بلوچستان: سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 24 گھنٹوں میں 17 عسکریت پسند مارے گئے

سرکاری میڈیا کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے خضدار میں 10 اور خاران میں سات عسکریت پسندوں کو مار دیا۔

19 مارچ، 2026 کو بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان-افغانستان سرحد پر ایک پاکستانی فوجی ڈیوٹی دے رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان کے سرکاری میڈیا نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بلوچستان میں انسداد دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں کے دوران 17 عسکریت پسندوں کو مار دیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ہفتے کو بلوچستان کے ضلع خضدار کے پہاڑی علاقے شور پارود میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کے دوران 10 عسکریت پسندوں کو مارا۔

دوسری کارروائی ضلع خاران میں کی گئی، جہاں سات عسکریت پسند مارے گئے۔ 

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ میں مزید کہا گیا سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کی کمین گاہوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق مارے جانے والوں سے جدید ہتھیار، بڑی مقدار میں گولہ بارود، دیگر جنگی سازوسامان، دو گاڑیاں اور ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مارے گئے عسکریت پسند خاران اور لجے کے علاقوں میں لوٹ مار، بھتہ خوری، تاوان کے لیے اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افغان طالبان کے 2021 میں کابل میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان کو بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں اضافے کا سامنا ہے۔

اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل اپنی سرزمین پر ایسے عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہا ہے جو پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور شہریوں پر حملے کرتے ہیں۔

افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی مسائل خود حل کرے۔

پاکستان انڈیا پر بھی دونوں صوبوں میں حملے کرنے والے عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جمعے کو بلوچستان میں دو الگ الگ حملوں میں کم از کم 11 افراد زخمی ہوئے، جن میں چھ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان