ایچ ای سی کا سربراہ ہمیشہ مرد ہی کیوں؟

اعلیٰ عہدوں پر خواتین کے ہونے سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہو گا بلکہ تعلیمی دنیا میں دوسری خواتین کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو 11 ستمبر، 2002 میں ایچ ای سی کی موجودہ شکل دی تھی (ایچ ای سی ویب سائٹ)

ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) ایک آزاد، خودمختار اور آئینی طور پر قائم شدہ ادارہ ہے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی کوششوں کی بنیادی مالی اعانت، نگرانی، ضابطہ کاری اور اعتماد سازی کرنا ہے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حکومت نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو 11 ستمبر، 2002 میں ایچ ای سی کی موجودہ شکل دی تھی۔

اس وقت کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمٰن جنرل مشرف کے قریبی معاونین میں شمار کیے جاتے تھے۔

انہیں ایچ ای سی کا پہلا چیئرمین بنایا گیا۔ تب سے اب تک ایچ ای سی کی سربراہی مردوں کے پاس رہی ہے۔

حیران کن طور پر اس عہدے کے لیے صرف 2014 میں ایک خاتون پروفیسر کا نام شارٹ لسٹ ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اس عہدے کے لیے ہمیشہ مردوں کے نام ہی وزیر اعظم کو منظوری کے لیے بھیجے گئے۔

2008 میں ڈاکٹر عطا کی چار سالہ مدت ملازمت ختم ہوئی تو انہیں مزید چار سالوں کے لیے اس عہدے پر رہنے کا کہا گیا، تاہم انہوں نے دو سال بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی لیکن روزنامہ ڈان کی ایک خبر کے مطابق انہیں اس عہدے سے ہٹنے کا کہا گیا تھا۔

اگست 2009 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سینیٹ میں شامل ڈاکٹر جاوید لغاری کو ایچ ای سی کا چیئرمین تعینات کر دیا۔

وہ پیپلز پارٹی کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ ان کی چار سالہ مدت ختم ہوئی تو وزارت تعلیم اور اعلیٰ تعلیم میں معیارات نے دفتر سیکریٹری وزیر اعظم میں ڈاکٹر لغاری کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری بھیجی جو منظور نہ ہو سکی۔

اس کے بعد نئے چیئرمین کی تعیناتی تک انہیں قائم مقام چیئرمین بنانے کی سفارش کی گئی لیکن اسے بھی منظور نہیں کیا گیا۔ پھر ایچ ای سی کے گورننگ کمیشن میں شامل سید امتیاز حسین گیلانی کو ایچ ای سی کا قائم مقام چیئرمین بنا دیا گیا۔

2014 میں ان کی مدت ملازمت ختم ہونے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو ایچ ای سی چیئرمین کی تعیناتی کرنے کا حکم دیا۔

اس وقت کے وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے زیر نگرانی تین رکنی کمیٹی نے کئی انٹرویوز کے بعد تین نام وزیراعظم کو بھیجے۔

ان میں ایک نام قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کی سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر نجمہ نجم کا بھی تھا۔

عوامی طور پر دستیاب معلومات کے مطابق یہ پہلی دفعہ تھا کہ ایک خاتون کا نام ایچ ای سی چیئرمین کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا۔

تاہم اس وقت وزیراعظم نے ان تینوں ناموں کو رد کر دیا۔ اگرچہ بعد میں انہی میں سے ڈاکٹر مختار احمد کو ایچ ای سی چیئرمین بنا دیا گیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس تعیناتی کے خلاف اپیل بھی دائر کی گئی تھی۔

2018 میں جب ڈاکٹر مختار احمد کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو چار نام شارٹ لسٹ کیے گئے جو چاروں مرد تھے۔ ان میں سے ڈاکٹر طارق بنوری کو چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔

2022 میں ڈاکٹر مختار احمد کو تین مردوں سے مقابلے کے بعد دوسری دفعہ ایچ ای سی کا چیئر مین بنا دیا گیا۔

لیکن اس وقت تک ایچ ای سی چیئرمین کے عہدے کی مدت ملازمت چار سال سے کم کر کے دو سال کر دی گئی تھی۔

ڈان کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے یہ تبدیلی ڈاکٹر طارق بنوری کو عہدے سے ہٹانے کے لیے کی تھی۔

ڈاکٹر مختار احمد کو 2024 میں مدت ملازمت پوری ہونے پر ایک سال کی توسیع دی گئی، جس کے بعد اس سال ڈاکٹر نیاز احمد اختر کو ایچ ای سی چیئرمین تعینات کیا گیا۔

2014 میں شارٹ لسٹ ہونے والے تین ناموں میں تیسرا نام انہی کا تھا۔ اس دفعہ ان کے ساتھ شارٹ لسٹ ہونے والے تینوں نام مردوں کے تھے۔

چیئرمین ایچ ای سی کی سربراہی کسی بھی ماہرِ تعلیم کے لیے اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ اس عہدے کے ساتھ بھاری تنخواہ اور مراعات کے علاوہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی نظام کو تبدیل یا بہتر کرنے کی مکمل طاقت ملتی ہے۔

ایچ ای سی چیئر مین کے پاس ملک کی تمام جامعات کے فنڈز، پالیسی سازی، ڈگریوں کی تصدیق اور بین الاقوامی تعلیمی روابط کو کنٹرول کرنے کا وسیع اختیار ہوتا ہے۔

اس عہدے کی تعیناتی میں سیاسی اثر و رسوخ نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کو شدید نقصان پہنچایا۔

قیادت کے عدم استحکام اور طویل عرصے تک عہدہ خالی رہنے کی وجہ سے یونیورسٹیوں کی خودمختاری متاثر ہوئی، بہت سی جامعات کے پاس بجٹ اور فنڈز کی شدید قلت پیدا ہوئی اور بین الاقوامی سطح پر ہماری جامعات اور ان کی ڈگریوں کی وقعت بھی کم ہوئی۔ 

تاہم اس عہدے پر کبھی کسی خاتون کی تعیناتی نہ ہونے اور صرف ایک بار کسی خاتون کا نام شارٹ لسٹ ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں خواتین کے لیے ’گلاس سیلنگ‘ کتنی مضبوط اور ناقابل عبور ہے۔

پاکستانی جامعات میں صرف 10 سے 15 فیصد وائس چانسلر خواتین ہیں اور وہ بھی زیادہ تر صرف خواتین کے لیے مخصوص جامعات کی سربراہ ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی تناسب جامعات میں شعبہ جات اور سکولوں کے سربراہان میں ہے۔ 

پاکستانی جامعات میں اکثر مواقع مرد آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔

خواتین ان کے حلقے میں شامل نہیں ہو پاتیں۔

اس لیے یا تو وہ اپنے کیریئر میں زیادہ آگے نہیں بڑھ پاتیں یا پھر کسی مرد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ محنت کرنے کے بعد کسی مقام تک پہنچتی ہیں۔

اس کے باوجود انہیں وہ قدر و منزلت نہیں ملتی جو ان کے برابر یا ان سے کم تجربے کے حامل مرد کو بآسانی مل جاتی ہے۔

اعلیٰ عہدوں پر خواتین کے ہونے سے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہو گا بلکہ تعلیمی دنیا میں لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہو گی۔

اعلیٰ عہدے پر خاتون کے آنے سے وہ ہمارے اعلیٰ تعلیمی نظام میں خواتین طالبات اور فیکلٹی کے ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گی جنہیں مرد پروفیسر مسئلہ ہی نہیں سمجھتے۔

اپنے خاتون ہونے کی وجہ سے وہ مسائل کو ایک صنفی نظر سے بھی دیکھیں گی اور ان کے بہتر حل پیش کر سکیں گی۔

ہماری جامعات شدید پدرشاہی کا شکار ہیں۔ ایچ ای سی کی سربراہی کسی عورت کے پاس آئے گی تو وہ اس پدرشاہی کی دیوار میں ہلکا سا شگاف ڈالنے میں کامیاب ہو سکے گی اور ان جامعات کو دیگر خواتین کے لیے بہتر بنا سکے گی جہاں ان کی محنت کو بھی اسی طرح دیکھا جائے گا جس طرح ایک مرد کی محنت کو دیکھا جاتا ہے۔

تاہم ہم ایسا صرف کہہ سکتے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں اختیار ہے ان کا تبدیلی لانے کا ارادہ نہیں۔ تبھی 24 سالوں سے اس عہدے کو ’چیئر‘ یا ’چیئرپرسن‘ کہنے کی بجائے ’چیئرمین‘ ہی کہا جا رہا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس