2025 میں پاکستان کے اہم چیلنجز کیا رہے؟

2025 میں پاکستان کو گذشتہ ایک دہائی کے سب سے پیچیدہ اندرونی اور علاقائی سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا رہا۔

پاکستانی عوام 10 مئی، 2025 کو ملتان میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے بعد جشن مناتے ہوئے ٹینک کے اوپر کھڑے فتح کے نشانات دکھا رہے ہیں (شاہد سعید مرزا / اے ایف پی)

2025 میں پاکستان کو پیچیدہ اندرونی اور علاقائی سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا رہا جن کی وجہ سے پاکستان کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے بیتے ہوئے سال میں پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجوں اور علاقائی تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے۔

گذشتہ سال پاکستان کی سلامتی کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ بن کر سامنے آیا۔

بڑھتی ہوئی دہشت گردی، انڈیا کے ساتھ خطرناک کشیدگی اور بیک وقت عالمی دفاعی سفارت کاری کے محاذ پر تیز رفتار پیش رفت نے پاکستان کی عسکری اور سٹریٹجک پالیسی کو نئی جہت دی۔  

انسداد ’دہشت گردی‘ آپریشنز

2025 میں پاکستان فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 67 ہزار سے زائد آپریشن کیے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کے مطابق اس دوران 2115 ’دہشت گردوں‘ کو مارا گیا، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے منسلک نیٹ ورکس کے کلیدی کمانڈرز شامل تھے۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی کے واقعات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جن میں 664 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے اور 1765 زخمی ہوئے۔ 

بلوچستان میں جعفر ایکسپریں کا بڑا واقعہ بھی ہوا۔ 

’آپریشن سربکف‘

پاکستان فوج نے 29 جولائی، 2025 کو شروع ہونے والا آپریشن سربکف ضلع باجوڑ کے حساس علاقوں میں شروع کیا جس کا ہدف عسکریت پسندوں کے منظم نیٹ ورکس کا خاتمہ تھا۔

’آپریشن بنیان المرصوص ‘

مئی 2025 میں انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں پیش آئے پہلگام واقعے کو جواز بنا کر چھ اور سات مئی کی درمیانی شب پاکستان میں مختلف مقامات پر حملہ کر دیا۔

پاکستان نے تین دن تک دنیا کی توجہ اس حملے کی جانب مبدول کرائی اور ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ردعمل نہیں دیا۔

تاہم انڈیا کے پیچھے نہ ہٹنے پر 10 مئی، 2025 کو آپریشن بنیان المرصوص کے تحت انڈین فوجی تنصیبات کو زبردست انداز میں نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان فضائیہ نے انڈین جنگی طیارے مار گرائے جن میں جدید رفال طیارے بھی شامل تھے۔ بعد ازاں امریکی مداخلت پر یہ لڑائی بند ہو گئی۔ 

پاکستان - افغانستان کشیدگی

سال کے ابتدائی مہینوں میں خیبر، باجوڑ، شمالی وزیرستان اور کرم کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں شہری اور سکیورٹی اہلکار جان سے گئے اور زخمی بھی ہوئے۔

پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو انٹیلی جنس شواہد مسلسل فراہم کرتے ہوئے افغان سرزمین کے پاکستانی مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا، جب کہ کابل کی جانب سے بعض الزامات کی تردید سامنے آتی رہی۔

لیکن اورکزئی حملے میں 11 اموات کے بعد پاکستان نے سرحد پار ٹارگٹڈ اور محدود دفاعی کارروائیاں کیں، جن کا مقصد افغان سرزمین پر قائم ٹی ٹی پی کے لانچ پیڈز، لاجسٹک بیس اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔

ان کارروائیوں کو اسلام آباد نے اپنا حق دفاع قرار دیا جب کہ کابل کی جانب سے اس پر سفارتی سطح پر احتجاج کیا گیا۔

بعد ازاں قطر اور ترکی کی ثالثی میں مذاکرات کے ادوار چلے اور عارضی سیز فائر ہوا۔

تاہم سرحد بند ہونے کی وجہ سے تجارت ابھی تک رکی ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دفاعی سفارت کاری اور عالمی سطح پر بڑھتا کردار 

2025 دفاعی سفارت کاری کے لحاظ سے بھی ایک تاریخی سال ثابت ہوا۔ سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (ایس ایم ڈی اے) سمیت متعدد دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا میں مشترکہ فوجی مشقوں اور تربیتی پروگرامز بشمول عراقی افواج کی تربیت) کے ذریعے پاکستان نے خطے میں ایک ذمہ دار اور مؤثر سکیورٹی پارٹنر کے طور پر اپنی شناخت مضبوط کی۔  

دفاعی برآمدات اور اربوں ڈالر کے معاہدے 

پاکستان کی دفاعی صنعت نے 2025 میں عالمی منڈی میں زبردست پیش رفت کی۔

انڈپینڈنٹ اردو کو حاصل ہونے والی سرکاری معلومات کے مطابق آذربائیجان کو 40 جے ایف17 بلاک تھری (4.6 ارب ڈالر) اور لیبیا کو 16 جے ایف17 اور سپر مشاق طیاروں (چار تا 4.6 ارب ڈالر) کے معاہدے کیے گئے۔

اسی سال پاکستان معدنی دولت کے ایک نئے دور میں داخل ہوا جہاں امریکہ کے ساتھ ممکنہ معدنی شراکت داری بھی پلان کا حصہ ہے۔ اس سلسلے میں امریکی کاروباری شخصیات کا وفد بھی پاکستان کا دورہ کر چکا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان