وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے 38 مطالبات میں سے 35 پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سرگرم جے اے اے سی کے ساتھ گذشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے معاہدے کے تحت بیشتر مطالبات پر عمل درآمد کیا جا چکا ہے اور باقی معاملات بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت نے صرف تین مطالبات پورے کیے ہیں۔ ان کے بقول بعض حلقے اس حوالے سے ’منفی پروپیگنڈا‘ کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسائل کا حل پرتشدد احتجاج میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔ ’جب ہم مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتے ہیں تو ان کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کا جواب آتا ہے، یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد رویے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ جن شقوں پر ابھی تک مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا، ان پر بھی فریقین بیٹھ کر بات چیت کر سکتے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی گذشتہ تین برسوں سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی حقوق اور مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک چلا رہی ہے۔ گذشتہ برس کمیٹی کے ریاست گیر لانگ مارچ کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں کئی افراد جان سے گئے تھے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
اس بحران کے حل کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی مذاکراتی کمیٹی مظفرآباد بھیجی تھی، جس کے بعد وفاقی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تاہم جے اے اے سی مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ حکومت نے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔
گذشتہ ہفتے مظفرآباد میں اسلام آباد کی ہائی پاور کمیٹی اور جے اے اے سی کے درمیان کئی گھنٹوں تک مذاکرات ہوئے، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی نے نو جون کو تمام اضلاع سے مظفرآباد کی جانب مارچ اور قانون ساز اسمبلی کے سامنے دھرنے کی اپنی کال برقرار رکھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران سوال اٹھایا کہ آیا موجودہ بے چینی پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کو الگ الگ اکائیوں کے طور پر پیش کرنے کی کوشش تو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جے اے اے سی کے مطالبات کو کبھی نظرانداز نہیں کیا۔
پریس کانفرنس کے آغاز میں وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر میں ہونے والے انتخابات سے قبل بعض عناصر خطے میں بدامنی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے ترجمان نے چھ جون کو ایک بیان میں کہا تھا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کالعدم قرار دی گئی جے اے اے سی سے وابستہ 72 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار افراد سے اسلحہ اور مواصلاتی آلات بھی برآمد کیے گئے، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ گرفتاریاں کن شہروں سے کی گئیں۔
ادھر کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت کی جانب سے بھیجی گئی پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کی اضافی نفری اور گاڑیاں مختلف شہروں میں پہنچ چکی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر فلیگ مارچ بھی کیے جا رہے ہیں۔
اس تمام صورت حال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی اسلام آباد میں جموں کشمیر ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات میں سے 37 کو مکمل یا جزوی طور پر تسلیم کر لیا ہے۔