ایکشن کمیٹی سے وابستہ افراد کو اسلحہ سپلائی، سرکاری ملازم بطور کیریئر استعمال ہوا، طلال چوہدری

مبینہ نیٹ ورک میں افغانستان سے باڑہ اور پھر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر تک اسلحہ منتقلی کا دعویٰ

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری 10 مئی، 2025 کو اپنے دفتر میں موجود( ایکس اکاؤنٹ سینیٹر طلال چوہدری)

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی کالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ’جیک‘ کی قیادت کو سرحد پار سے غیر قانونی اسلحہ فراہم کرنے والا منظم نیٹ ورک پکڑ لیا ہے۔ جس میں ترسیل کے لیے ایک سرکاری ملازم اپنے سرکاری کور کو بطور سہولت کار استعمال کر رہا تھا۔

اسلام آباد میں بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران طلال چوہدری نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ نیٹ ورک میں اسلحہ پہلے افغانستان سے پشاور کے علاقے باڑہ پہنچایا جاتا تھا، جہاں سے اکبر اسے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی تک منتقل کرتا تھا۔ افغانستان سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر تک مبینہ اسلحہ سپلائی نیٹ ورک میں اکبر نامی ایک سرکاری ملازم بطور کیریئر استعمال ہوتا رہا، جبکہ ضیا نامی مبینہ اسلحہ سپلائر بھی ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت سے رابطے میں تھا۔

طلال چوہدری کے مطابق انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران سامنے آنے والی آڈیوز اور بیانات سے مبینہ نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی، جس میں سرکاری ملازم کے کور کو استعمال کرتے ہوئے اسلحہ منتقل کیا جاتا تھا۔ ان کے بقول اکبر کو مختلف اسلحہ کنسائنمنٹس کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق وہ آٹھ سال سے غیر قانونی اسلحے کی خرید و فروخت اور سپلائی میں ملوث تھا، جبکہ گذشتہ دو سال سے ایکشن کمیٹی کے ساتھ اور اس کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد سے رابطے میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق اس نے افغانستان میں موجود اپنے رابطے زرشاد سے اسلحہ حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ بیان میں ایک کھیپ کے طور پر پانچ کلاشنکوف، ایک ایم فور رائفل اور 4 ہزار گولیاں منگوانے کا ذکر کیا گیا۔

بیان کے مطابق اس کھیپ کی ادائیگی کے لیے 8  لاکھ روپے ہنڈی کے ذریعے افغانستان بھیجے گئے، جس کے بعد اسلحہ افغانستان سے پشاور کے علاقے باڑہ پہنچایا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضیا کے مبینہ بیان کے مطابق باڑہ سے اسلحہ اکبر نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے کوٹلی پہنچانا تھا۔ اکبر کی جانب سے اسلحہ وصول کرنے کے لیے بلائے جانے پر ضیا کوٹلی پہنچا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسے اسلحے سمیت گرفتار کرلیا۔

طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ضیا گزشتہ دو برس سے ایکشن کمیٹی کی اعلیٰ قیادت کے بعض افراد سے رابطے میں تھا۔ پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مبینہ بیان میں ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض افراد کے نام بھی لیے گئے۔

وزیرِ مملکت نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے بعض دھرنوں کے دوران مسلح افراد موجود تھے اور فورسز کے خلاف مسلح کارروائیوں میں بعض افراد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

طلال چوہدری نے دہشت گردی، سمگلنگ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے مبینہ روابط کو توڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نیٹ ورکس کی مالی اور لاجسٹک معاونت ختم کرنا ضروری ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی مختلف گروپوں کا اتحاد ہے۔ جس کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے جو ان مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو کئی دہائیاں قبل انڈین زیرِ انتظام کشمیر سے پاکستان منتقل ہوئے تھے۔ گروپ کا مؤقف ہے کہ یہ مخصوص نشستیں علاقے سے باہر رہنے والے افراد کو غیر متناسب سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتی ہیں۔

تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب جون کے آغاز میں کشمیر کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ حاصل ہیں اور انہیں آئینی ترمیم کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

 یہ نشستیں ان افراد کی نمائندگی کے لیے قائم کی گئی تھیں جو کشمیر کے دیرینہ تنازع کے باعث انڈین زیرِ انتظام کشمیر سے بے گھر ہوئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان