حکومت نے رابطہ کیا تو بات چیت کے لیے تیار ہیں: بیرسٹر گوہر 

بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے تمام تحفظات مشیران کے سامنے رکھے ہیں اور پارٹی اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نو اگست، 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے جمعرات کو کہا کہ حکومت کی جانب سے پارٹی سے اب تک باضابطہ طور پر کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، تاہم اگر حکومت رابطہ کرتی ہے تو وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اہم اجلاس میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ اور حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات پر مشاورت کی گئی۔

 اجلاس کے بعد بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ہم نے آج کے اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے میٹنگ کی ہے، اس کے ساتھ ساتھ گورنر راج یا ایمرجنسی لگانے کی خبر آرہی ہے، اس پر بھی غور کیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وفاق اس وقت مضبوط ہوتا ہے جب صوبے خودمختار ہوں اور اگر عوام کی مرضی کے خلاف کچھ کیا گیا تو وفاق کمزور ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

بیرسٹر گوہر کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے تمام تحفظات مشیران کے سامنے رکھے ہیں اور پارٹی اب بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

 انہوں نے کہا کہ ’ہمارے ساتھ باضابطہ طور پر حکومت نے رابطہ نہیں کیا، اگر ہمارے ساتھ رابطہ ہوتا ہے تو ضرور بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی اور پارٹی کا احتجاج پرامن ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ’ریاست کے ساتھ کھڑی رہی اور پاکستان کے ساتھ کھڑی رہی‘ لیکن ’آواز دبائی جاتی رہی اور ہمیں نہیں سنا گیا۔‘

بیرسٹر گوہر نے تحریک انصاف کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں کو جیل میں رکھنے اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے پاس ہم گئے، آرڈر پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ جہاں ہم جاتے ہیں، ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے۔‘

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آزاد اور منصفانہ انتخابات سمیت اپنے مطالبات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ہمارا ملک ہے، سب سے پہلے پاکستان اور اس کا امن و امان ہے۔‘

دوسری جانب اجلاس کے بعد سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے سیاسی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’کبھی بھی جمہوری حکومت فاشسٹ نہیں ہو سکتی، عوام سے محبت سے بات کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو امن و امان اور معاشی مسائل سمیت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ ان کے بقول ’عدلیہ، سسٹم اور دیگر نظام کولپس کر گیا ہے۔‘

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ’گولی کے ذریعے امن نہیں آسکتا‘ اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’پرامن مارچ کو ہم سپورٹ کریں گے۔

 ان کے مطابق حکومت نے پہلے ہی راستے بند کر دیے اور سڑکوں پر کیلیں لگا دی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’ہمارا پرامن احتجاج ہوگا، اسے غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔ جو ہمیں مارنے آئے گا ہم اسے بھی پھولوں کا ہار ڈالیں گے۔

 راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو بات چیت کی طرف بڑھنا چاہیے اور پاکستان کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے بانی چیئرمین عمران خان تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چل سکتے ہیں اور سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان سمیت تمام اکائیوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔ 

جبکہ دوسری طرف پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت خیبر پختنخواہ  میں ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کررہی ہے۔

 فضل چوہدری نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت کا تحفظ یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے،ایمر جنسی کی وجہ لانگ مارچ نہیں سیکیورٹی ایشوز ہیں، پیپلز پارٹی سیکیورٹی معاملات پر حکومت کے ساتھ تعاون کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں دہشت گردی اور امن وامان کی صورت حال پر تشویش ہے، کے پی حکومت کا وفاق کے ساتھ عدم تعاون ہے وہاں دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست