حکومتِ بلوچستان کے مطابق ضلع نوشکی کی حدود میں امن کی بگڑتی صورت حال کے باعث تین دن یعنی 31 جولائی تک کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کے محکمہ داخلہ کی جانب سے منگل کی شب جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق نوشکی میں کرفیو 28 جولائی 2026 کی رات 8 بجے سے نافذ العمل ہے اور 31 جولائی 2026 کی رات 8 بجے تک برقرار رہے گا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری محمد حمزہ شفقت کی جانب سے جاری ایک بیان میں ضلع کی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی (DICC) کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 28 جولائی 2026 کو ’دہشت گردوں‘ نے نوشکی کے مغربی بائی پاس پر واقع فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چوکی پر حملہ کیا۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی آپریشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضلع میں امن و امان کی صورت حال انتہائی حساس اور غیر مستحکم ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی نوشکی نے مشاہدہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، حساس سرکاری تنصیبات اور قومی شاہراہ (این-40) پر دہشت گرد حملوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث ضلع نوشکی میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بگاڑ پیدا ہو چکا ہے، جس سے عوامی تحفظ، انسانی جانوں، سرکاری و نجی املاک اور مسافروں و اشیائے ضروریہ کی بلا تعطل نقل و حرکت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
’مزید یہ کہ مستند انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق آئندہ ماہ اگست کے دوران خطرات میں اضافے کا امکان ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، سرکاری تنصیبات اور دیگر حساس مقامات کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات موجود ہیں۔‘
نوٹیفکیشن کے مطابق کوئی بھی شخص مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بغیر اپنے گھر سے باہر نہیں نکل سکے گا اور نہ ہی ضلع نوشکی کی حدود میں نقل و حرکت کر سکے گا۔
اس کے علاوہ بیان میں شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ ان تین دنوں کے دوران کرفیو کے دوران ہر قسم کی عوامی نقل و حرکت، اجتماعات، جلوس اور غیر ضروری سفر پر مکمل پابندی ہوگی، ڈپٹی کمشنر نوشکی، قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشاورت کے بعد، سرکاری فرائض انجام دینے والے افسران و اہلکاروں، ہنگامی طبی خدمات، ریسکیو سروسز، یوٹیلٹی سروس فراہم کرنے والے اداروں اور عوامی مفاد میں ضروری قرار دیے جانے والے دیگر افراد یا طبقات کو کرفیو سے استثنا دینے کا مجاز ہوگا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نوشکی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟
ضلع نوشکی کوئٹہ سے مغرب میں تقریباً 150 کلومیٹر پر واقع ہے اور کوئٹہ-تفتان آر سی ڈی ہائی وے پر ہے جو پاکستان کو ایران کی سرحد سے ملاتی ہے۔
اسی وجہ سے یہ تجارتی اور سٹریٹیجک لحاظ سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ افغانستان کے سرحد کے قریب اور کوئٹہ تفتان۔شاہراہ پر ہونے کی وجہ سے تجارت اور آمدورفت کا اہم راستہ ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سکیورٹی فورسز کی نقل و حرکت بھی یہاں زیادہ ہوتی ہے۔
16 مارچ 2025 نوشکی دالبندین ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں پانچ اہلکار مارے گئے اور 12 زخمی ہوئے تھے۔
31 جنوری 2026 کو مسلح افراد نے حملہ کر کے متعدد سکیورٹی اہلکاروں کو مارا۔ اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کئی روز یرغمال بنائے رکھا اور مسلح افراد کئی روز تک شہر کے اندر موجود رہے۔
مجموعی طور پر پچھلے دو سال میں نوشکی میں زیادہ تر حملے سکیورٹی فورسز پر ہوئے ہیں اور ذمہ داری زیادہ تر کالعدم تنظیم بی ایل ایف اور دیگر مسلح گروپوں نے قبول کی ہے۔