پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے صوبے میں سڑکوں کی بندش کے حوالے سے منگل کو کیس کی سماعت کے دوران آئی جی کو سڑکیں کھولنے اور عمل درآمد کی رپورٹ بدھ کو عدالت میں جمع کرنی کی ہدایت کردی۔
وکیل طارق افغان اور یوسف علی نامی شہری نے پشاور ہائی کورٹ میں پیر کو درخواست جمع کرائی جس میں کہا گیا کہ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سڑکوں کی بندش سے لوگوں مشکلات کا سامنا ہے۔
پی ٹی آئی نے عمران خان کو حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر بہتر علاج معالجہ نہ ملنے کی وجہ سے گذشتہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں اور موٹروے سمیت جی ٹی روڈ کو بعض مقامات پر بند کیا ہوا ہے۔
آج بروز منگل بھی موٹروے کو بند کیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیاں جی ٹی روڈ کا استعمال کر رہی ہیں جبکہ اسلام آباد اور پشاور کے درمیان موٹروے کا رابطہ منقطع ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ مظاہرین نے موٹروے انبار انٹرچینج اور اٹک پل کے قریب روڈ کو بند کیا ہوا ہے اور عوام کو شدید مشکلات جس پر عدالت نے آج ہی صوبائی پولیس سربراہ(آئی جی) اور چیف سیکریٹری کو طلب کیا تھا۔
عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ اب تک سڑکوں کی بندش کی وجہ سے کس کے خلاف کارروائی ہوئی؟ صوبے کے لوگوں کو مشکلات ہیں۔
حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا آپ(عدالت) نے کیس سے قبل ہمیں ذمہ دار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں ہیں۔
عدالت نے کہا ہم نے آپ کو کسی جماعت کا نمائندہ نہیں کہا ہے اور اس کے بعد وقفہ دے کر آئی جی اور چیف سیکریٹری کو طلب کیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آئی جی اور چیف سیکریٹری کے طلبی کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے کہ بد قسمتی کی بات ہے کہ حکومتی پارٹی احتجاج کر کے صوبے کی عوام کو تکلیف دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب پولیس کسی کے خلاف کارروائی نہیں کرتی تو پھر ایسا ہوتا ہے جس پر آئی جی نے بتایا کہ دو دن کا وقت دیں تو سب ٹھیک کردیں گے۔
عدالت نے کہا کہ دو دن نہیں آج سے شروع کریں اور کسی کو سڑک بند کرنے کی اجازت نہ دیں کیوں کہ پورا پاکستان کھلا ہے اور خیبر پختونخوا بند ہے۔
جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ موٹروے کسی صورت بند نہیں ہونا چاہیے اور آج ہی سڑکوں کو کھولا جائے اور کل تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔