پنجاب کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی، فیصلے پر نئی بحث

محکمہ تعلیم پنجاب کے اساتذہ کے لیے گاؤن لازمی قرار دینے کے فیصلے پر عمل درآمد شروع ہوگیا، تاہم اساتذہ تنظیموں نے اضافی اخراجات اور کم وقت پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

محکمہ تعلیم پنجاب نے تمام سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ آج 23 فروری سے ڈیوٹی کے اوقات میں ڈریس کوڈ کے ساتھ سیاہ رنگ کا گاؤن لازمی پہنیں، جس پر بیشتر سکولوں میں عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔

ای پی ایس ہائی سکول ماڈل ٹاؤن کی انتظامیہ کا دعوی ہے کہ انہوں نے اساتذہ کے لیے 2010 سے ہی گاؤن لازمی قرار دیا ہوا ہے، جسے دیکھ کر حکومت نے پورے پنجاب میں گاؤن پہننا لازمی قرار دیا۔

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح پنجاب میں بھی سرکاری کالجوں اور جامعات میں پہلے ہی اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی ہوتا ہے، لیکن سکولوں کے اساتذہ گاؤن نہیں پہنتے تھے۔

حکومت پنجاب نے اساتذہ کے لیے یونیفارم ڈریس لازمی قرار نہیں دیا، البتہ مرد اور خواتین اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صاف ستھرے کپڑے اور بند جوتے پہنیں اور کپڑوں کے اوپر گاؤن استعمال کریں تاکہ سکولوں میں معیار تعلیم میں بہتری کے ساتھ پڑھائی کا ماحول بھی بہتر نظر آئے۔

گورنمنٹ اے پی ایس بوائز ہائی سکول ماڈل ٹاؤن لاہور کے سینئر سٹاف ٹیچر مظہر وٹو نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’ہمارے سکول میں 2010 سے ہی اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی ہے۔

یہاں اساتذہ گزشتہ 15 سال سے سیاہ گاؤن پہن کر کلاسوں میں پڑھا رہے ہیں، تاہم سینیئر اساتذہ کے لیے سبز رنگ کا گاؤن ہوتا ہے۔ موسم سرد ہو یا گرم، سکول انتظامیہ نے اسے لازمی قرار دیا ہوا ہے۔ گرمی کے موسم میں گاؤن پہننا تھوڑا مشکل ضرور ہوتا ہے، مگر مجموعی طور پر کوئی بڑی دقت نہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم اپنی تقریبات میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو مدعو کرتے ہیں اور ان تقریبات کی تصاویر فیس بک پر بھی اپ لوڈ کرتے ہیں۔ شاید انہیں دیکھ کر ہی حکومت نے صوبے بھر میں اساتذہ کے لیے گاؤن پہننا لازمی قرار دیا ہے۔‘

دوسری جانب ٹیچرز یونین کے سیکرٹری جنرل رانا لیاقت نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اساتذہ کو گاؤن پہنانے کے بجائے معیار تعلیم اور اساتذہ کے مسائل حل کرنے پر توجہ دی جائے۔‘

ان کے بقول: ’اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اساتذہ کو فنڈز اور ٹیچنگ الاؤنس دیا جائے، کیونکہ فوری طور پر گاؤن کی خریداری ممکن نہیں۔ اس کے لیے وقت اور رقم درکار ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’ایک اچھا اور معیاری گاؤن مارکیٹ میں دو سے تین ہزار روپے میں دستیاب ہے۔ موسم گرما اور سرما کے لحاظ سے ہر استاد کے لیے کم از کم چار گاؤن ضروری ہیں۔ تین لاکھ سرکاری اساتذہ کے لیے فوری خریداری ممکن نہیں اور نہ ہی اتنی بڑی تعداد میں مارکیٹ میں دستیابی ممکن ہے۔‘

سرکاری سکول ٹیچر ظفر اقبال نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’اساتذہ کو گاؤن پہنانے کا فیصلہ بہتر ہے۔ ہم نے آج سے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اس سے اساتذہ کی شخصیت میں بہتری آئے گی۔‘

ان کے بقول: ’جب ہم طلبہ کو یونیفارم پہننے کا کہتے ہیں تو جب وہ ہمیں گاؤن میں دیکھیں گے تو وہ بھی اپنی یونیفارم پر فخر کریں گے۔ اس سے پڑھانے میں بھی توجہ بڑھے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گورنمنٹ گرلز سکول گجومتہ کی پرنسپل شاہدہ پروین نے کہا کہ ’ہمارے سٹاف نے محکمہ تعلیم کے حکم پر گاؤن پہننا شروع کر دیا ہے۔ سیاہ رنگ کے گاؤن پہننے کا سلسلہ تو شروع ہو چکا ہے، لیکن اس پر مکمل عمل درآمد کے لیے وقت بہت کم دیا گیا ہے۔‘

گاؤن کا پس منظر کیا ہے؟

برٹش سوسائٹی آف اکیڈمکس کے ریکارڈ کے مطابق اساتذہ کے گاؤن پہننے کا تاریخی پس منظر بنیادی طور پر یورپی یونیورسٹیوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ روایت آج بھی گریجویشن اور اکیڈمک تقاریب میں استعمال ہوتی ہے۔ 12ویں اور 13ویں صدی میں جب یورپ میں ابتدائی یونیورسٹیاں وجود میں آئیں، جیسے بولونیا، پیرس، آکسفورڈ اور کیمبرج، تو بیشتر اساتذہ اور طلبہ مشنری اداروں کا پس منظر رکھتے تھے۔ وہ چرچ کے عہدیداروں کی طرح لباس پہنتے تھے کیونکہ تعلیم زیادہ تر مذہبی اور لاطینی زبان میں ہوتی تھی۔

گاؤن دراصل ایک لمبا، ڈھیلا لباس تھا جو ٹھنڈی اور بغیر حرارتی عمارتوں میں گرمی فراہم کرنے کے لیے بھی پہنا جاتا تھا۔ یہ لباس سادگی اور مساوات کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ 14ویں صدی میں انگلینڈ کی بعض جامعات نے اسے لازمی قرار دیا اور یوں یہ اکیڈمک لباس کی مستقل روایت بن گیا۔

سوسائٹی اکیڈمک کے مطابق مسلم جامعات جیسے الازہر، قرطبہ اور فاس میں بھی علما لمبے اور ڈھیلے لباس پہنتے تھے۔

یورپی طلبہ وہاں سے تعلیم حاصل کر کے واپس جاتے تو اسی طرز کا لباس اختیار کرتے تاکہ ظاہر ہو سکے کہ وہ مسلم جامعات سے فارغ التحصیل ہیں۔ پاکستان اور برصغیر میں بھی یہ روایت انگریزی تعلیمی نظام کے ذریعے آئی اور آج گریجویشن اور تعلیمی تقاریب میں استعمال ہوتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر