امریکہ اور ایران میں ثالثی، مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازع کے حل کا ’واحد راستہ‘ ہے: پاکستان

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میڈیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان زیر بحث آنے والی سات شرائط ان نکات میں شامل ہیں جن پر دونوں فریق پہلے ہی (اسلام آباد) ایم او یو میں اتفاق کر چکے ہیں۔

18 جنوری، 2024 کی اس تصویر میں ایک سکیورٹی اہلکار اسلام آباد میں واقع دفتر خارجہ کے باہر پہرہ دے رہا ہے (اے ایف پی)

پاکستان نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی مذاکرات، بات چیت اور سفارت کاری کا خیرمقدم کرتا ہے کیونکہ اس کے خیال میں یہی دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کے حل کا واحد راستہ ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ سجاد علی خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان نے کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) طے کرانے میں کامیاب رہا۔

پاکستان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی حکام نے بدھ کو اشارہ دیا تھا کہ انہیں سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کی اُس حالیہ تجویز پر امریکہ کا باضابطہ جواب موصول ہو گیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض چند دن قبل اعلانیہ طور پر مسترد کر دیا تھا۔

حکام نے یہ نہیں بتایا کہ اس جواب میں کیا ہے اور آیا ایرانی تجویز کو مسترد کیا گیا یا نہیں؟

انڈہینڈنٹ اردو کی نامہ نگار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ میڈیا میں امریکہ اور ایران کے درمیان زیر بحث آنے والی سات شرائط ان نکات میں شامل ہیں جن پر دونوں فریق پہلے ہی (اسلام آباد) ایم او یو میں اتفاق کر چکے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ ایم او یو دونوں فریقوں کے درمیان تنازع کے حل کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بحران پیدا ہوا۔ بعد ازاں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی، جس کا اثر عالمی معیشت پر پڑا اور مختلف ملکوں میں تیل کی قیمتیں اور مہنگائی بڑھ گئی۔

مسائل حل کرنے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی کے لیے مفاہمتی یاداست پر دستخط بھی کیے لیکن سات ماہ میں دونوں ملکوں کے درمیان کوئی ٹھوس اور واضح معاہدہ نہیں ہو سکا۔

عباس عراقچی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہوں نے ایک ہفتے کے اندر آبنائے کھولنے کی تجویز پیش کی تھی بشرطیکہ امریکہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں اٹھانے پر رضامند ہو جائے۔

ٹرمپ نے فوری طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیوں کہ وہ ’بہت بری طرح ہار رہا ہے‘ لیکن اس کی پیشکش ’قابل قبول نہیں ہوگی۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی