قومی اقتصادی کونسل کے حالیہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 109 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔
اس فیصلے کے بعد صوبے کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم ہو کر 455 ارب روپے رہ گیا ہے۔
یہ کٹوتی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وفاقی سطح پر آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کی تیاری جاری ہے، جبکہ صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور مالی ترجیحات پر بھی نظرثانی کا عمل موجود ہے۔
خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی سے متعلق سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس میں متاثرہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال، سکیورٹی آپریشنز اور بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، صحت اور تعلیم کے منصوبوں کی ضروریات بھی صوبائی ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کی۔
صوبائی حکومت نے اس کٹوتی کے بعد مؤقف اختیار کیا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی موجودہ زمینی حقائق کے تناظر میں صوبے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم اس کٹوتی کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں، سکیورٹی چیلنجز اور ضم شدہ اضلاع کے اضافی ترقیاتی بوجھ سے گزر رہا ہے، جہاں پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی کمی موجود ہے۔ ایسے حالات میں ترقیاتی بجٹ میں کمی سے جاری منصوبوں کی رفتار متاثر ہو گی اور نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی بھی محدود ہو جائے گی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ان منصوبوں پر جو سڑکوں، صحت، تعلیم اور ضم شدہ اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق مالی گنجائش میں کمی کے باعث ترقیاتی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بعد یہ معاملہ صوبائی اور وفاقی مالیاتی تعلقات کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مجموعی طور پر مالیاتی وسائل اور اخراجات کی تقسیم پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔
شفیع جان نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں خیبر پختونخوا کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔
ان کے مطابق صوبے کی جانب سے ترقیاتی ضروریات اور زمینی حقائق کو اجلاس کے سامنے رکھا گیا، خاص طور پر سکیورٹی چیلنجز اور ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی تقاضوں کے تناظر میں۔
ترجمان کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے شعبے کو ترجیح دینے کا بھی منصوبہ ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں امن و امان اور سکیورٹی اخراجات صوبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل کے اس فیصلے کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور دائرہ کار کس حد تک متاثر ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبہ بیک وقت سکیورٹی اور ترقیاتی دونوں طرح کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے-