پاکستان کی 2026 میں سفارتی کامیابی اس وقت اپنی عروج پر پہنچی جب اس نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ کروایا۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور اب کئی دیگر ممالک جیسے کہ کویت، ترکی، مصر اور قطر کے ساتھ اسی قسم کے اتحاد کی کوششیں جاری ہیں اور کسی ممکنہ اتحاد کیں صورت میں کچھ لوگ جسے اسلامی نیٹو بھی کہتے ہیں تشکیل پاسکتا ہے۔
اس سے دو باتیں ثابت ہو گئیں، ایک یہ کہ پاکستان خطے میں ناصرف امن کروا سکتا ہے بلکہ مہیا بھی کر سکتا ہے۔ اگر امریکی فوجیں مشرقِ وسطیٰ کو خالی کریں تو پاکستان کی سربراہی میں یہ اتحاد پورے خطے کےامن امان کا ضامن بن سکتا ہے۔
لیکن جو کچھ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہو رہا ہے، اس سے یہ بین الاقوامی کامیابیاں اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ انگریزی میں کہاوت ہے کہ ’کوئی اپنے قد سے اوپر اڑن نہیں کرتا‘ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے اندر امن و امان یقینی ہو۔
یہ دونوں صوبے ایران اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ ایک طرف ایران کی جنگ مشرقِ وسطیٰ کا فیصلہ کرے گی تو دوسری جانب افغانستان کی صورت حال بھی تنازعات سے بھری پڑی ہے۔ دونوں ملکوں کا پاکستان کے ساتھ بڑا تعلق رہا ہے۔
دونوں صوبے معدنیات سے مالامال ہیں اور یہ معدنیات ہی آج کل کے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے انقلاب کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اس لیے پاکستان کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستانی معیشت کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ صرف ترسیلاتِ زر (remittances) کے علاوہ معیشت پر رشک نہیں آ سکتا۔ آج کل، صرف آئی ایم ایف کے مرہونِ منت ملک چل رہا ہے جو کہ ماضی کا تسلسل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہ اقدامات دیرپا نہیں رہے اور ملک اور عوام کے لیے فائدہ مند نہ ثابت ہوئے۔
آئن سٹائن کا قول ہے ’وہ ہی چیز دہرانے سے نتائج مختلف نہیں نکلتے۔‘ ہم کئی سالوں سے وہی ایک طریقہ استعمال کر رہے ہیں لیکن توقع مختلف نتائج کی کرتے ہیں۔
چند تجاویز نتائج حاصل کرنے کے لیے مندرجہ ذیل ہوسکتی ہیں۔
- پورے ملک میں ایک قانون ہونا چاہیے۔ بلوچستان کے 'بی-ایریا' اور پختونخوا کے سابق فاٹا پر بھی باقی ماندہ پاکستان کا قانون لاگو ہونا چاہیے۔
- اندرونی امن و امان صرف پولیس کی ذمہ داری ہو اور اس کی جواب طلبی بھی لازمی کی جائے۔
- قانون کی حکمرانی بھی نہایت اہم ہے چونکہ دہشت گردی کی اصل وجہ بھی یہ ہی ہے۔ تنازعات کے حل کا ایک جامع نظام ہو۔ کتاب 'Pakistan: A Hard State' کے مصنف Anatol Lieven نے پاکستان کو ایک ’Negotiated State‘ (مذاکراتی ریاست) قرار دیا ہے یعنی مذاکرات سے سارے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں پاکستان کے ایک سیاست دان نے کشمیر کے الیکشن کے دوران کہا کہ اگر پاکستان آبنائے ہرمز کھلوا سکتا ہے تو کشمیر کے روڈ کیوں نہیں کھلوا سکتا؟
- منظم انتشار والا نظریہ ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ اس کے غیر ارادی نتائج ہوتے ہیں جو کوئی بھی ریاست برداشت نہیں کر سکتی۔ مسلسل بغاوتوں کے نتائج صرف قیمت کے بل بوتے پر فیصلہ کن ہوتے ہیں کہ کس فریق کے لیے قیمت زیادہ ہے اور کوئی بھی ریاست قیمت بڑھانا نہیں چاہتی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
- اچھی اور بری دہشت گردی کی تمیز کو ختم کرنا ہوگا۔ اس تاثر کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا ایک قبائلی معاشرہ پر مشتمل ہے، جس میں زر، زمین، زن کی اہمیت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ زمین کے لوگوں کے مالکانہ حقوق تسلیم کیے جائیں اور انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ برطانوی فلاسفی جان لاک نے 17 ویں صدی میں زمین کے مالکانہ حقوق کا دفاع کیا۔
- ایک محقق Johannes Gerschewski (2013) اپنی مضمون'Three Pillars of Stability' میں Co-optation اور Legitimacy (جواز/مقبولیت) کو ریاست کے لیے بہت ضروری بتاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی حکومت کے لیے اس کا جائز وجود ضروری ہے (اگرچہ اس مضمون کی کچھ باتوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے)۔ حکومت جب جائز نہ ہو تو وہ اپنا وجود کھو دیتی ہے۔
- مذہب اور قوم پرستی نے دنیا کی تاریخ میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کبھی ایک دوسرے سے تعاون کیا ہے تو کبھی ایک دوسرے کے خلاف کام کیا۔ جب اختلاف کیا تو جنگیں ہوئیں اور جب تعاون کیا تو امن قائم ہوا۔ ریاست کو ان دو طاقتوں کو قومیانہ ) (Nationalise ہوگا۔ ریاست کو ایسے اقدامات اور حالات پیدا کرنے چاہییں کہ یہ دونوں قوتیں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔
- خطے کی ہر ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ تنازعات کا حل صرف اور صرف مذاکرات سے نکالے۔ یہ تعاون اپنے بنائے ہوئے بین الاقوامی فورمز جیسے کہ سارک اور اقوام متحدہ کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، جو کہ اچھے فورم ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج کا دور صرف اور صرف طاقت کا استعمال ہی جانتا ہے لیکن یہ پائیدار نہیں ہے کیونکہ دنیا اور عوام الناس کا شعور اس سے آگے بڑھ چکا ہے۔ جو بھی انسانی شعور سے لڑا وہ پاش پاش ہو گیا اور شعور ہی نئی دنیا بناتا بھی ہے اور اسے بدلتا بھی ہے۔
صنعتی انقلاب اور مصنوعی ذہانت کا انقلاب کسی جنگ کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ انقلابات انسانی شعور کی پیداوار ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ صنعت اور اے آئی نے جنگوں کو زیادہ خطرناک بنا دیا ہے اور قوموں کی تقدیر کے فیصلے کیے ہیں، لیکن ان کا استعمال پھر بھی انسانی شعور پر منحصر ہے جو کہ اب ان ہی جنگوں کے خلاف کھڑا ہو رہا ہے۔
ثنا اللہ عباسی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سابق ڈی جی ہیں جو آئی جی پنجاب اور خیبر پختونخوا بھی رہ چکے ہیں۔ اب وہ کراچی کی ایک لا یونیورسٹی میں وزٹنگ فیکلٹی کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
