خیبرپختونخوا: شدید گرمی میں بجلی کی بندش پر بنوں اور سرائے نورنگ میں احتجاج

صوبے کے مختلف علاقوں میں کم وولٹیج کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ پیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی چوری اور کم ریکوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

شدید گرمی کی حالیہ لہر کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش اور کم وولٹیج کی شکایات ایک بار پھر سامنے آئی ہیں اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔

 بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف بنوں اور سرائے نورنگ سمیت مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔ 

اسی دوران ان دونوں شہروں کے گرڈ سٹیشنوں پر پیش آنے والے واقعے نے بجلی کی تقسیم، چوری اور انتظامی عملداری سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے مطابق بنوں میں بعض افراد نے ایسے فیڈرز زبردستی بحال کروائے جنہیں زیادہ لائن لاسز اور کم ریکوری کے باعث بند کیا گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے گرڈ پر اضافی دباؤ پڑا اور نظام متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔

یہ واقعات ایسے وقت  پیش آئے جب ہیٹ ویو کے باعث بجلی کی طلب اپنی بلند ترین سطح پر تھی۔

کیا خیبر پختونخوا میں بجلی کی کمی ہے ؟ 

اسرکاری اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے جس میں پن بجلی ایک بڑا حصہ ہے۔ تربیلا، ورسک اور دیگر منصوبے خیبر پختونخوا کو قومی گرڈ میں اہم کردار دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار اور اس کی دستیابی دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان میں بجلی قومی گرڈ کے ذریعے تقسیم ہوتی ہے، اس لیے پیداوار کسی ایک صوبے میں ہونے کے باوجود سپلائی پورے نظام کے قواعد کے مطابق ہوتی ہے۔

جب کہ لوڈشیڈنگ کا تعین زیادہ تر ریکوری، لائن لاسز اور متعلقہ فیڈرز کی کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے۔

پیسکو کا مؤقف کیا ہے؟

پیسکو کے جنرل مینیجر آپریشن محمد زبیر خان کے مطابق خیبر پختونخوا میں لوڈشیڈنگ بجلی کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی چوری اور کم ریکوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

ان کے مطابق کمپنی کو قومی گرڈ سے ضرورت کے مطابق بجلی ملتی ہے اور سینکڑوں فیڈرز ایسے ہیں جہاں 24 گھنٹے سپلائی جاری رہتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک برس میں 34 فیڈرز کو لوڈشیڈنگ فری کیا گیا جبکہ لائن لاسز میں بھی کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں بلکہ نظام پر مالی دباؤ کا بھی ہے۔

’ہم غیر قانونی کنکشن ختم کر سکتے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔ اس کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون ضروری ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گرڈ سٹیشنوں کا مسئلہ

پیسکو کے مطابق بعض مواقع پر سیاسی رہنما یا مقامی افراد گرڈ سٹیشنوں پر دباؤ ڈال کر فیڈرز بحال کراتے ہیں جس سے وقتی طور پر سپلائی بحال ہو جاتی ہے لیکن مجموعی نظام متاثر ہوتا ہے۔

پیسکو کا مؤقف ہے کہ اگر بجلی چوری کم ہو، ریکوری بہتر ہو اور مقامی سطح پر تعاون ملے تو انہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔

بجلی چوری اور نظام پر اثرات

کمپنی کے مطابق بجلی چوری صرف مالی نقصان نہیں بلکہ پورے تقسیم کے نظام پر اثر ڈالتی ہے۔ جب وصولیاں کم ہوں تو اس کا بوجھ مجموعی نظام اور بالآخر صارفین پر پڑتا ہے۔

پیسکو کا کہنا ہے کہ ہر کیس ایف آئی آر تک نہیں پہنچ پاتا، کیوں کہ بعض علاقوں میں مزاحمت اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟ 

توانائی کے ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں مسئلہ صرف بجلی کی پیداوار یا چوری نہیں بلکہ پرانا بنیادی ڈھانچہ، زیادہ طلب اور کمزور انتظامی نظام بھی اس میں شامل ہیں۔

گرمی کے موسم میں ایئرکنڈیشنرز اور دیگر آلات کے استعمال سے لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے بعض علاقوں میں ٹرپنگ اور وولٹیج کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

صوبائی حکومت کا مطالبہ کیا ہے ؟ 

خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ صوبہ ملک کی پن بجلی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسے نیٹ ہائیڈل منافعے سمیت اس کے مالی حقوق ملنے چاہییں۔

حکومت کے مطابق بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے ترسیلی نظام کی بہتری اور سرمایہ کاری بڑھانا ضروری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان