جب ایشیا اور افریقہ کے یورپی کالونیز نے آزادی کی جدوجہد کی تو اس کے لیے لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن جب یہ آزاد ہوئے تو یورپی اقتدار تو ختم ہوا مگر اس کی جگہ ان کے اپنے ہی رہنماؤں نے اقتدار پر قبضہ کر کے دوبارہ سے غلام بنا لیا۔
ہیٹی کا انقلاب تو 1791 میں آیا تھا۔ جو اپنی نوعیت کا پہلا انقلاب تھا۔ اس کے تمام انقلابی افریقی غلام تھے۔ جو ان پڑھ تھے، جنگ کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ کوئی ایک زبان کے بولنے والے بھی نہیں تھے۔ فرانسیی کالونی ہونے کی وجہ سے ٹوٹی پھوٹی فرینچ (French) بول لیتے تھے۔
سفید فارم مالکوں کی سختیوں کی وجہ سے ان میں آزادی کا جذبہ پیدا ہوا۔ جب 1791 میں فرانسیسی انقلاب نے غلامی کا خاتمہ کیا تو انہوں نے بھی اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔
لیکن جب نیپولین اقتدار میں آیا تو اس نے دوبارہ سے غلامی کو نافذ کیا اور فرانسیسی فوجوں کو بھیچ کر ہیٹی کی آزادی کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے لیڈرToussaint Louverture کو دھوکے سے گرفتار کر کے فرانس لے جایا گیا جہاں اس کا انتقال 1803 میں ہوا۔
Toussaint کے جانے کے بعد انقلابی فوج کئی پارٹیوں میں تقسیم ہو گئی لیکن فرانس 16 سے 18 فوجی مہمات کے باوجود انقلاب کا خاتمہ نہیں کر سکا۔
لہذا 1804 میں فرانس نے اس کے آزادی کو تسلیم کر لیا۔ لیکن اس کی شرط یہ تھی کہHaiti کی حکومت آزاد ہونے والے غلاموں کی قیمت ادا کرے گا۔ ہیٹی پر یہ ایک مالی بوجھ تھا۔ جو وہ فرانس کو موجودہ دور تک ادا کرتا رہا۔
ہیٹی کی سیاسی صورتحال اس وقت خراب ہونا شروع ہوئی جب مختلف فوجی پارٹیوں نے اقتدار کے لیے ایک دوسرے پر حملے کیے۔ خانہ جنگی کی اس حالت میں نہ تو سیاسی استحکام رہا اور نہ معاشی حالت بدلی۔
خانہ جنگی کی وجہ سے آزادی کے باوجود ہیٹی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ خانہ جنگی کے نتیجے میں ہینری کرسٹوفر 1811 میں فتح یاب ہو کر بطور صدر منتخب ہوا۔ لیکن اس کے لیے صدارت کا عہدہ نہ کافی تھا۔ اس نے صدارت کو چھوڑ کر اپنی بادشاہت کا اعلان کیا۔ اور اپنی تاج پوشی کی رسومات شاندار طریقے سے منائی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاریخ کی یہ ستم ظریفی ہے کہ جب کسی محروم شخص کو طاقت مل جائے تو وہ اپنا پرانا کردار بھول جاتا ہے طاقت اس میں نئی خواہشات کو جنم دیتی ہے۔ جو خود کو دوسروں سے برتر اور بالاتر سمجھنے لگتا ہے۔ کسی تنقید یا مخالفت کو برداشت نہیں کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اس میں ظلم کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جو لوگوں میں ڈر اور خوف کو پیدا کرتا ہے۔
کرسٹوفر نے اپنی بادشاہت کی شان و شوکت کے لیے محلات تعمیر کرانا شروع کیے ان میں سب سے مشہور اس کا Sans-Souci کا محل تھا۔ یہ تعمیر کا اعلیٰ شاہکار تھا۔ اس کے باغات اور پانی کے فوارے آب و ہوا کو خوشگوار رکھتے تھے۔ کرسٹوفر نے اس کو اپنی رہائش گاہ بنایا اور فرانس کے بادشاہوں کی طرح اپنا دربار سجایا۔
دربار کی رسومات کو غلط نافذ کیا اور محلات میں رقص و سرور اور اوپرا(Opera) کی محفلیں ہونے لگیں اس کے درباریوں کی ایک ٹیم پیدا ہو گئی جو اس کی خوشامد کرتے تھے اور اس سے فائدے اٹھاتے تھے۔ یہ انقلاب کی ایک بگڑی ہوئی شکل تھی یہ اپنے برتاؤ میں سخت ظالم تھا۔ ملازموں کی ذرا سی غلطی پر انہیں گولی مار کر ہلاک کروا دیتا تھا۔
لہذا اس کی بادشاہت نے ہیٹی کے معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ایک جانب اشرافیہ تھی جو مراعات یافتہ اور معاشی طور پر خوشحال تھی۔ دوسری جانب عام لوگ تھے جو آزادی کے بعد دوبارہ سے غلام بن گئے تھے۔
اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیٹی کا انقلاب ناکام ہو گیا تھا۔ کیا اس انقلاب کے لیے جن لوگوں نے قربانیاں دی تھیں وہ سب ضائع ہوئیں اور عام لوگوں کو اس کا کوئی صلہ نہیں ملا۔ اس انقلاب کی تشریح اس طرح کی جا سکتی ہے کہ یہ انقلاب کسی نظریے کی بنیاد پر نہیں تھا۔
اس کا مطالبہ غلامی کا خاتمہ تھا مگر غلامی کے خاتمے کے بعد ملک کا کیا نظام ہوگا۔ ریاست کے کیا ادارے ہوں گے۔ اس کے لیے جس تعلیم و تربیت اور اہلیت کی ضرورت تھی وہ کہاں سے آئے گی۔
اس سوچ کی وجہ سے Toussaint نے ہیٹی کے تعلقات کو فرانس سے برقرار رکھنا چاہا تاکہ اس سے سیاسی تربیت حاصل کی جا سکے مگر اس کے بعد کے لیڈروں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ جس کا نتیجہ انتشار کی صورت میں نکلا اور ہنری کرسٹوفر نے 1820 میں خودکشی کر کے ہیٹی کو بے سہارا چھوڑ دیا۔
ہیٹی کے انقلاب کی صورت حال کو ہم ایشیا اور افریقہ کی ان یورپی کالونیز میں دیکھتے ہیں۔ جو آزاد تو ہو گئیں۔ مگر اپنے ملکوں کے حالات کو نہیں سدھار سکیں۔ ان آزاد ہونے والے ملکوں نے جمہوریت کی بجائے آمرانہ حکومتیں آئیں۔
جنہوں نے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر عام لوگوں کو آزاد نہیں ہونے دیا۔ اس صورت حال کو ہم لاطینی امریکہ کے ملکوں میں بھی دیکھتے ہیں۔
لہذا سوال یہ ہے کہ کیا یورپی کلونیلزم سے ازادی کے بعد اپنے ہی ہم قوم عامروں کی غلامی میں آ کر آزادی سے نا آشنا ہو گئے۔
نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔