راولاکوٹ: عوامی ایکشن کمیٹی سے جھڑپ میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے

کشمیر پولیس کے سربراہ لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔

مظفرآباد میں 7 جون 2026 کو عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کی کال کے پیش نظر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے (اے ایف پی)

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چار پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ 20 زخمی ہوئے ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو حکومت نے جمعے کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے بعد نو جون کو دی گئی احتجاج کی کال پر تین روز قبل ہی عمل شروع کر دیا گیا تھا۔

حکام نے ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مظفرآباد شہر میں پیراملٹری فورسز اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کی تاکہ امن و امان کی صورت حال برقرار رکھی جا سکے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گذشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ گذشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد جان سے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

اب اتوار کی رات کشمیر پولیس کے سربراہ لیاقت علی ملک کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین نے سی ایم ایچ راولاکوٹ پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے۔

بیان میں اس واقعے کو ’کھلی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا گیا کہ شہریوں کی سلامتی اور عوامی امن کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انسپکٹر جنرل پولیس کے بیان کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران کئی شہریوں اور اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے پیر کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز ہو چکا ہے جبکہ ٹریفک بھی بحال کر دی گئی ہے۔

اس سے قبل اتوار کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بیشتر مطالبات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان