خواہشات، انسان کی زندگی میں مہمیز کا کام دیتی ہیں۔ روزمرہ کی خشت کوبی سے گھبرا کے انسان جب کسی ضرورت کی بجائے خواہش کے لیے کام کرتا ہے تو وہ ایک عامی سے ’ہیرو‘ بن جاتا ہے۔
یہ وہ سبق تھا جو ہم خود بھی پڑھتے رہے اور جب ہمیں موقع ملا تو ہم نے اپنے بچوں کو بھی پڑھایا اور اتنا پڑھایا کہ ہم سے پڑھنے کے بعد انہوں نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کی کہ اب باقی زندگی صرف ضروریات کے لیے ہی محنت کرنی ہے، نیز خواہشات کے راستے میں آنے والے کوہ گراں کاٹ کے فرہاد بننے سے بھی باضابطہ دست برداری کا اعلان کیا۔
یعنی ہمارے شاگردوں میں سے کسی نے کبھی کوئی احمقانہ خواہش (خواہشات ہوتی ہی حماقت ہیں) نہیں کی اور آج تک سیدھی سیدھی نوکریاں کر رہے ہیں۔ مگر ہم خود خواہشوں کے اس سحر سے نہ بچ سکے اور دل ہی دل میں ایک خواہش پال بیٹھے۔
یہ بھی قاعدہ ہے کہ ہر شخص کو اپنی خواہش معصومانہ ہی لگتی ہے۔ ہماری خواہش بھی معصومانہ ہے اور وہ یہ کہ کسی بقرعید پہ ہمیں کوئی بکرے کی ران بھیجے۔
جانے وہ کون لوگ ہوتے ہوں گے جو کوئی خواہش کرتے ہیں اور ان کی خواہش پوری ہو جاتی ہے، ہمیں تو یہ خواہش کرتے کرتے آدھی صدی گزر گئی ران تو چھوڑیے ہمیں کسی نے کبھی گوشت کی ایک بوٹی بھی نہیں بھیجی۔ نہ کسی دوست نے اور نہ کسی رشتے دار نے۔
کئی لوگوں کے سامنے ذکر کیا کہ ہم سری پائے اور اوجھڑی بھی اگر کوئی محبت سے بھیجے تو بڑی عقیدت سے کھاتے ہیں لیکن کسی نے گوش توجہ سے نہ نوازا۔
الٹا اگر کسی سے زیادہ ذکر کیا تو اس نے کہا کہ بکرے کے پائے تو سارا سال کھائے جا سکتے ہیں، آپ یوں کیجیے کہ ہمیں گوشت کے ساتھ ایک پایہ بھی بھیج دیجیے گا، اگر ہم نے پکایا تو آپ کو بھی ایک پیالہ بھیج دیں گے۔
اس قسم کے واقعات جب تسلسل سے ہوئے تو ہم نے اپنی یہ ننھی سی خواہش دل میں دبا لی اور سوچا کہ غور کریں، بکرے کی ران کن لوگوں کو بھیجی جاتی ہے تاکہ ہم بھی خود میں وہ خصوصیات پیدا کر لیں۔
پہلی بات جو سمجھ آئی وہ یہ تھی کہ ران بیٹی کے سسرال بھیجی جاتی ہے۔ یہ خصوصیت خود میں پیدا کرنے کے لیے بڑا وقت درکار تھا۔ دوسری خاصیت تھی امارت، خیر سے ادیب ہو کے دوسری خصوصیت کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ہاسا نکل جاتا ہے۔
تیسری خصوصیت تھی بڑا افسر، ادیب افسر بھی ہوسکتے ہیں مگر وہ ادیب ہوتے ہیں یا نہیں اس بارے میں قدما سے لے کے آج تک شدید اختلاف پایا جاتا ہے اس لیے یہ امکان بھی رد ہوا۔
ادھر ادھر بہت جھانکا کہ پتہ لگا سکیں کوئی تدبیر، کوئی شارٹ کٹ، کوئی جگاڑ، کچھ ایسا کریں کہ ایک موٹی تازی، نہ زیادہ بڑی، تین سوا تین کلو کی، ہلکی سی چربی کی تہہ چڑھی، پھبی ہوئی، گلابی ران، ایلومینیم فوائل میں لپٹی ہمارے گھر بھی آ سکے۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ! پاکستانی معاشرے میں قربانی کی ران کے حق دار بننے کے لیے جو مقام چاہیے ہوتا ہے ہم اس تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔
تو اب یہ تھا کہ عید کے دن اپنی اس ننھی سی خواہش کو دل میں دبائے بیٹھے رہتے تھے، خاص کر جب سے ہم نے سبزی خور ہونے کا اعلان کیا تھا تب سے تو کوئی ہمیں عام دعوت پہ بھی نہیں بلاتا تھا۔ بلاوجہ ہمارے لیے دال ساگ پکانا پڑتا ہے۔ ایسے میں ران کی خواہش؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مگر بات وہی ہے کہ یہ خواہشات ہی ہیں جو عام انسان کو، ہیرو بناتی ہیں اس جیسے دیگر انسانوں سے بلند کرتی ہیں، یہ خواہشات ہی ہیں جو دنیا کے بڑے بڑے انقلابوں کی وجہ بنی، وغیرہ وغیرہ۔
تو صاحبان! اس خواہش کا تعلق نہ گوشت خوری سے ہے نہ کسی طرح کا لالچ ہی کارفرما ہے، یہ خواہش ہے اور اس کی کوئی تاویل نہیں۔ اِس عشق نہ اُس عشق پہ نادم ہے مگر دل کے مصداق، اس خواہش کے ساتھ جیے چلے جا رہے تھے کہ عید کے دوسرے دن دروازے کی گھنٹی بجی، سامنے میری بھانجی، ایلومینیم فوائل میں لپٹی، گلابی، ہلکی سی چربی کی تہہ چڑھی، پھبی ہوئی بکرے کی ران لیے کھڑی تھی۔
میں سمجھی کسی نے بھیجی ہوگی اور میرے خالی فریزر میں امانتاً رکھنے کے لیے لائی گئی ہے مگر یوں نہ تھا، یہ ران میرے لیے لائی گئی تھی، میں جو نہ کسی کی سمدھن تھی، نہ سرکاری افسر نہ ہی کوئی دولت مند انسان پھر بھی یہ ران میرے لیے لائی گئی تھی کیوں؟
’خالہ میں نے اس سال جاب کی اور یہ پورا بکرا صرف اور صرف میں نے کیا ہے، اس میں ماما بابا کا کوئی حصہ نہیں اور یہ ران آپ کے لیے ہے سارے رشتے داروں کا حصہ کیونکہ ایک بھانجی کے لیے جو خالہ کا مقام ہوتا ہے وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ عید مبارک!‘
رامین جا چکی ہے اور میرے آنسو نہیں تھم رہے۔ واقعی، انقلاب آچکا ہے، معاشرے میں ایک ادیب خالہ کا مقام کسی بھی بڑے آدمی سے بڑھ کر تسلیم کیا جا چکا ہے اور اس انقلاب میں شاید کہیں نہ کہیں ہمارے لکھے دو لفظوں کا حصہ بھی ہے۔
ران کا کیا ہوا یہ کہانی پھر سہی، فی الحال تو یہ بتاتے چلیں کہ دنیا میں خالہ بھانجی کے رشتے سے زیادہ پیارا رشتہ کوئی نہیں ہوتا، عید، بقر عید، شب برات، محبتیں بانٹیں، آپ جن سے محبت کرتے ہیں انہیں ضرور بتائیں۔ محبت کی زبان بھی وہی ہوتی ہے جو ہر دوسرے جذبے کی زبان ہے۔ گذشتہ عید مبارک!
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔