جب کوئی بول رہا ہو تو اسے سنو، عدالت نہ لگاؤ، صرف سنو۔ سنو اور سوچو، جو سن کے برا لگ رہا ہے وہ جب کسی پہ گزرا ہو گا تو اسے کتنا برا لگا ہو گا اور وہ زخم کتنا ہرا ہو گا کہ برسوں بعد بھی اس میں ٹیس اُٹھتی ہے۔
کیا خواتین کا تمام مردوں کی ایک ہی کھاتے میں درجہ بندی کرنا درست ہے؟ یا مردوں کو خواتین کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور مظالم کو دیکھتے ہوئے اس جملے کے پیچھے چھپا ہوا ان کا مطلب اور احساس سمجھنے کی ضرورت ہے؟