیضان: ’پاکستان دنیا کے نمایاں کرپٹو استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ملک میں کرپٹو ٹریڈنگ کا حجم کافی بڑا ہے۔‘

دسمبر 2021 میں ایف پی سی سی آئی کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان نے 2021 میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی قدر ریکارڈ کی۔

ڈیٹا سائنٹسٹ، محقق اور تھنک ٹینک کے ریسرچ ہیڈ ڈاکٹر اسامہ احسان خان نے جنوری 2025 میں انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا تھا کہ 2021 میں پاکستان میں کرپٹو کرنسی میں تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی جو 2023 میں 25 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔

شیخ فیضان کے مطابق عالمی کرپٹو ایکسچینج بائنانس کے بانی کی پاکستان میں دلچسپی بھی اسی وجہ سے ہے کہ یہاں کرپٹو صارفین اور سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ان کے مطابق اگر اس شعبے کے لیے واضح قوانین اور مؤثر ریگولیٹری نظام متعارف کروایا جائے تو بیرونی سرمایہ پاکستان آ سکتا ہے، جس سے زرمبادلہ اور معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی