پاکستان کے اولمپک گولڈ میڈلسٹ اور کامن ویلتھ گیمز کے دفاعی چیمپیئن ارشد ندیم مردوں کے جیولن تھرو فائنل میں ابتدائی تین راؤنڈز کے بعد ٹاپ آٹھ کھلاڑیوں میں جگہ نہ بنا سکے، جس کے باعث وہ میڈل کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔
Fame got him down, he couldn't manage it
— Alize Shah Bukhari (@Chul_Bull) July 31, 2026
ارشد ندیم سے میڈل کی امید لگائے بیٹھے ان کے مداح اس کارکردگی پر مایوس نظر آئے، جس کا اظہار انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی کیا۔ تاہم جہاں کچھ صارفین نے ارشد کی کارکردگی پر تنقید کی، وہیں کئی لوگوں نے اسے کھیل کا حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
spent 90£ on ticket to watch two big rival Arshad and Chopra but it was really disappointing to see how poor he was throwing #Commonwealthgames2026 pic.twitter.com/0CPpn6FW2H
— Shafiq Jutt (@ShafiqJutt94) July 31, 2026
رباب نامی صارف نے لکھا، ’یہ صرف ایک کھیل ہے، وہ ایک ایتھلیٹ ہے۔ ہر کھلاڑی کے اچھے اور برے دن آتے ہیں۔ اس شخص نے مسلسل خود کو بہتر بنانے کے لیے محنت کی ہے، آج اس کا دن اچھا نہیں تھا۔ امید ہے کہ وہ اس سے نکل کر دوبارہ مضبوط واپسی کرے گا۔‘
Arshad... What have you done to yourself.
— Faizan Lakhani (@faizanlakhani) July 31, 2026
دوسری جانب شفیق نامی صارف نے ارشد ندیم اور انڈیا کے نیرج چوپڑا دونوں کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ اپنی ٹکٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’ارشد اور چوپڑا جیسے دو بڑے حریفوں کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ پر 90 پاؤنڈ خرچ کیے، لیکن یہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کہ ان کی تھرو کتنی خراب رہی۔’
Athletes cannot remain victorious forever …. Arshad has passed his peak age, what he has done for Pakistan Athletics is a landmark achievement will always be proud of him … Jeeto ya Haroo Humein Tum se piyaar hai #ArshadNadeem https://t.co/wLW2ssOwLf
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) August 1, 2026
ایک اور صارف علیزے نے تبصرہ کیا، ’شہرت ان پر حاوی ہو گئی، وہ اسے سنبھال نہیں سکے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ارشد ندیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا، ’ایتھلیٹس ہمیشہ فاتح نہیں رہ سکتے۔ ارشد اپنی عروج کی عمر گزار چکے ہیں، لیکن پاکستان ایتھلیٹکس کے لیے انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ ایک تاریخی کامیابی ہے۔ ہمیں ان پر ہمیشہ فخر رہے گا۔ جیتو یا ہارو، ہمیں تم پر فخر ہے۔‘
ارشد ندیم نے فائنل میں 12 کھلاڑیوں کے درمیان نویں پوزیشن حاصل کی۔ ان کی بہترین تھرو 77.41 میٹر رہی، جبکہ تین کوششوں میں سے ایک فاؤل قرار دی گئی۔ ان کی آخری تھرو 75.39 میٹر تھی، جو انہیں ٹاپ آٹھ میں شامل کرنے کے لیے کافی نہ ہو سکی۔