پاکستان کے ایک ایوی ایشن عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے تناظر میں ایرانی پروازوں یا بینکنگ کی بندش سے متعلق تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
ایوی ایشن عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے کیا جائے گا، جس پر عمل درآمد پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (پی سی اے اے) کرے گی۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’ایران کی دو فضائی کمپنیاں پاکستان پروازیں چلاتی ہیں۔‘
ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کے نمائندے فرحان علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں ’اس معاملے کے بارے میں ہیڈ آفس کی جانب سے ابھی تک کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں، اس لیے وہ اس وقت مزید کوئی معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔‘
اس سے قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کو ’معاشی طور پر تنہا‘ کرنے کے لیے دنیا بھر میں سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد ممالک نے ایرانی ایئرلائنز اور بینکوں کے خلاف پابندیوں کا نفاذ شروع کر دیا ہے۔
تاہم پاکستان نے کسی امریکی اہلکار کی اس مقصد کے لیے آمد یا درخواست موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اس معاملے پر وفاقی وزیر برائے ہوا بازی (اور وزیر دفاع) خواجہ آصف سے اور وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ سے بھی ممکنہ امریکی پابندیوں اور پاکستان میں ایرانی ایئرلائنز کے آپریشن پر حکومت کے مؤقف کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم رپورٹ کی تیاری تک دونوں جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان سے بھی اس حوالے سے رابطہ کیا گیا اور یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ اگر ایرانی ایئرلائنز پر پابندیوں کے باعث پاکستان سے ایران جانے والی پروازیں متاثر ہوئیں تو زائرین کے سفر پر کیا اثر پڑے گا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’اس کے متعلق آپ کو ہوا بازی کے حکام سے رابطہ کرنا چاہیے۔‘
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’امریکی ٹیموں کو مختلف ممالک میں بھیجا گیا تاکہ انہیں ایرانی حکومت کے خلاف اقدامات پر آمادہ کیا جا سکے۔‘
ان کے مطابق ترکی اور عمان نے ایرانی نجی فضائی کمپنی ماہان ایئر کی پروازیں روک دی ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات نے تمام ایرانی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی مہم کے تحت مختلف ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ایرانی ایئرلائنز اور مالیاتی اداروں کے خلاف اقدامات کریں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی اسنا کے مطابق ’آذربائیجان، جارجیا، عراق، عمان اور متحدہ عرب امارات بھی ایران کی پروازوں کے اجازت نامے منسوخ کر چکے ہیں۔ تاہم ایران کی قومی ایئرلائن ایران ایئر اور ماہان ایئر کے ذریعے چین اور روس کے لیے پروازیں بدستور جاری ہیں۔‘
اسنا کے مطابق افغانستان، آرمینیا، بیلاروس، ملائیشیا، پاکستان اور تاجکستان کے لیے بھی ایرانی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔
پاکستان سے ایران جانے والے زائرین کے لیے فضائی رابطہ اہم ہے جبکہ ایران کا سفر بعض زائرین کے لیے عراق کے مقابلے میں نسبتاً کم لاگت والا آپشن بھی سمجھا جاتا ہے۔ پابندیوں کی صورت میں پروازوں، ٹکٹوں، سفری اخراجات اور ٹریول ایجنسیوں کے کاروبار پر اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
اسلام آباد کے ٹریول ایجنٹ شاہان عباس کے مطابق ’اگر ایرانی ایئرلائن سے متعلق پابندیوں کا اثر پاکستان تک پہنچتا ہے تو اس سے ٹریول ایجنسیوں کا کاروبار متاثر ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی ٹریول ایجنٹس ان کی طرح کروڑوں روپوں کے ٹکٹس پہلے ہی ایڈوانس خرید چکے ہے۔ اگر یہ پابندی لگتی ہے تو ان کو کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق کسی بھی اچانک پابندی کی صورت میں کاروباری نقصان کا خدشہ موجود ہے۔‘
شاہان عباس کے مطابق ’یہ بھی واضح نہیں کہ اگر امریکہ نے ایرانی ایئرلائنز کے بعد زائرین کے سفری انتظامات سے متعلق مزید اقدامات کیے تو اس کے اثرات کس حد تک جائیں گے۔‘
امریکی وزیر خزانہ نے ایرانی بینکوں پر پابندیوں کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’متحدہ عرب امارات نے ایران کے بینک ملی کی مقامی شاخوں کے ذریعے لین دین روک دیا ہے جبکہ ترکی نے بھی بینک ملت کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔‘
دوسری جانب عراق نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر بعض ہوائی اڈوں کو پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیونکہ ایرانی پروازوں کی بندش سے مریضوں، طلبہ اور زائرین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر واشنگٹن سے براہ راست بات چیت جاری ہے۔
اس ہفتے عراق کے تمام ہوائی اڈوں نے ایرانی ایئرلائنز پر عائد امریکی پابندیوں پر عمل درآمد شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں نجف ایئرپورٹ پر شدید مشکلات پیدا ہوئیں۔ نجف عراق میں ایرانی پروازوں کی سب سے بڑی منزل تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ہر سال بڑی تعداد میں زائرین اسی راستے سے سفر کرتے ہیں۔
عراقی وزیراعظم کے میڈیا آفس نے ہفتے کو بتایا کہ حکومت بعض عراقی ہوائی اڈوں کو ان پابندیوں سے استثنا دلوانے کے لیے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اگر استثنا مل جاتا ہے تو انسانی بنیادوں پر پروازیں بحال کی جا سکیں گی، جن میں علاج، تعلیم، مذہبی زیارات اور عام شہریوں کی سفری ضروریات شامل ہیں۔
خلیجی ممالک کے لیے فضائی سفر کے مقابلے میں پاکستان اور ایران کے درمیان فضائی مسافروں کی آمدورفت نسبتاً محدود ہے۔
اے ایف پی سے گفتگو کرنے والے متعدد عراقیوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے نفاذ نے انہیں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ بعض افراد کو خدشہ ہے کہ وہ ایران میں علاج کی سہولت سے محروم ہو جائیں گے، جبکہ کچھ مسافر ایران میں پھنس گئے ہیں اور انہیں وطن واپسی کے لیے 12 گھنٹے سے زیادہ طویل زمینی سفر کرنا پڑ رہا ہے۔
اس سے قبل اس سال مئی میں پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ’پاکستان نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو ممکنہ طور پر امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑے رکھنے کی اجازت دی۔‘
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ’ایران نے کچھ سویلین طیارے ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی پارک کیے۔‘
دفتر خارجہ نے منگل کی صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس نوعیت کی قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیے بظاہر خطے میں استحکام اور امن کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچانے کے لیے گھڑے جا رہے ہیں۔‘
امریکی حکام، جنہوں نے قومی سلامتی کے معاملات پر بات کرنے کے لیے شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اپریل کے اوائل میں ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند دن بعد ’تہران نے متعدد طیارے پاکستان ایئر فورس بیس نور خان بھیجے۔ یہ ایک نہایت اہم فوجی تنصیب ہے جو راولپنڈی کے گیریژن شہر کے قریب واقع ہے۔‘
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’ان فوجی سازوسامان میں ایرانی فضائیہ کا ایک RC-130 طیارہ بھی شامل تھا، جو لاک ہیڈ C-130 Hercules ٹیکٹیکل ٹرانسپورٹ طیارے کا جاسوسی اور انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے والا ماڈل ہے۔‘
امریکی پابندیوں کے ممکنہ دائرہ کار، ایرانی ایئرلائنز کے پاکستان میں آپریشن اور زائرین کے سفر کے حوالے سے فی الحال صورت حال واضح نہیں، تاہم اگر پابندیوں کا اثر پاکستان تک پہنچا تو اس کے اثرات صرف ایئرلائنز تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زائرین، ٹریول ایجنٹس اور فضائی رابطے سے وابستہ کاروبار بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔