امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے ہفتے کو پاکستانی شہریوں کو حفاظت اور سلامتی کے پیش نظر ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کے مطابق اس حملے کا مقصد دونوں ملکوں کے مطابق ایران سے ان کو درپیش ’خطرات‘ کو کم کرنا ہے، جس کے ردعمل میں ایران نے بھی اسرائیل کی جانب میزائل داغ دیے ہیں۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کی گئی ایڈوائزری میں کہا گیا کہ ’ایران میں مقیم پاکستانی شہری احتیاط برتیں، چوکنا رہیں، غیر ضروری نقل و حرکت کم سے کم کریں اور پاکستانی مشنز کے ساتھ مستقل رابطہ رکھیں۔‘
ادھر تہران میں پاکستان کے سفیر مدثر نے ایک پوسٹ میں تمام پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی احتیاط برتیں اور بدلتی ہوئی صورت حال کا نہایت سنجیدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ تمام افراد اپنے سفری دستاویزات ہمہ وقت تیار رکھیں اور روزمرہ ضروریات کی تکمیل کے لیے مناسب انتظامات پہلے سے کر لیں۔
’جو حضرات سفر کا ارادہ رکھتے ہوں وہ اپنے سفری منصوبے کو حتمی شکل دینے سے قبل ایران کی شہری ہوا بازی اتھارٹی کی ہدایات اور متعلقہ سرحدی اوقات کو ضرور پیشِ نظر رکھیں، تاکہ کسی غیر متوقع دشواری سے بچا جا سکے۔‘
سفارت خانے نے کسی بھی قسم کی معاونت یا رہنمائی کے لیے فون نمبرز پر رابطہ کے لیے کہا ہے۔
I request all Pakistanis living in Iran to take great care of themselves and very carefully assess the evolving situation . In any case , it’s advisable that they keep their travel documents ready and undertake appropriate arrangements to meet their daily needs. Those who wish to…
— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) February 28, 2026
ایران پر حملے نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تصادم کی طرف دھکیل دیا ہے اور مغرب کے ساتھ تہران کے دیرینہ جوہری تنازع کے سفارتی حل کی امیدوں کو مزید مدھم کر دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
گذشتہ برس جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان ہونے والی 12 روزہ فضائی جنگ کے بعد یہ حملہ امریکہ اور اسرائیل کے ان مسلسل انتباہات کے بعد کیا گیا ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کو آگے بڑھایا تو وہ اسے دوبارہ نشانہ بنائیں گے۔
امریکہ اور ایران نے فروری میں سفارت کاری کے ذریعے اس دہائیوں پرانے تنازع کو حل کرنے اور خطے کو غیر مستحکم کرنے والے ممکنہ فوجی تصادم کے خطرے کو ٹالنے کی کوشش میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے۔
تاہم، اسرائیل کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی معاہدے میں صرف افزودگی کے عمل کو روکنا ہی نہیں بلکہ تہران کے جوہری ڈھانچے کا خاتمہ بھی شامل ہونا چاہیے اور اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر پابندیوں کو بھی شامل کرے۔
ایران نے کہا کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام پر قدغنوں کے حوالے سے بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اس نے اس معاملے کو میزائلوں کے ساتھ جوڑنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
تہران نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنا دفاع کرے گا۔
اس نے امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے پڑوسی ممالک کو متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کو نشانہ بنایا تو وہ امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کرے گا۔