جنوبی وزیرستان میں پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ گذشتہ روز ایک بم دھماکے میں زخمی ہونے والے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سینیئر رہنما مولانا سلطان محمد وزیر ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
جمعے کو وانا بازار میں مولانا سلطان محمد مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد گھر جا رہے تھے کہ راستے میں سڑک کنارے نصب (آئی ای ڈی) مواد پھٹنے پر زخمی ہو گئے۔
بعد ازاں انہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا، جہاں آج وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے۔
پولیس سٹیشن وانا کے ایس ایچ او اللہ نواز کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ’محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ اعتدال پسند، پرامن اور جمہوری فکر پر حملہ ہے۔‘
مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق ’باجوڑکے بعد جنوبی وزیرستان جیسے گہرے مذہبی تشخص کے حامل خطے میں حریت پسند اور امن کے داعی علما کو پے در پے نشانہ بنایا جانا تشویش ناک سلسلہ ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مولانا فضل الرحمٰن کے مطابق چھ ماہ قبل جے یوآئی - جنوبی وزیرستان کے ضلعی امیر مولانا عبداللہ ندیم وانا میں بم دھماکے کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئے تھے اور تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اس سے قبل ضلعی امیر مولانا مرزا جان بھی وانا ہی میں ایک دہشت گرد حملے میں جان سے گئے تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ’ایسے علما کا واحد جرم یہ ہے کہ وہ بندوق کی بجائے دلیل، نفرت کی بجائے محبت اور انتشار کی بجائے امن کے داعی ہے۔
’جے یو آئی ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار اور آئینی بلادستی کے کے لیے اپنی جدوجہد استقامت کے ساتھ جاری رکھے گئی، چاہے اس راہ میں کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پریں۔‘