خیبر پختونخوا: سرکاری ہسپتالوں میں سہولتوں کی کمی، مریض پریشان

بعض اضلاع کے ہسپتالوں میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور انجیوگرافی کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو باہر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

31 جولائی 2023 کو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے ایک ہسپتال میں سکیورٹی اہلکار بم دھماکے کے متاثرین زیر علاج ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے صوبہ خیبرپخوا کے مختلف اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کے لیے ضروری مشینوں کے خراب ہونے یا یہ سہولت کے سرے سے موجود ہی نہ ہونے کی نشاندہی کی کی گئی ہے۔

خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ڈپٹی کمشنر کے مطابق ضلعی ہسپتال میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی مشین خراب، ضروری ادویات کی کمی اور گائنی کی سہولت موجود نہیں ہے اور ان مسائل کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے دو جولائی کو کمشنر پشاور کے نام ایک خط میں(جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) لکھا ہے جس میں ان تمام مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کو فوری حل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

خط کے مطابق چارسدہ کا ضلعی ہسپتال 1988 میں قائم ہوا ہے جس میں 270 بستروں کی گنجائش ہے اور 20 سپیشلسٹ خدمات دے رہے ہیں۔ ہسپتال کی 508 آسامیوں میں 88 خالی ہیں جس کی وجہ سے صحت سہولیات کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں۔

خط کے مطابق ہسپتال کے او پی ڈی میں سالانہ 10 لاکھ سے زائد مریض علاج معالجے کی غرض سے آتے ہیں جب کہ پانچ لاکھ تک مریض شعبہ ایمرجنسی میں آتے ہیں۔

گذشتہ ماہ جون کے اعدادوشمار کو دیکھا جائے تو ایک ماہ میں 91 ہزار سے زائد مریض آئے  جس سے ہسپتال پر بوجھ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے لکھا: ’ہسپتال میں ضروری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر مریضوں کو علاج معالجے اور سپیشلائزڈ انوسٹی گیشن کے لیے پشاور ریفر کردیا جاتا ہے جس سے وہاں کے ہسپتالوں پر بھی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔‘

تاہم انڈپینڈنٹ اردو نے صوبے کے بڑے اضلاع کے ضلعی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں کی صورت حال جاننے کی کوشش کی ہے۔

مردان میڈیکل کمپلیکس کے حالات

پشاور کے بعد صوبے کے دوسرے بڑے شہر مردان کے سب سے بڑے ہسپتال مردان میڈیکل کمپلیکس کی بات کی جائے تو ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سی ٹی سکین مشین گذشتہ تقریباً ایک مہینے سے خراب ہے جبکہ ایم آر آئی مشین بھی کام نہیں کر رہی۔

ڈاکٹر کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر 200 تک سی ٹی سکین اور اسی طرح ایم آر آئی ٹیسٹ تجویز کیے جاتے ہیں۔ مریض مجبوراً یہ ٹیسٹ باہر سے کراتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں ’سی ٹی سکین، ایم آر آئی مشین کے علاوہ انجیوگرافی کی سہولت بھی موجود نہیں کیوں کہ مشین خراب ہے اور مریضوں کو باہر سے انجیوگرافی کرانی پڑتی ہے۔‘

مردان میڈیکل کمپلیکس ٹیچنگ ہسپتال ہے جہاں شعبہ ایمرجنسی میں ماہانہ 50 ہزار سے زائد مریض آتے ہیں جب کہ او پی ڈی میں ماہانہ تقریباً 50 ہزار مریض مختلف بیماریوں کے علاج معالجے کے لیے آتے ہیں۔

ہسپتال کی جانب سے سی ٹی سکین مشین کی خرابی کے حوالے سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ مشین 2023 میں نصب کی گئی ہے اور اب ایکسرے ٹیوب کی خرابی کی وجہ سے غیر فعال ہے۔

بیان کے مطابق اس ایکسرے ٹیوب کی سروس لائف ایک لاکھ سلائسز ہے جب کہ ہسپتال میں نصب مشین 14 لاکھ سلائسز تک کام کر چکی ہے اور اب خراب ہے۔ اس کی تبدیلی کی منظوری ہوگئی ہے اور جلد اس کو تبدیل کر دیا جائے گا۔

ہسپتال کے بیان کے مطابق اسی طرح ایم آر آئی مشین 2011 میں نصب کی گئی تھی اس اس کے تین حصے غیر فعال ہو گئے تھے جن میں برین اور شولڈر کوائل کی مرمت کر دی گئی ہے جب کہ کمر کے مہروں کا کوائل اب بھی غیر فعال ہے۔

انجیوگرافی مشین کے حوالے سے ہسپتال کا کہنا ہے کہ یہ مشین پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت 2025 میں نصب کی گئی تھی۔

ہسپتال کے مطابق مشین اب ٹیوب کی خرابی کی وجہ سے غیر فعال ہے اور ایک نجی کمپنی اس کی مرمت کی ذمہ دار ہے جنہوں نے مرمت کرنے کی ہامی بھر لی ہے۔ مشین کی مرمت کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے۔

دیگر اضلاع کے ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشین خراب ہے یا سرے سے موجود ہی نہیں۔

بنوں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال اور ایبٹ آباد کے ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں بھی پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ ایک ڈاکٹر کے مطابق ایم آر آئی مشین خراب پڑی ہے۔

ڈاکٹر کے مطابق دونوں ہسپتالوں میں ایم آر آئی مشین خراب ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مجبوراً زیادہ فیس دے کر باہر سے ایم آر آئی کرانی پڑتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں ہسپتال اضلاع کے بڑے ہسپتال ہیں لیکن ان میں یہ بنیادی ٹیسٹنگ مشین خراب ہے جس سے صوبے میں صحت سہولیات کی فراہمی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی ٹی سکین کی سہولت بھی بنوں ہسپتال میں موجود نہیں تھی لیکن سی ٹی سکین مشین کو کچھ دن پہلے ہسپتال میں نصب کیا گیا ہے۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ترجمان ملک سیف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایم آر آئی مشین مکمل طور پر فعال ہے لیکن مشین کے ساتھ منسلک یو پی ایس میں معمولی فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جسے الیکٹرو میڈیکل ڈیپارٹمنٹ کی ٹیم ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لوئر دیر کے سب سے بڑے ہسپتال تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال کی بات کی جائے تو ہسپتال کے ایک ملازم نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سی ٹی سکین مشین تو موجود ہے لیکن ایم آر آئی مشین سرے سے موجود ہی نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیدو ٹیچنگ ہسپتال سوات ضلعے کا سب سے بڑا ہسپتال ہے لیکن وہاں کے ایک ڈاکٹر نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ تقریباً آٹھ سال سے یہاں پر ایم آر آئی مشین خراب ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی ٹی سکین اور انجیوگرافی مشین کام کرتی ہے لیکن ایم آر آئی کے لیے مریضوں کو نجی لیبارٹریز جانا پڑتا ہے۔

بونیر سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلعی ہسپتال میں ایم آر آئی مشین سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

ضلع صوابی کے ہسپتال میں ڈیوٹی انجام دینے والے ایک ڈاکٹر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ضلعے کے بڑے ہسپتال باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں سی ٹی سکین موجود ہے لیکن ایم آر آئی اور کیتھ لیب (انجیوگرافی وغیرہ کی سہولت) موجود نہیں ہے جب کہ ضلع کے دوسرے بڑے ضلعی ہسپتال میں ایم آر آئی کی سہولت نہیں۔

اس ساری صورت حال اور مختلف ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے حوالے سے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی صحت