افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات، پاکستان اور چین کا تعاون بڑھانے پر اتفاق

پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے نے بتایا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب سے علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً افغانستان سے سرگرم عسکریت پسندوں کے بارے میں بات کی ہے۔

پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق اسلام آباد میں یکم جون، 2026 کو اپنے چینی ہم منصب سفیر یوئے شیاویونگ سے ملاقات کر رہے ہیں (محمد صادق/ایکس)

پاکستان کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے محمد صادق نے منگل کو بتایا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات، خصوصاً افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے بارے میں بات چیت کی ہے جبکہ بیجنگ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

محمد صادق اور یوئے شیاویونگ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کئی ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں۔

اس دوران سرحد پار جھڑپیں، افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی حملے اور پاکستان کے الزامات سامنے آئے کہ طالبان حکومت عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں حملے کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔

کابل ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی ایک داخلی مسئلہ ہے۔

محمد صادق نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ’علاقائی سلامتی سے متعلق مفید مذاکرات ہوئے، جن میں افغان سرزمین سے سرگرم ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم کے خطرات بھی زیر بحث آئے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’اس بات پر اتفاق ہوا کہ علاقائی امن اور استحکام کے تحفظ کے لیے باہمی رابطہ مضبوط کیا جائے گا اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو ہم آہنگ بنایا جائے گا۔‘

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) مختلف عسکریت پسند گروہوں کا اتحاد ہے، جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے اندر بعض مہلک ترین حملے کیے ہیں۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے کئی جنگجو افغانستان میں محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم طالبان حکومت اس دعوے کو مسترد کرتی ہے۔

پاکستان اور چین نے مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے حوالے سے بھی بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیجنگ کا الزام ہے کہ یہ گروہ چین کے سنکیانگ خطے میں ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے پس منظر میں ہوئے جب چین پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے کردار میں زیادہ فعال ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی ہے کہ علاقائی عدم استحکام سے رابطہ کاری کے منصوبے اور خطے میں چین کے اقتصادی مفادات، خصوصاً اربوں ڈالر مالیت کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے، متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات اس سال کے آغاز میں شدید کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے، جب سرحدی جھڑپوں میں اموات کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کئی برسوں کی بدترین محاذ آرائی دیکھنے میں آئی۔

فروری میں پاکستان نے افغانستان کے اندر فضائی حملے کیے اور طالبان پر عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا جبکہ کابل نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات مسترد کر دیے۔

اس کے بعد چین نے وسیع تر تنازعے کو روکنے کے لیے اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دیں۔

مارچ میں چین کے خصوصی ایلچی یوئے شیاویونگ نے اسلام آباد اور کابل کے درمیان شٹل سفارت کاری کی جبکہ بیجنگ نے چین کے شمال مغربی شہر اُرمچی میں پاکستانی اور افغان حکام کے درمیان براہ راست مذاکرات کی میزبانی بھی کی۔

چینی حکام نے کھلے عام دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات فوجی کارروائیوں کی بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

چین نے جنگ بندی اور وسیع تر سیاسی مفاہمت کی کوششوں کی بھی حمایت کی ہے۔

اپریل میں پاکستان اور افغانستان نے چین میں دوبارہ مذاکرات کا آغاز کیا، جن کا مقصد کشیدگی میں کمی لانا اور سرحدی سلامتی، عسکریت پسند سرگرمیوں اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے طویل المدتی فریم ورک پر غور کرنا تھا۔

بعد ازاں دونوں فریقوں نے ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا جبکہ چین کا کہنا تھا کہ بات چیت کا عمل پیش رفت کر رہا ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا