پاکستان نے لبنان کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیر کو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام، فوری جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قرارداد پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے، جس میں اسرائیل کی بلیو لائن تک مکمل واپسی بھی شامل ہے۔
ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ میں مستقل پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے لبنان کی صورت حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران کیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستانی مندوب نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ ’انتہائی نتیجہ خیز‘ گفتگو ہوئی ہے اور اسرائیل کوئی فوج بیروت نہیں بھیجے گا۔
انہوں نے مزید لکھا کہ جو اسرائیلی فوجی دستے پہلے ہی لبنان روانہ ہو چکے تھے انہیں واپس بلا لیا گیا ہے۔
روئٹرز کے مطابق بعدازاں لبنان نے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا۔ واشنگٹن میں لبنان کے سفارت خانے کے مطابق اس معاہدے سے ملک میں تنازعے کا خاتمہ نہیں ہوگا، لیکن اس کے تحت اسرائیل کو بیروت اور حزب اللہ کے زیر کنٹرول اس کے مضافات پر حملوں سے باز رہنا ہوگا، جب کہ ایران کا حامی گروپ اسرائیل پر اپنے حملے روک دے گا۔
سلامتی کونسل اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ ’اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے انتظامات اور براہ راست بات چیت کے باوجود، لبنان میں سکیورٹی اور انسانی صورت حال انتہائی تیزی سے بگڑ رہی ہے، جس کے ساتھ اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور لبنانی حدود میں زمینی دراندازی میں بھی وسعت آئی ہے۔‘
Two thousand square kilometers, nearly 20% of Lebanon, now lies under illegal Israeli occupation. Unlawful evacuation orders are further inflicting immense suffering on civilians.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 2, 2026
It seems it is the same strategy, the same playbook that we have seen elsewhere: indiscriminate… pic.twitter.com/VuCDtrnn4G
انہوں نے کہا کہ ’2000 مربع کلومیٹر، جو لبنان کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، اب اسرائیل کے غیر قانونی قبضے میں ہے۔ انخلا کے غیر قانونی احکامات شہریوں کے لیے مزید بے پناہ مصائب کا باعث بن رہے ہیں۔‘
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ یہ وہی حکمت عملی، وہی طریقہ کار ہے جو ہم نے دیگر مقامات پر دیکھا ہے یعنی اندھا دھند قتل عام، جبری بے دخلی اور قبضہ۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال مارچ سے اب تک لبنان میں خواتین اور بچوں سمیت 3400 سے زائد اموات اور 10,000 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوئے۔
اسرائیل کی ’غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں‘ کی مذمت کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ ’پاکستان کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کروانے میں امریکی کوششوں کے خیرمقدم اور اس عمل میں ’مسلسل شمولیت‘ کی حمایت کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا مزید کہنا تھا کہ ’پائیدار امن صرف مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘