جنوبی وزیرستان: 18 سال بعد طالبان کے خلاف 600 افراد پر مشتمل قومی لشکر تشکیل

وانا اور نواحی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد بننے والے قومی لشکر نے مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لیے۔

وزیرستان میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد ایک دفعہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قومی لشکر بنا ہے (دلاور خان وزیر)

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں 18 سال بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف 600 افراد پر مشتمل قومی لشکر بنایا گیا ہے جنہوں نے مختلف علاقوں میں مورچے سنبھال لیے ہیں۔

حکومت نے اس سے قبل بھی لشکروں کی تشکیل کی کوششیں کی تھیں لیکن قبائل اس کے لیے تیار نہیں تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ کیوں اور کیسے تیار ہوئے؟

وانا میں پہلی دفعہ ازبکوں، طالبان اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف 2007 میں ایک قومی لشکر بنا تھا، جس نے کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکیوں جنگجوؤں کو علاقے سے بے دخل کیا تھا۔ ازبک اور طالبان 2003 میں پہلی مرتبہ وانا آئے تھے۔

کئی فوجی کارروائیوں اور معاہدوں کے بعد 2018 میں پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے ان طالبان کی موجودگی کی مخالفت شروع کی۔ تب سے یہ لشکر، جنہیں بعض حلقے ’گوڈ طالبان‘ بھی کہتے ہیں، آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگے۔

تحریک طالبان پاکستان نے ان نام نہاد ’گوڈ طالبان‘ کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دفعہ پھر وانا کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے بنا لیے اور سات سالوں میں مزید پھیل گئے۔

اب 18 سال بعد ایک دفعہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قومی لشکر بنا ہے۔

لشکر کے سربراہ ملک جمیل سے رابطہ کیا گیا تو وہ قومی مشران کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ان کے بھائی ضیا الدین نے بتایا کہ لشکر کامیابی کے ساتھ اپنے اپنے مورچوں میں موجود ہے اور اسے مقامی انتظامیہ اور پولیس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

اعلیٰ پولیس آفیسر آصف خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لشکر بنانے کے بعد کڑی کوٹ بازار میں دوبارہ رونقیں بحال ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توجئے خیل کے علاوہ دوسری قوموں کے جرگے جاری بھی ہیں، وہ بھی اپنے اپنے لشکر بنانے میں کامیاب ہوں گے، البتہ تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔

جنوبی وزیرستان لوئر کے پولیس سربراہ طاہر خان وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس اور سول انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی کی جائیداد اور کاروبار کو نقصان نہ پہنچے۔

ویسے تو پہاڑی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں لشکر کے کمزور ہونے کے بعد چھ سالوں سے جاری تھیں، تاہم گذشتہ دو سالوں سے وہ میدانی علاقوں میں اتر آئے ہیں، جہاں وہ مساجد اور لوگوں کے گھروں کے سامنے دن رات موجود رہتے ہیں۔

صرف یہ نہیں کہ وہ مساجد اور باغات میں وقت گزارتے ہیں بلکہ لوگوں کے گھروں سے کھانے پینے کے علاوہ پیسوں کے مطالبات بھی کر رہے ہیں۔ جب کوئی نقد رقم دینے سے انکار کرے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔

گذشتہ چھ ماہ میں دو درجن سے زیادہ عام شہریوں کے علاوہ سابق وفاقی وزیر غالب خان کے بھائی وارث خان اور موجودہ ایم این اے کے بھائی کو بھی اغوا برائے تاوان کا سامنا رہا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی زبیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح جنگجوؤں کے آنے کے بعد علاقے میں تعلیمی اداروں کے علاوہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد ان سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے، جس کے انکار پر ان کے بھائی کو اغوا کر لیا گیا، جنہیں بعد میں ایک ڈیل کے ذریعے رہائی ملی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے علاقہ چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور یا ملک کے دیگر حصوں کا رخ کیا ہے، تاہم بعض قبائلی مشران نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، جن میں سے ایک ملک جمیل خان ہیں۔

پانچ ماہ قبل ملک جمیل نے ایک قومی جرگہ طلب کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ طالبان صرف سرکار کے لیے نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے خطرہ بن گئے ہیں، جن کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ چکا ہے۔

ملک صاحب نے اسی جرگے میں طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا، لیکن ان کی قوم کے بہت کم لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔

اس کے بعد ملک جمیل وانا بازار سے گھر جا رہے تھے کہ کڑی کوٹ کے قریب ان کی گاڑی ایک دھماکے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں ان کا 25 سالہ نوجوان بیٹا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ملک جمیل پر حملوں کا یہ سلسلہ مزید تیز ہوا اور کئی بار انہیں نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔

جب شدت پسند ملک جمیل کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ان کے مزید دو نوجوان بیٹوں کو اس وقت فائرنگ کر کے مار دیا گیا، جب وہ کڑی کوٹ بازار سے موٹر سائیکل پر اپنے گھر جا رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد توجئے خیل قبائل میں انتہائی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

چند ہی دن گزرے تھے کہ مسلح افراد نے ایک بار پھر ملک جمیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس بار ویسے بھی قبائلی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا تھا، جیسے ہی حملے کی خبر پھیلی تو لوگ مسلح ہو کر اپنے گھروں سے نکل آئے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر طالبان علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد قوم کے مشران نے مساجد کے لاوڈ سپیکروں سے اعلانات کیے کہ توجئے خیل قبائل جہاں بھی ہوں، وہ کڑی کوٹ آ جائیں۔ اس کے نتیجے میں 600 افراد پر مشتمل لشکر بنا، جو مختلف اہم مقامات پر دن رات نگرانی کرنے لگا۔

اس وقت سے لشکر اور طالبان کے درمیان کبھی دن اور کبھی رات کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان