خیبر پختونخوا: سیلابی ریلوں سے 12 اموات، سیاحتی مقامات کا رخ نہ کرنے کی اپیل

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

21 جولائی 2026 کو خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں بارش کے دوران شہری ایک سڑک پر سفر کر رہے ہیں (عبدالمجید / اے ایف پی)

خیبر پختونخوا میں گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران تیز بارشوں، اچانک آنے والے سیلابی ریلوں اور مکانات کی چھتیں و دیواریں گرنے کے مختلف واقعات میں 12 افراد جان سے گئے جبکہ 18 زخمی ہوئے ہیں۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق جان سے جانے والوں میں پانچ مرد، پانچ بچے اور دو خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 10 مرد، چار خواتین اور چار بچے شامل ہیں۔

پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 18 مکانات کو نقصان پہنچا، جن میں 15 کو جزوی جبکہ تین مکان مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کردہ موسمی انتباہات اور ہدایات پر عمل کریں۔

یہ واقعات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، لوئر چترال، لوئر دیر، اپر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، تورغر، کرم اور شمالی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے کے ترجمان انور شہزاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سیاح موسم کے حوالے سے جاری ایڈوائزری پر عمل کرتے ہوئے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

انہوں نے بتایا کہ ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں لینڈ سلائڈنگ اور فلیش فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔

انور شہزاد نے بتایا ’ہزارہ ڈویژن میں مانسہرہ، کوہستان اپر اور لوئر جبکہ ملاکنڈ ڈویژن میں سوات، لوئر و اپر دیر اور چترال شامل ہے۔ ان مقامات پر سیاح جانے سے گریز کریں اور اس حوالے سے متعلقہ مقامی انتظامیہ اور ٹورسٹ پولیس کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ‘

پی ڈی ایم اے کی جانب سے 23 جولائی تک تیز بارشوں، اور فلیش فلڈ کی پیش گوئی کی ہے اور اس حوالے سے متعلقہ اضلاع کو ہدایات جاری کی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

ادارے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ امدادی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور متاثرین کو فوری طور پر امدادی سامان اور ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔

اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اس وقت صوبے کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم 23 جولائی تک وقفے وقفے سے مزید بارشوں کا امکان ہے۔

اس پیش نظر پی ڈی ایم اے پہلے ہی تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کے لیے مراسلہ جاری کر چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا مزید معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

افغانستان

ادھر اے ایف پی کے مطابق منگل کو مشرقی افغانستان میں امدادی کارکن مٹی اور بڑے پتھروں کے نیچے پھنسے ہوئے رہائشیوں تک پہنچنے کی کوششوں میں مصروف رہے، جب ایک شدید سیلاب نے صوبے میں تباہی مچا دی اور کم از کم 23 افراد کی جان لے لی۔

افغان قومی ادارہ برائے قدرتی آفات اور صوبائی گورنر کے دفتر کے مطابق تقریباً 100 افراد لاپتہ ہیں۔ دونوں اداروں نے پیر کو آنے والے اس تباہ کن سیلاب کے بعد اموات کی تازہ تعداد بھی جاری کی ہے۔

طالبان حکومت کے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق سب سے زیادہ تباہی صوبہ نورستان کے دارالحکومت پارون میں ہوئی، جہاں کم از کم 80 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کی سرحد سے متصل دور افتادہ صوبے نورستان میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جانی اور مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغانستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے ملک کے بعض علاقوں میں خشک سالی جبکہ دیگر علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلابوں کے خطرات میں اضافہ کیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ نورستان اور دیگر صوبوں میں جنگلات کی کٹائی نے بھی حالیہ دہائیوں میں سیلاب کی شدت بڑھا دی ہے، کیونکہ درختوں کی کمی کے باعث بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے تیزی سے بہنے لگتا ہے۔

انڈیا

انڈیا کے علاقے سکم میں حالیہ مون سون کی شدید بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے شبہہ ہے کہ زیرِ تعمیر ایک پن بجلی منصوبے کی سرنگ منہدم ہونے سے کم از کم نو افراد مارے گئے جبکہ 15 دیگر اب بھی سرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکام نے منگل کو بتایا کہ یہ حادثہ پیر کو ہمالیائی ریاست سکم میں پیش آیا، جہاں دریائے تیستا پر سرکاری ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے سرنگ تعمیر کی جا رہی تھی۔ سکم اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر راجیو روکا نے اے ایف پی کو بتایا: ’ہمیں اندازہ ہے کہ تقریباً 25 سے 27 افراد سرنگ میں پھنس گئے تھے۔‘

حکام کے مطابق سرنگ گرنے کا واقعہ غالباً ایک دھماکے کے باعث پیش آیا، تاہم اس دھماکے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ راجیو روکا نے کہا کہ ’ہمیں یقین نہیں کہ دھماکے کی وجہ کیا تھی کیونکہ یہ سرنگ کے کافی اندر ہوا تھا‘، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ قدرتی وجوہات کے باعث پیش آیا ہو۔‘

اس سے قبل شمال اور شمال مشرقی انڈیا میں مون سون کی شدید بارشوں، اچانک آنے والے سیلابوں، لینڈ سلائیڈنگ اور بادل پھٹنے کے واقعات کے باعث ایک ہی دن میں کم از کم 25 افراد جان سے گئے، جبکہ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ خراب موسم کا سلسلہ مزید جاری رہ سکتا ہے۔

اتوار کو ہونے والی ہلاکتیں مختلف علاقوں میں رپورٹ ہوئیں، جن میں جموں و کشمیر، ناگالینڈ اور اتراکھنڈ شامل ہیں۔

مسلسل موسلادھار بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے، متعدد سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور کئی علاقوں میں امدادی ٹیمیں متاثرین تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق مزید بارشوں اور خراب موسمی حالات کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان