خیبر پختونخوا کے پانچ جنوبی اضلاع کی ضلعی انتظامیہ نے پیر سے امن و امان کی مخدوش صورت حال کے باعث مختلف علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان اضلاع میں ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان، شمالی وزیرستان اپر، شمالی وزیرستان لوئر اور جنوبی وزیرستان شامل ہیں جہاں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام کو صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک نقل و حرکت محدود کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جنوبی اضلاع میں گذشتہ کچھ ماہ سے امن و امان کی صورت حال خراب ہو گئی ہے اور پولیس و سکیورٹی فورسز کے اوپر حملے بھی کیے گئے ہیں۔
کچھ ہفتے پہلے بنوں میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا اور مختلف علاقوں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے مشترکہ طور پر ٹارگٹڈ آپریشن کیا تھا جس میں مختلف عسکریت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا۔
خیبر پختونخوا پولیس کے اعدادوشمار کے مطابق رواں سال شدت پسندی کے واقعات میں 150 سے زائد پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ مجموعی طور پر 2002 سے جولائی 2026 تک 2396 پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی ہے۔
اس میں سب سے زیادہ پولیس اہلکار 2025 اور 2026 میں جان سے گئے ہیں۔
ٹانک
ضلع ٹانک کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ’امن و امان کی مخدوش‘ صورت حال کی وجہ سے کسی بھی فرد یا گاڑی کو متعلقہ شاہراہوں پر نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مراسلے کے مطابق ٹانک جنڈولہ روڈ، ٹانک ڈی آئی خان روڈ، ڈی آئی خان ٹانک بائی پاس، سدکائی کوٹ پٹھان روڈ، دیال ٹانک بائی پاس، چدرہ غاڑہ میٹھو روڈ اور اسی طرح دیگر چھوٹی بڑی شاہراہیں ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہیں گی۔
ٹانک پولیس کے ایک اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرفیو آج (پیر) کے لیے نافذ کیا گیا ہے اور کرفیو کی وجہ سے ٹانک وزیرستان کی مرکزی شاہراہ بھی بند رہے گی۔
ٹانک میں گذشتہ دنوں ایک پولیس پوسٹ پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں 15 پولیس اہلکار جان سے گئے تھے۔
ڈیرہ اسماعیل خان
ٹانک کی طرح ڈی آئی خان میں بھی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق آج صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک مختلف شاہراہیں بند رہیں گی اور علاقے میں کرفیو نافذ ہوگا۔
مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ ڈی آئی خان ٹانک روڈ، کلاچی ہتالہ روڈ، ٹکوارا ہتالہ روڈ، کنوری گڑھا محبت روڈ، چہکن درباری روڈ، اور پوٹاہا کوٹ عیسی خان روڈ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہوں گی۔
اسی طرح مراسلے کے مطابق پوٹاہا ہتالہ بازار بھی صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک مکمل طور پر بند رہے گا اور کسی قسم کی نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈی آئی خان پولیس کے اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کرفیو ٹانک سے جڑی شاہراہوں پر نافذ ہے جبکہ باقی ڈی آئی خان کے علاقوں میں کرفیو نافذ نہیں ہے۔
شمالی وزیرستان اپر و لوئر
دیگر اضلاع کی طرح ضلع شمالی وزیرستان اپر اور ضلع شمالی وزیرستان لوئر میں بھی امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان اپر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق سب ڈویژن سرواکی اور لدھا میں امن و امان کی ابتر صورت حال کی وجہ سے آج صبح سات بجے سے شام سات بجے تک کرفیو نافذ رہے گا۔
مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ سرواکی اور لدھا تحصیل میں مارکیٹیں مکمل طور پر بند رہیں گی اور بغیر اجازت کسی فرد یا گاڑی کو نقل و حرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔
مراسلے کے مطابق جن شاہراہوں پر نقل و حرکت پر پابندی ہوگی، ان میں لدھا مکین روڈ، مکین تابیسار روڈ، سراروغا کوٹکئی روڈ، سپینکئی روڈ، درگئی پل مدی جان روڈ، شین ورسک مولے خان سرائے روڈ، اور سرواکئی ملے خان سرائے روڈ شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
شمالی وزیرستان لوئر میں بھی مختلف شاہراہوں پر کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر نے مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
مراسلے کے مطابق امن و امان کی مخدوش صورت حال کی وجہ سے وانا سے درگئی تک مختلف علاقوں کی اہم شاہراہوں پر کرفیو نافذ ہوگا اور تمام ٹریفک کے لیے یہ شاہراہیں بند رہیں گی۔
جن اضلاع میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے تو مراسلے میں ایمرجنسی خدمات دینے والی گاڑیاں جیسے ایمبولینس یا فائر بریگیڈ کو اس کرفیو سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح تمام اضلاع کے مراسلوں میں لکھا گیا ہے کہ متعلقہ ضلع کے پولیس سربراہ (ڈی پی او) یا سکیورٹی فورسز سے پیشگی اجازت نامے کی صورت میں ہنگامی حالات میں کوئی فرد یا گاڑی کرفیو کے اوقات میں نقل و حرکت کر سکے گی۔
مراسلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کسی شخص یا گاڑی کو اپنی شناخت (شناختی کارڈ/گاڑی کے کاغذات) پیش کرنا ہوگی، اور سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو دیکھتے ہی اپنی گاڑی 50 میٹر دور روکنی ہوگی۔