خامنہ ای کی موت: پاکستان میں احتجاج، 17 اموات، گلگت، سکردو میں کرفیو

ایرانی سپریم لیڈر کی موت کے بعد کراچی، اسلام آباد، لاہور اور گلگت بلتستان میں پرتشدد مظاہروں کے دوران 17 اموات ہوئیں۔

کراچی میں ہسپتال اور ریسکیو حکام نے اتوار کو بتایا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملے میں موت کے بعد شہر میں امریکی قونصلیٹ میں احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین فائرنگ کے نتیجے میں جان سے چلے گئے۔

دوسری جانب گلگت میں مظاہروں کے دوران سات افراد جان سے گئے جب کہ 45 زخمی ہیں۔

سکردو پولیس کنٹرول کے اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ کے دفتر، ایس پی پولیس کی رہائش، ایک آئی ٹی دفتر جبکہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے دفتر کو نذر آتش کر دیا گیا۔

اہلکار نے بتایا کہ کشیدہ حالات کی وجہ سے سکردو میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور پولیس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے گلگت میں صحت کے ایک سینیئر اہلکار ڈاکٹر وجاہت حسین نے اتوار کو سات اموات اور 45 زخمی افراد کی تصدیق کی۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے ہفتے کو کیے گئے مشترکہ حملے کے بعد اتوار کو تہران کے سرکاری میڈیا نے اپنے سپریم لیڈر کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا، جس میں سرفہرست کراچی ہے، جہاں کراچی میں امریکی قونصل خانے کے اطراف کا علاقہ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے باعث کسی تصادم زدہ علاقے کا منظر پیش کر رہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جہاں درجنوں نوجوان، جن میں سے بعض نے اپنے چہرے ڈھانپ رکھے تھے، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر پتھراؤ کر رہے تھے اور قونصل خانے تک پہنچنے کا عزم ظاہر کر رہے تھے، جہاں سینکڑوں پولیس اہلکار اور نیم فوجی رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق امریکی قونصلیٹ میں احتجاج کرنے والے نو مظاہرین کی فائرنگ سے موت ہوئی۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے انڈپینڈنٹ اردو کو واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ’مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کے اندر گھسنے کی کوشش کی۔ اس دوران کچھ پولیس نے فائرنگ کی، کچھ قونصل خانے کے اندر سے سکیورٹی نے فائرنگ کی۔‘

فیصل ایدھی کے مطابق: ’آٹھ کے قریب اموات ہوئیں اور 30 سے زائد لوگ زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت نازک ہے، اس لیے اموات کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’چونکہ فائرنگ بہت کم فاصلے سے کی گئی تھی، اس لیے گولیاں سیدھا سینے اور پیٹ پر لگیں۔ ہم سینے اور پیٹ پر زخموں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے اس سوال پر کہ فائرنگ کون کر رہا تھا؟ فیصل ایدھی نے جواب دیا: ’فائرنگ قونصل خانے کے اندر موجود سکیورٹی کی جانب سے کی جا رہی تھی۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

سینیئر پولیس افسر عرفان بلوچ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مظاہرین نے مختصر طور پر امریکی قونصل خانے کی بیرونی حدود پر حملہ کیا لیکن بعد ازاں انہیں منتشر کر دیا گیا۔ انہوں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ قونصل خانے کی عمارت کے کسی حصے کو آگ لگا دی گئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے قریبی پولیس چوکی کو نذرِ آتش کیا اور سکیورٹی فورسز کے پہنچنے اور کنٹرول سنبھالنے سے قبل قونصل خانے کی کھڑکیاں توڑ دیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ درجنوں مظاہرین قونصل خانے سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر جمع رہے اور دوسروں سے بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کی اپیل کرتے رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز کے پہنچنے سے قبل مظاہرین میں شامل ایک شخص نے قونصل خانے کی ایک کھڑکی کو آگ لگانے کی کوشش کی، جس کے بعد اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔

پاکستان میں واقع امریکی سفارت خانے نے ایکس پر لکھا کہ وہ کراچی اور لاہور میں امریکی قونصل خانوں کے باہر جاری مظاہروں کی رپورٹس کی نگرانی کر رہا ہے جبکہ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور پشاور میں قونصل جنرل کے دفتر کے باہر مزید احتجاجی مظاہروں کی اپیلوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔

سفارت خانے نے پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ مقامی خبروں پر نظر رکھیں، اپنے اردگرد کے ماحول سے باخبر رہیں، بڑے ہجوم سے گریز کریں اور امریکی حکومت کے ساتھ اپنی سفری رجسٹریشن کو تازہ ترین رکھیں۔

اس صورت حال پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے تحمل کی اپیل جاری کی۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا: ’آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان کا ہر شہری ایران کے عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔‘

انہوں نے اسے ’امت مسلمہ اور ایران و پاکستان دونوں کے عوام کے لیے یومِ سوگ‘ قرار دیا، تاہم لوگوں پر زور دیا کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور اپنا احتجاج پرامن طریقے سے ریکارڈ کروائیں۔‘

سندھ حکومت نے بھی ایک بیان میں شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار پرامن انداز میں کریں اور تشدد میں ملوث ہونے سے گریز کریں۔

وزیر اعظم کا دورہ روس موخر

وزارت خارجہ پاکستان کے مطابق حالیہ علاقائی و داخلی صورتحال کے پیش نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے دورہ روس کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دورے کی نئی تاریخ کا فیصلہ باہمی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

گلگت بلستان میں پر تشدد مظاہرے، امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج طلب: پولیس

مشرق وسطیٰ کی موجودہ خلیجی صورت حال کے تناظر میں گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاج جاری ہے۔

گلگت بلتستان کے ضلع سکردو میں پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے وہاں واقع اقوام متحدہ کے ذیلی دفتر سمیت دیگر چند عمارتوں کو بھی آگ لگا دی۔

سکردو پولیس کنٹرول کے اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار اظہار اللہ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے دفتر، ایس پی پولیس کی رہائش، ایک آئی ٹی دفتر جبکہ آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کے دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔

اہلکار نے بتایا کہ کشیدہ حالات کی وجہ سے سکردو میں کرفیو نافذ کردیا گیا اور پولیس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

گلگکت بلتستان پولیس کے مطابق کشیدہ حالات کی وجہ سے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا۔

گلگت میں ناد علی چوک اور دنیور میں علمدار چوک احتجاج کے باعث بند ہیں۔

پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ سفر سے قبل مناسب منصوبہ بندی کریں اور رہنمائی کے لیے متعلقہ پولیس کنٹرول روم یا ٹورسٹ پولیس ہیلپ لائن 1422 سے رابطہ کریں۔

اسلام آباد میں ریڈزون کی طرف جانے والے تمام راستے سیل

اسلام آباد میں حکام نے صورت حال کے پیش نظر ریڈ زون جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا ہے اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے احتجاج، مظاہرے یا اجتماع کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس تقی جواد نے کہا ہے کہ ریڈ زون کی طرف جانے والے تمام راستوں کو مکمل بند کردیا گیا ہے۔ ’شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ ریڈ زون کی طرف سفر نہ کریں۔‘

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق شہر میں دفعہ 144 کا نفاذ ہے، جس کے تحت ’ہر قسم کے اجتماعات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی اجتماع یا اکٹھ کا حصہ نہ بنیں۔‘

لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج

ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر کی موت کے بعد اتوار کو لاہور میں امریکی قونصلیٹ کے سامنے احتجاج کیا گیا۔

نامہ نگار ارشد چوہدری کے مطابق مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے باہر توڑ پھوڑ کی جبکہ قونصلیٹ جانے کی کوشش پولیس نے ناکام بنا دی۔

مظاہرین نے امریکی قونصلیٹ کے سامنے لگائے سکیورٹی کیمپ بھی اکھاڑ دیے۔ مظاہرین نے خواتین، بچے، بوڑھے اور نوجوان بھی شریک ہیں، جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرہ بازی کررہے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد سینکڑوں افراد کا لاہور پریس کلب کے باہر بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان