اسرائیل کے جنوبی لبنان پر پھر سے حملے، لبنانی وزیراعظم کی مذمت

لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے اسرائیل کی تازہ فضائی کارروائیوں کے بعد جنوبی لبنان میں جاری مہم کو’زمین کو جلا دینے کی پالیسی‘ قرار دیا ہے۔

یہ تصویر جنوبی لبنان کے علاقے مرجعیون سے لی گئی ہے، جس میں 30 مئی 2026 کو اسرائیلی فضائی حملے کے بعد گاؤں میفادون سے اٹھتا ہوا دھواں دکھائی دے رہا ہے(تصویر: اے ایف پی)

لبنان کے وزیرِاعظم نواف سلام نے ہفتے کو اسرائیل کی تازہ فضائی کارروائیوں کے بعد جنوبی لبنان میں جاری مہم کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ’زمین کو جلا دینے کی پالیسی‘ قرار دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے لڑائی کو روکنے کی اپیل کی، جب کہ اسرائیل نے ایک درجن سے زائد مقامات کے لیے انخلا کی وارننگز جاری کیں۔

یہ بیان ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ان کی افواج لبنان کے اندر مزید پیش قدمی کر چکی ہیں۔

نواف سلام نے خبردار کیا کہ ملک ایک ’خطرناک کشیدگی‘ کی طرف بڑھ رہا ہے اور زور دیا کہ ’فوری اور حقیقی جنگ بندی‘ کی ضرورت ہے۔

ٹیلی وژن خطاب میں سلام نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ اجتماعی سزا کے طور پر ’قصبوں اور دیہات کو تباہ کر رہا ہے اور ان کے باشندوں کو جلاوطنی پر مجبور کر رہا ہے‘، جو ان کے بقول اسرائیل کے لیے ’نہ تو سلامتی لائے گا اور نہ ہی استحکام‘۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیلی فوج نے ہفتہ کے روز جنوبی لبنان کے سات دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگز جاری کیں، ایک دن بعد جب وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج ملک کے اندر مزید گہرائی تک داخل ہو چکی ہیں۔

یہ تازہ وارننگز اس وقت سامنے آئیں جب دونوں ممالک کے فوجی وفود نے واشنگٹن میں تاریخی سکیورٹی مذاکرات کیے، اور آئندہ ہفتے مزید امریکی ثالثی میں بات چیت طے ہے۔ یہ چوتھا دور ہوگا، جو حالیہ اسرائیل-حزب اللہ تنازع کے آغاز کے بعد سے جاری ہے۔

اسرائیل نے جنوبی لبنان پر شدید بمباری جاری رکھی ہے۔ اس دوران لبنانی صدر جوزف عون نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ٹیلی فونک گفتگو میں زور دیا کہ ’جنگ بندی کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لائی جائیں۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا