تہذیبوں کی تاریخ میں یہ روایت رہی ہے کہ ہر قوم اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لیے نسلی تاریخ اور اخلاقی قدروں کا سہارا لیتی ہے۔ انہی نظریات کے نتیجے میں قوم پرستی پیدا ہوتی ہے۔
جو قوموں میں تصادم کا باعث بنتی ہے، اپنی برتری کو ثابت کرنے کے لیے سائنس کی بھی مدد لیتی ہے۔
عہد وسطیٰ میں رومیوں اور جرمن قبائل کے درمیان خون ریز جنگیں ہوئیں۔ جرمن قبائل کی بہادری اور ان کے اتحاد کو دیکھ کر رومی مورخ پی سی ٹیسی ٹس نے جرمینیا میں جو موجود عہد میں جرمن قوم پرستی کے لیے اہم ہو گئی۔
نشاۃ الثانیہ کے عہد میں یورپ میں سیاسی اور سماجی تبدیلی آئی۔ عہد وسطیٰ کے کلچر اور روایتوں کا خاتمہ ہوا اور ایک نئے یورپ کی بنیاد پڑی۔ اس عہد میں نئے فلسفیانہ خیالات اور نئے سیاسی نظریات پیدا ہوئے جن کی وجہ سے قومی تحریکوں کی ابتدا ہوئی اور نیا کلچر وجود میں آیا۔
خاص طور سے سماجی علوم سے مذہبی عقائد ختم ہوئے اور وقت کی ضرورت کے مطابق نئے افکار نے قوموں کی زندگی کو بدل ڈالا۔ فرانسیی انقلاب جو 1789 میں آیا تھا۔ اس نے نسلی تعصبات کو ختم کر کے ان کو قومی بنایا۔ لیکن ایک جانب تو قومیں متحد ہوئیں لیکن دوسری جانب قدیم نسلی تعصبات بھی ابھر کر آئے جنہوں نے معاشرے کو ایک نئے تصادم سے دوچار کیا۔
فرانسیی انقلاب کے بعد 1799 میں نپولین بر سر اقتدار آیا، اور فرانس کا شہنشاہ بن کر یورپ کا نقشہ بدلنے کی کوشش کی۔ 1806 میں اس نے یوریشیا کو شکست دے کر جرمنی میں سیاسی تبدیلیاں کیں۔
جرمنی اس وقت 300 چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا۔ ان کے درمیان تجارتی رکاوٹیں بھی تھیں کیونکہ ہر ریاست نے اپنے اپنے چونگی کے ناکے قائم کر رکھے تھے۔
ان حالات میں جب کہ دوسری قومیں متحد ہو کر ترقی کر رہی تھیں جرمنی سیاسی اور سماجی طور پر پسماندہ ہو گیا تھا۔ اشرافیہ فرانسیسی بولتی تھی۔ یوریشیا کا بادشاہ فریدرک ولہم ثانی فرانسیی میں شاعری کرتا تھا۔ ملازموں اور کتوں سے جرمن بولتا تھا۔
جرمنی کو متحد کرنے کے لیے جے جی ہرڈر نے تاریخ کی روشنی میں اس تحریک کی ابتدا کی کہ جرمنی کو زبان کی بنیاد پر متحد ہونا چاہیے اور زبان کو زرخیز بنانے کے لیے اس میں فلسفہ، ادب اور تاریخ اور سماجی علوم کو متعارف کرانا چاہیے۔
اس کی کوششوں کے نتیجے میں گرم برادران نے قدیم تاریخی لوک گیت اور کہانیوں کو جمع کیا جس سے جرمن زبان کے قدیم ہونے کا نظریہ قائم ہوا۔ انڈو یوروپین زبانوں کا نظریہ ولیم جونز نے روشناس کرایا جس کی بنیاد آریا نسل پر تھی۔
انہوں نے نظریہ پیش کیا کہ سنسکرت، فارسی، لاطینی، یونانی کے ڈانڈے آپس میں ملتے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس کے بعد جرمن مفکرین نے اپنی قومی بنیاد آرایائی نسل پر رکھی اور نسلی پاکیزگی کے لیے دوسری نسلوں سے اپنے تعلقات ختم کرنے کی شروعات کی۔ خاص طور سے یہودیوں سے جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ یہ لالچی اور پیسے کو خدا مانتے ہیں، ان کی کوئی اعلیٰ اخلاقی اقدار نہیں ہیں لہٰذا جرمن نسل کو ان سے سماجی تعلقات نہیں رکھنے چاہییں کیونکہ اس ملاوٹ سے جرمن قوم کا اعلی کردار ختم ہو جائے گا۔
19ویں صدی میں جرمنی میں یہودیوں کے خلاف سخت تحریک چلی اس میں مشہور جرمن موسیقار رچرڈ واگنر بھی شامل تھا۔ اس نے جگہ جگہ لیکچرز دیے کر یہودیوں کی مخالفت کی۔
دوسرا شخص جو یہودیوں کا مخالف تھا وہ چیمبرلین تھا جو واگنر کا داماد بھی تھا۔ 1914 کی پہلی جنگ عظیم میں جب جرمنی کو شکست ہوئی تو یہ اس کے لیے سخت بےعزتی اور صدمے کا باعث تھا۔
اس کی وجہ سے جرمنی میں بےانتہا مہنگائی پیدا ہو گئی، لاقانونیت کا دور دورہ شروع ہو گیا، جرائم بڑھ گئے، سیاسی انتشار عروج پر چلا گیا اور ریاست کے تمام ادارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔
ان حالات میں جرمن قوم کو کسی نئے رہنما اور پارٹی کی ضرورت تھی۔ یہ وہ صورت حال تھی جب نیشنل سوشلسٹ پارٹی کا قیام عمل میں آیا اور ہٹلر نے اس کی رہنمائی سنبھالی۔
ہٹلر نے جیل میں رہتے ہوئے ’میری جدوجہد‘ نامی کتاب لکھی۔ اس میں روس سے آئے ہوئے ایک دانشور الفریڈ روزنبرگ تھا جس نے نیشنل سوشلسٹ پارٹی کی فلسفیانہ بنیادیں رکھیں اور ہٹلر کی کتاب ’میری جدوجہد‘ میں کچھ ترمیم کیں۔
ہٹلر کا کہنا تھا کہ اس کی کتاب بہت زیادہ فلسفیانہ نہ ہو بلکہ عام لوگوں کے لیے ہو۔ ہٹلر نے اپنی کتاب میں یہودیوں، خانہ بدوشوں اور کمیونسٹوں کے خلاف سخت تنقید کی ہے۔ وہ جرمنی کو ایک بار پھر اس کی کھوئی ہوئی عزت اور عظمت کو واپس لانا چاہتا تھا۔ اس لیے اس کے ابتدائی دور میں شکستہ اور خستہ جرمنی کی تعمیر نو ہوئی۔ لیکن اس کی پارٹی نے اس نسلی برتری کو مضبوط کیا تھا اور جس کی بنیاد پر وہ دوسری قوموں کو کمتر سمجھ کر ان پر حکومت کرنا چاہتا تھا۔
اس کی اسی پالیسی نے جرمن سوسائٹی کو یہودیوں اور ہٹلر کے مخالفین کو معاشرے سے نکال دیا تاکہ جرمن قوم کی پاکیزگی کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہی وہ حالات تھے جس نے دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو ایک بار پھر شکست دے کر اس کی برتری کا خاتمہ کیا۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔