کراچی: لیاری کی ’ڈرائیور باجی‘ جنہیں رکشے والے ’استاد‘ کہتے ہیں

لیاری کی ماہ نور بلوچ 11 سال سے ڈرائیونگ کر رہی ہیں جنہیں محلے والے عزت سے ’ڈرائیور باجی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

ماہ نور بلوچ کا تعلق کراچی کے علاقے لیاری سے ہے اور وہ 11 سال سے ڈرائیونگ کے پیشے سے وابستہ ہیں جس کی وجہ سے محلے میں انہیں ’ڈرائیور باجی‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

ماہ نور بلوچ کی عمر 36 سال ہے اور انہوں نے ایک ایسے پیشے میں نام کمایا ہے جو روایتی طور پر مردوں سے منسوب ہے۔

ماہ نور بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میری گلی کے لوگ خاص طور پر میری بہت حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس پورے محلے میں میری بہت عزت ہے۔ میرا نام رکھ دیا ہے ڈرائیور باجی۔‘

اپنے بارے میں انہوں نے بتایا: ’میں لیاری میں پیدا ہوئی۔ یہیں پلی بڑھی ہوں۔ لیاری میرا علاقہ ہے۔ میرا شہر ہے۔ یعنی کہ سب کچھ ہے۔ لیاری کی پہلی خاتون ڈرائیور میں ہوں۔ میں لیاری میں 11 سال سے گاڑی چلا رہی ہوں۔ میں نے ڈرائیونگ کا آغاز بچوں کے پک اینڈ ڈراپ سروس سے کیا۔ اب میں ایک مقام تک پہنچ گئی ہوں۔‘

ماہ نور کی پہلی گاڑی ایف ایکس تھی جو انہوں نے کمیٹی ڈال کر لی تھی۔

ماہ نور نے بتایا کہ جب انہوں نے گاڑی چلانی سیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو لوگوں نے انہیں کہا کہ جب تک آپ کے اپنے پاس گاڑی نہ ہو تو اسے چلانے کی تربیت لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے بتایا: ’میرے بیٹے کی ایک خواہش تھی کہ ہم سکول اپنی گاڑی میں آئیں جائیں۔ میں نے اپنے بیٹے کی خواہش کو اپنا لیا اور آج یہاں پر ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ماہ نور بتاتی ہیں کہ گاڑی چلاتے انہوں نے کراچی کا کونہ کونہ دیکھ لیا یے جبکہ وہ خضدار، کنڈ ملیر اور لاڑکانہ تک بھی گئی ہیں۔ 

ماہ نور کا کہنا ہے کہ انہیں اس پیشے میں مردوں کی جانب سے بہت مشکلات کا سامنا بھی ہوا۔

وہ بتاتی ہیں: ’مردوں نے بہت زیادہ تنگ کیا۔ طنز کیا۔ پیچھے گالیاں دیں۔ آگے سے آ کر کٹ مار دیا۔ ہارن بجا دیا۔ برا بھلا بول دیا۔ آگے پیچھے گاڑی کرتے ہی نہیں ہیں۔ پارکنگ نہیں کرنے دی۔ یہ سب ہوا ہے۔ ‘

لیکن ایسا نہیں کہ ماہ نور کو ملنے والے تمام مرد حضرات ہی برے رویے سے پیش آئے۔

انہوں نے بتایا: ’جہاں لوگ طنز کرتے تھے وہاں کچھ ایسے مرد بھی تھے جو حوصلہ افزائی کرتے تھے۔ میں نے دو تین رکشے والے ایسے نوٹ کیے ہیں جن کو میں جانتی نہیں ہوں۔ میرا روٹ تھا میں وہاں سے روزانہ گزرتی تھی۔ مجھے صرف آواز دیتے تھے استاد۔ میں جب دیکھتی تو اپنا انگوٹھا اوپر کر دیتے تھے۔

’یعنی کہ ان کو خوشی ہوتی تھی اور بہت سے مردوں کو میں کھٹکتی تھی اور شاید اب بھی کھٹکتی ہوں۔ کیونکہ اب بھی میں گاڑی لے کر نکلتی ہوں تو بہت سے مرد مجھے غصے سے دیکھتے ہیں۔‘

ماہ نور نے بتایا: ’عورتوں کے لیے میرا ایک ہی پیغام ہے کہ ہمیشہ خود کی عزت کریں۔ جب آپ خود کی قدر کریں گی خود سے محبت کریں گی تو سامنے والا بھی آپ سے محبت کرے گا۔ آپ کی عزت کرے گا۔ وہ عورت کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتی جو خود کو بےبس کر لے کہ بس یہ تو میرا نصیب ہے۔ بس ختم۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر