امریکہ، ایران جنگ بندی میں توسیع پر اسلام آباد معاہدے کے تحت اتفاق ہوگیا ہے: پاکستان

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد 17 جون کو امریکہ اور ایران کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اگلے 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

22 جون 2026 کو اسلام آباد کی ایک سڑک پر نصب برقی بورڈ کے قریب سے ایک موٹر سائیکل سوار گزر رہا ہے، جس پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی تصاویر آویزاں ہیں (عامر قریشی/اے ایف پی)

ایک اعلی پاکستانی عہدیدار نے جو ایران امریکہ مذاکرات سے آگاہ ہے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے۔

پیر کو پاکستانی حکومت کے اس اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے مابین 60 روز قبل ہونے والے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔‘

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے مستقبل اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال پائی جا رہی تھی۔ یہ مدت آج ہی ختم ہوئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر اہلکار نے آخری تاریخ سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان صورت حال کو جامد قرار دیا تھا۔ دوسری جانب ایرانی مذاکرات کاروں نے بھی اشارہ دیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جون میں فرانس میں دستخط کیے جانے والے معاہدے کو بحال کرنے کی بات چیت میں دونوں ممالک ڈیڈ لاک کا شکار ہیں۔

تنازعے کے اہم نکات میں ایرانی مالیاتی اثاثوں کو منجمد کرنے کی حیثیت اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کے آپریشنز شامل ہیں۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد 17 جون کو امریکہ اور ایران کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع ختم کرنے کے لیے اگلے 60 روز کے اندر حتمی معاہدہ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

اس پیش رفت سے یہ امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ فروری میں شروع ہونے والی لڑائی کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکے گا، لیکن اس تنازع کے باعث خلیج میں تیل اور گیس کی عالمی منڈیوں کے ساتھ ساتھ سمندری آمدورفت بھی شدید متاثر ہوتی نظر آئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں مجموعی طور پر 14 نکات شامل تھے، جن کا بنیادی مقصد فوجی کارروائیاں روکنا تھا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی صورت حال، امریکی بحری ناکہ بندی، ایران پر عائد پابندیاں، ایرانی جوہری پروگرام اور منجمد اثاثوں جیسے اہم معاملات پر بھی بات کی گئی تھی۔

دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ ان معاملات کی حتمی تفصیلات بعد میں ہونے والے جامع معاہدے میں طے کی جائیں گی۔ معاہدے میں یہ بھی طے تھا کہ 60 روز کی مدت باہمی اتفاق سے بڑھائی جاسکتی ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر کے حکام نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات شروع کیے۔ مذاکرات کو مختلف شعبوں میں تقسیم کرتے ہوئے جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی اور مستقبل میں پیدا ہونے والے تنازعات کے حل کے لیے الگ ورکنگ گروپس بنائے گئے۔

آبنائے ہرمز میں کسی نئے واقعے کو روکنے کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست رابطے کا ایک چینل بھی قائم کیا گیا۔

لیکن مذاکرات آگے بڑھنے کے ساتھ دونوں فریقین کے درمیان اختلافات بھی سامنے آتے گئے۔ واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جبکہ جولائی میں دوبارہ حملوں کے آغاز کے بعد جنگ بندی کی کوششیں مزید بڑھ گئیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان