ایرانی حملے سے نو اسرائیلیوں کی موت، 3 امریکی فوجی بھی جان سے گئے

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی کی تو امریکہ ایران پر ’ایسی طاقت سے حملہ کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

  • ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کا آج تیسرا دن ہے، جسے امریکہ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
  • ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔
  •  ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان، علی رضا اعرافی نئے عبوری سپریم لیڈر مقرر
  • خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

ایران - امریکہ لڑائی کے پہلے دن کا احوال یہاں جانیے


رات 8 بج کر 40 منٹ: تین امریکی فوج مارے گئے

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے دوران اب تک سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق تین امریکی فوجی جان کھو چکے اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔

 کئی دیگر افراد کو معمولی شریپنل کے زخم اور سر پر چوٹیں آئیں اور انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر واپس لایا جا رہا ہے۔ تاہم بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اموات کہاں اور کیسے ہوئی ہیں۔

امریکی سینٹر کمانڈ کے مطابق ’بڑے جنگی آپریشنز جاری ہیں اور ہماری جوابی کوششیں جاری ہیں۔ صورت حال غیر مستحکم ہے، اس لیے خاندانوں کے احترام کے پیش نظر، ہم مزید معلومات، بشمول اپنے سپاہیوں کی شناخت، اس وقت تک ظاہر نہیں کریں گے جب تک کہ قریبی رشتہ داروں کو اطلاع نہ مل جائے۔‘


رات 8 بج کر 5 منٹ: اسرائیل میں ایرانی میزائل سے نو اموات

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ایک ایرانی میزائل کے شہر بیت شمش پر لگنے سے نو افراد جان کھو بیٹھے ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق میزائل رہائشی علاقے میں گرا جس سے یہودی عبادت گاہ بھی تباہ ہوگئی ہے۔

میگن ڈیوڈ آدوم ایمرجنسی سروس نے کہا: ’بیت شمش کے علاقے میں، ایم ڈی اے ای ایم ٹی اور پیرامیڈکس نے نو افراد کی موت اور 28 دیگر زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔

اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر نے دیکھا کہ ریسکیو ٹیمیں عمارت کے ملبے سے ایک لاش نکال رہی تھیں۔ ’وہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے ہر قسم کا سامان لا رہے ہیں،‘ حملے کی جگہ پر موجود ایک اور اے ایف پی فوٹوگرافر نے کہا۔

ریسکیو ٹیمیں اپنی تلاش جاری رکھے ہوئے تھیں۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک مکان دھماکے سے تباہ ہو چکا تھا، اس کی چھت ٹوٹی ہوئی کنکریٹ اور مڑے ہوئے لوہے کی سلاخوں میں تبدیل ہو چکی تھی۔

ریسکیو ٹیمیں ملبے کے نیچے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔


رات 8 بجے: ایرانی حملے سے ابوظبی میں فرانسیسی اڈے میں آگ

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے اتوار کو بتایا کہ ایران کے ایک ڈرون حملے نے ابوظبی کے ایک بحری اڈے پر آگ لگا دی ہے، جہاں فرانسیسی فوجیں موجود تھیں، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

وزارت دفاع نے کہا، ’آج ابوظبی کے ال سلام بحری اڈے پر دو ایرانی ڈرونز کے حملے کے نتیجے میں عمومی مواد کے دو کنٹینرز میں آگ لگا دی، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

یہ اڈہ، جسے کیمپ ڈی لا پیکس بھی کہا جاتا ہے، اماراتی ہے، لیکن یہ متحدہ عرب امارات کی دعوت پر فرانسیسی فوجوں کی میزبانی کرتا ہے۔

فرانسیسی فوج نے اتوار کو حملے کی اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

سعودی عرب

ایک خلیجی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے اتوار کو ایرانی میزائلوں کو روکا جو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور پرنس سلطان ایئر بیس کو نشانہ بنا رہے تھے، جہاں امریکی فوجی اہلکار موجود ہیں۔

ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، فضائی دفاعی نظام نے اتوار کی دوپہر ریاض ہوائی اڈے اور پرنس سلطان ایئر بیس کے قریب ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روکا‘، اور یہ بھی بتایا کہ اس روکنے سے نیویگیشن متاثر نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی انسانی یا مادی نقصان ہوا۔

ادھر علاقے کے رہائشیوں اور اے ایف پی کے نمائندوں نے پہلے مشرقی ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی۔


رات 7 بج کر 50  منٹ: ایران کے نصف میزائل ذخائر تباہ کرنے کا اسرائیلی دعوی

اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے ایران کے تقریبا نصف میزائل ذخائر تباہ کر دیے ہیں۔

فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے ٹیلی ویژن پر دیے گئے بیان میں کہا ’آپریشن کے دوران، ہم نے ایرانی حکومت کے تقریبا نصف میزائل ذخائر تباہ کیے اور کم از کم 1,500 اضافی میزائلوں کی پیداوار کو روک دیا۔ ایرانی حکومت حال ہی میں ہر ماہ درجنوں سطح سے سطح تک میزائل تیار کر رہی تھی اور پیداوار کو سینکڑوں تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی تھی۔‘


رات 7 بج کر 40 منٹ: ابراہم لنکن پر چار بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

ایران کے پاسدران انقلاب نے امریکی بحری جہاز ابراہم لنکن پر چار بیلسٹک میزائلوں سے حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

یو ایس ایس ابراہم لنکن امریکہ کا طیارہ بردار بحری جہاز ہے جس میں جدید ترین سٹیلتھ جیٹ طیارے بھی موجود ہیں۔ 

اس بحری جہاز کے پاس ٹوماہاک کروز میزائلوں بھی ہیں۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں ایسے کسی حملے کی خبر کو فیک نیوز قرار دیا ہے۔


شام 7 بج کر 30 منٹ: حیفا کی پناہ گاہ پارکنگ

اسرائیل کے شہری حیفا میں ایرانی حملوں کے خوف سے لوگوں نے زیر زمین کار پارکنگ میں پناہ لی ہوئی ہے (اے ایف پی)


شام 6 بج کر 30 منٹ: پاکستانی وزیر اعظم کی تعزیت

وزیر اعظم شبہاز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت پر تعزیت کا پیغام جاری کیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے ایران پر حملے میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا۔


شام 6 بجے: سعودی عرب کی ’سلطنت عمان کے خلاف ایرانی جارحیت‘ کی مذمت

سعودی نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب نے ’سلطنت عمان کے خلاف صریح ایرانی جارحیت‘پر شدید مذمت کی ہے۔

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ ’عمان اور اس کی خودمختاری کی، ایران کی جانب سے صریح خلاف ورزی پر سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور سلطنت عمان کے ساتھ مملکت کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔‘

سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ ’عمان کی جانب سے اختیار کیے جانے والے کسی بھی اقدام کی حمایت میں اپنی تمام تر صلاحیتیں اس کے اختیار میں دینے کے لیے تیار ہے، اور ایران کی جانب سے ریاستوں کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزیوں کے سنگین نتائج سے خبردار کرتا ہے، جو خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘ 

مملکتِ سعودی عرب نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایرانی خلاف ورزیوں کے خلاف واضح، مضبوط اور فیصلہ کن مؤقف اختیار کرے اور مؤثر اقدامات عمل میں لائے۔


شام 5 بج کر 30 منٹ: خلیجی ممالک کے مختلف شہروں، تل ابیب میں دھماکوں کی آوازیں، شہریوں میں تشویش

اتوار کی سہہ پہر خلیجی خطے کے کئی بڑے شہروں میں مزید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جب کہ ایران نے جوابی کارروائیوں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رکھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق دبئی میں موجود صحافیوں نے متعدد دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی، جبکہ ابوظہبی کے رہائشیوں نے بھی زور دار دھماکوں جیسی آوازوں کی اطلاع دی۔

ادھر بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سائرن بجائے گئے اور وہاں اے ایف پی کے نمائندوں نے ایک دھماکے کی آواز سننے کا بتایا۔ اسی طرح قطر کے دارالحکومت دوحہ میں بھی ایک صحافی نے ہلکی نوعیت کے دھماکے کی آواز سننے کی اطلاع دی۔

تاحال ان دھماکوں کی نوعیت، ممکنہ نقصان یا اموات سے متعلق کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

ساحلی اسرائیلی شہر تل ابیب میں فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق تل ابیب کی فضا میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں کو روکنے کے دوران تقریباً ایک درجن دھماکوں کی آوازیں گونجتی سنائی دیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ہفتے کے روز ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں کے آغاز سے اب تک اسرائیل میں ایک شخص جان سے جا چکا ہے۔


دن 4 بج کر 30 منٹ: علی رضا اعرافی نئے عبوری سپریم لیڈر مقرر

اسنا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو علی رضا اعرافی کو ایران کی لیڈرشپ کونسل کا فقہی رکن مقرر کیا گیا ہے، یہ کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس کی ذمہ داری اسمبلی آف ایکسپرٹس کی جانب سے نئے رہبر کے انتخاب تک سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینا ہے۔

گارڈین کونسل کے عالم رکن، اعرافی صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژہ ای کے ہمراہ اس عارضی لیڈرشپ کونسل کا حصہ ہوں گے۔

مجلس تشخیص مصلحت کے ترجمان محسن دہنوی نے ایک پوسٹ میں کہا: ’مجلس نے آیت اللہ علی رضا اعرافی کو عارضی قیادت کونسل کا رکن منتخب کیا ہے۔‘

یہ عارضی کونسل، جس میں صدر اور عدلیہ کے سربراہ بھی شامل ہوں گے، ملک کی قیادت کرے گی جب تک کہ ماہرین کی اسمبلی ’جلد از جلد ایک مستقل رہنما منتخب نہ کر لے۔‘

1959 میں یزد صوبے میں پیدا ہونے والے 67 سالہ علی رضا اعرافی ایران کی مذہبی اور سیاسی قیادت کا طویل عرصے سے حصہ ہیں اور دہائیوں سے ایرانی اداروں میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

وہ لیڈرشپ کونسل آف ایکسپرٹس کے پہلے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ایران کے قومی اسلامی مدارس کے نیٹ ورک کے سربراہ ہیں۔

وہ قم میں المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سابق چیئرمین تھے اور جمعہ کی نماز کے امام کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

ان کی عبوری سپریم لیڈر کے طور پر تقرری ملک کے مذہبی نظام کا تسلسل مانا جا رہا ہے۔ ان کی تقرری اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران نظام اس کے پیچیدہ ادارہ جاتی ڈھانچے سے واقف تجربہ کار اندرونی شخص کو ترجیح دے رہی ہے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو الجزیرہ نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک نیا سپریم لیڈر ’ایک یا دو دن میں‘ منتخب کیا جائے گا۔


شام 5 بج کر 15 منٹ: ایران سے پاکستانیوں کی واپسی شروع

جنگ کے بعد پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ  کے مطابق ایران میں پھنسے ہوئے پانچ طلبہ سمیت 51 افراد گبد–ریمدان سرحد عبور کرکے بحفاظت وطن واپس پہنچ گئے۔

وطن واپس آنے والوں میں بزنس مین، سیاح اور طلبہ شامل ہیں۔ واپس پہنچنے والے افراد کو سرحد پر ایف آئی اے کی جانب سے 24 گھنٹے امیگریشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

ایران سے واپس آنے والے افراد کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بٰگٹی کی ہدایات کے مطابق ضلعی انتظامیہ رہائش، کھانے پینے اور سفری سہولیات فراہم کررہی ہیں۔


دن 4 بج کر 25 منٹ: روس کی تعزیت

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ایرانی صدر سے ایک پیغام میں سپریم لیڈر کی موت پر تعزیت کی ہے۔


دن تین بجے: امریکہ، اسرائیل کو ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو  پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی: علی لاریجانی 

اے ایف پی کے مطابق ایران کے سکیورٹی سربراہ علی لاریجانی نے اتوار کو ملک پر امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کے بعد جن میں ملک کے سپریم لیڈر جان سے گئے، دونوں ممالک کو ایسی طاقت سے نشانہ بنانے کا عہد کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

ایکس پر ایک پوسٹ میں لاریجانی نے کہا، ’کل ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر میزائل داغے تھے، اور ان سے انہیں نقصان بھی پہنچا۔ آج ہم انہیں ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جس کا انہوں نے پہلے کبھی تجربہ نہیں کیا ہوگا۔‘


دن دو بج کر 18 منٹ: انتقام جائز حق اور فرض ہے: ایرانی صدر

روئٹرز کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران انتقام کو اپنا ’جائز حق اور فرض‘ سمجھتا ہے اور اس فرض کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے وزرا اور گورنروں کو حالت جنگ میں ملک کا نظام بلاتعطل چلانا یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔


 دن ایک بجے: جنرل احمد واحدی پاسداران انقلاب کے نئے کمانڈر مقرر

روئٹرز نے ہمشہری اخبار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ احمد وحدی کو ایران کے پاسداران انقلاب کا نیا کمانڈر انچیف مقرر کر دیا گیا ہے۔


دن 12 بجے: ایرانی فوج کے چیف آف سٹاف اور وزیر دفاع کی حملے میں موت: سرکاری ٹی وی

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی ٹی وی نے اتوار کو بتایا کہ ایران پر حملوں میں ملک کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف عبدالرحیم موسوی اور وزیر دفاع جنرل عزیز ناصرزادہ جان سے چلے گئے ہیں۔


صبح 11 بج کر 15 منٹ: ایران نے ’تمام منظرناموں‘ کے لیے تیاری کر لی: ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد، ایران نے آئندہ کے لائحہ عمل سمیت ’تمام منظرناموں‘ کے لیے تیاری کر لی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق انہوں نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ ’ہم نے خود کو ان لمحات کے لیے تیار کر لیا ہے اور تمام منظرناموں پر غور کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے ’ہماری سرخ لکیریں پار کی ہیں اور وہ نتائج بھگتیں گے۔‘


صبح 11 بجے: ایران کے لیے بہتر ہے کہ وہ حملہ نہ کریں: ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کارروائی کی تو امریکہ ایران پر ’ایسی طاقت سے حملہ کرے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘

ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر لکھا: ’ایران نے ابھی کہا ہے کہ وہ آج بہت سخت حملہ کرنے والا ہے، اس سے بھی سخت جتنا اس نے پہلے کبھی کیا ہو۔

’ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایسا نہ کریں، کیوں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا، تو ہم انہیں ایسی طاقت سے نشانہ بنائیں گے جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔‘


صبح 10 بج کر 35 منٹ: ایران کے سپریم لیڈر کی موت، کراچی میں مظاہرین کا امریکی قونصلیٹ پر دھاوا اور توڑ پھوڑ

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد کراچی میں مظاہرین نے احتجاج کرتے ہوئے امریکی قونصلیٹ میں توڑ پھوڑ کی۔

اس دوران مظاہرین کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

قریب ہی واقع سلطان آباد میں ایک ٹریفک چوکی کو بھی آگ لگا دی گئی۔

 ٹریفک پولیس کی جانب سے نمائش چورنگی جانے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں اور ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔


صبح 10 بج کر 20 منٹ: عراق میں مظاہرین کی امریکی سفارت خانے کی طرف دھاوا بولنے کی کوشش

اے ایف پی کو ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی موت کے بعد، اتوار کی صبح سینکڑوں عراقی شہریوں نے بغداد کے انتہائی محفوظ گرین زون پر دھاوا بولنے کی کوشش کی، جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔

ذریعے نے بتایا کہ ’ان کی کوششوں کو اب تک ناکام بنا دیا گیا ہے، لیکن وہ مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں مظاہرین کو سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جنہوں نے جواب میں آنسو گیس کا استعمال کیا۔


صبح 9 بج کر 50 منٹ: سپریم لیڈر کی موت پر تہران میں شہری سوگوار

اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد اتوار کو ایران کے دارالحکومت کے انقلاب سکوائر میں ہزاروں سوگوار جمع ہوئے۔

زیادہ تر لوگوں نے سیاہ رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور وہ آیت اللہ خامنہ ای کی تصاویر اٹھائے ’مرگ بر امریکہ‘ اور ’مرگ بر اسرائیل‘ کے نعرے لگاتے نظر آئے۔


صبح 9 بج کر 30 منٹ: دبئی میں اتوار کو بھی دھماکے سنے گئے: عینی شاہدین

روئٹرز کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے پڑوسی خلیجی ریاستوں پر جوابی حملے کیے جانے کے بعد، اتوار کو دبئی کے علاقے میں مسلسل دوسرے دن کئی زوردار دھماکے سنے گئے۔

ایران نے کہا ہے کہ وہ خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا اور اس نے متعدد دیگر اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔


صبح 9 بج کر 25 منٹ: عراق: کردستان میں زور دار دھماکوں کی آواز

 اے ایف پی کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ عراق کے خود مختار خطے کردستان میں اربیل ایئرپورٹ کے قریب، جہاں امریکی قیادت میں اتحادی افواج تعینات ہیں، اتوار کی صبح زوردار دھماکے سنے گئے۔

رپورٹر نے ایئرپورٹ کے علاقے سے گہرا کالا دھواں اٹھتے دیکھنے کی اطلاع دی۔

امریکی قیادت میں اتحادی افواج نے ہفتے کو اربیل میں کئی میزائل اور دھماکہ خیز مواد سے لدے ڈرون مار گرائے تھے۔


صبح 9 بجے: ایران پر حملوں کی ایک اور لہر شروع کر دی: اسرائیل

روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے کہا کہ اس نے اتوار کو ایران پر حملوں کی ایک اور لہر شروع کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اتوار کی صبح اس کے حملوں میں ایران کے بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بھی رپورٹ کیا کہ اتوار کی صبح تہران میں ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔


صبح 8 بج کر 30 منٹ:  ایرانی صدر اور دو حکام عبوری دور میں ملک کی قیادت کریں گے: ایرانی میڈیا

اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم لیڈر خامنہ ای کی موت کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دو حکام عبوری دور میں ملک کی قیادت کریں گے۔

خامنہ ای کے ایک مشیر محمد مخبر کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن نے بتایا کہ عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای اور ملک کی قانونی کونسل کے ایک اور عہدیدار عبوری کی نگرانی کرنے والے ان تین افراد میں شامل ہوں گے۔


صبح 8 بجے:  آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر بھی حملوں میں جان سے گئے

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو بتایا کہ ملک پر امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ سکیورٹی مشیر علی شمخانی جان سے چلے گئے ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق علی شمخانی طویل عرصے سے ایران کے سکیورٹی نظام میں ایک نمایاں شخصیت رہے ہیں۔

ارنا نے میجر جنرل محمد پاکپور کی موت کا بھی اعلان کیا، جنہوں نے گذشتہ جون کی 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں سابق کمانڈر کی موت کے بعد پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر کا عہدہ سنبھالا تھا۔


صبح 7 بج کر 25 منٹ: پاسدارن انقلاب کا اسرائیلی اور امریکی اڈوں پر ’شدید ترین‘ جارحانہ کارروائی شروع کرنے کا اعلان

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکی اڈوں پر ’شدید ترین‘ جارحانہ کارروائی چند ہی لمحوں میں شروع ہونے والی ہے۔


صبح 7 بجے: ایران کی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کی تصدیق، 40 روزہ سوگ کا اعلان

ایرانی سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے بڑے حملے کے نتیجے میں جان سے چلے گئے ہیں۔

اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے پہلے ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے ایرانیوں کو اپنا ملک ’واپس لینے‘ کا ’سب سے بڑا موقع‘ فراہم کیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی بیٹی اور داماد بھی جان سے گئے۔

فارس نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہفتے کو ہونے والے حملوں میں خامنہ ای کا پوتا یا نواسہ اور بہو بھی جان سے گئے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


 صبح 6 بج کر 45 منٹ: دشمن کی مکمل شکست تک آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رہے گا: ایران

ایران کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ دشمن کی مکمل شکست تک آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رہے گا۔ 

ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ماضی کی طرح آپریشن وعدہ صادق 4 جاری رکھنے کے لیے مسلح افواج کو سبھی اسلحہ جاتی اور ضروری وسائل کی مکمل سہولتیں فراہم کی جائيں گی اور دشمنوں کی مکمل شکست تک آپریشن جاری رہے گا۔

وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ جرم اور جارحیت سے امریکہ کی ناکامی اور غاصب صیہونی حکومت کے تزلزل اور کیفر کردار پہنچنے کے عمل میں تیزی آئے گی۔

بیان میں کہا گیا کہ جیسا کہ سپریم کمانڈر آیت اللہ العظمی امام سید علی  خامنہ ای نے تاکید فرمائی ہے، ایران کی مسلح افواج اس بار ملت ایران کی مکمل حمایت سے دشمنوں کو زیادہ محکم اور زیادہ  پشیمان کردینے  والی جوابی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

 


صبح 6 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کا نیا حملہ

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے اتوار کو ایرانی بیلسٹک میزائل اور فضائی دفاعی مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے نیا حملہ شروع کیا ہے جبکہ تہران میں ایک اے ایف پی صحافی نے زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے ایف پی کے مطابق ایک فوجی بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے ’ایرانی نظام کے بیلسٹک میزائل کے نظام اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے ایک اضافی حملہ شروع کیا ہے‘، تاہم اس نے کسی مقام کی وضاحت نہیں کی۔

اے ایف پی کے صحافی کے مطابق تہران میں تقریباً 00:30 جی ایم ٹی کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

اسرائیل کے فوجی سربراہ ایال زامیر نے ہفتے کو کہا کہ ایران کے خلاف یہ مہم اس وقت شروع ہوئی جب اس نے اپنی بیلسٹک میزائل کی پیداوار ’تیز‘ کردی اور ایٹمی ہتھیاروں کی تحقیق کو جاری رکھا۔

انہوں نے ایک ٹیلی ویژن بیان میں کہا: ’ہم اب ایرانی دہشت گرد نظام کی صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم، فیصلہ کن اور بے مثال کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔‘


صبح 6 بج کر 15 منٹ: خامنہ ای کی موت پر ٹرمپ کے پیغام کا مکمل متن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب اعلان کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مار دیا گیا ہے، تاہم ایران نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

یہ پیغام انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تاریخ کے سب سے برے لوگوں میں سے ایک خامنہ ای مر چکے ہیں۔ یہ نہ صرف ایرانی عوام کے لیے بلکہ تمام امریکیوں اور پوری دنیا کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے جو خامنہ ای اور اس کے خونخوار غنڈوں کے ہاتھوں مارے گئے یا معذور ہوئے ہیں۔‘

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا: ’وہ ہماری انٹیلی جنس اور انتہائی جدید ترین نگرانی کے نظام سے بچ نہیں سکے۔ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ ان کے پاسداران انقلاب، اسلامی انقلابی گارڈز، فوج، دیگر سکیورٹی فورسز اور بہت سے لوگ اب لڑنا نہیں چاہتے ہیں، اور ہم سے تحفظ کے لیے کہہ رہے ہیں جیسا کہ میں نے گذشتہ رات کہا تھا، اب ان کو استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے۔ اس ملک کو صرف ایک دن میں بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور تقریباً تباہ ہو چکا ہے، بغیر کسی وقفے کے، اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ہمارا مقصد مشرق وسطیٰ اور حقیقتاً پوری دنیا میں حاصل نہیں ہو جاتا۔‘

ادھر سیٹلائٹ تصاویر میں تہران میں ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد پہنچنے والا نقصان دکھایا گیا ہے۔ حملے کے بعد عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای حملوں میں مارے گئے ہیں۔

اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ اور خیریت سے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’اسرائیلی میڈیا میں آنے والی ان خبروں کی تصدیق کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘ کہ ایرانی رہنما کو قتل کر دیا گیا ہے۔

اے بی سی کی سیاسی نامہ نگار ریچل سکاٹ کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں ابھی بتایا ہے کہ وہ ’یقین رکھتے ہیں‘ کہ ایران کے مذہبی رہنما مر چکے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ’یقینی طور پر‘ جانتے ہیں، تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’میں اس وقت تک حتمی طور پر کچھ نہیں کہنا چاہتا جب تک میں کچھ نہ دیکھوں، لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ چلے گئے ہیں اور ان کے زیادہ تر لیڈروں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نہ صرف ایک جگہ پر بلکہ دو اور جگہوں پر، جن پر ہم نے حملہ کیا۔ ہمارے پاس اچھی انٹیلی جنس تھی اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ تر قیادت کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا