افغانستان میں فضائی حملوں میں 22 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان

افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی بمباری میں نو شہری جان سے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

طالبان سکیورٹی اہلکار 24 ستمبر 2026 کو افغان صوبہ خوست کے ضلع گربز میں پاکستانی فضائی حملے کے بعد جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

پاکستانی نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس کی سکیورٹی فورسز نے افغانستان میں دو مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 22 عسکریت پسند مارے گئے جبکہ افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حملوں میں نو شہری جان سے گئے۔

یہ حملے دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار بار بار ہونے والی جھڑپوں کے دوران کیے گئے ہیں۔ رواں سال کے آغاز میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں ڈرامائی اضافے کے بعد پاکستان افغانستان کے اندر بارہا فضائی حملے کر چکا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پر عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے معاملے پر طویل عرصے سے تنازعات موجود ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ اطلاعات نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے آپریشن غضب لِلحق کے تحت ’قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور ان کے اتحادیوں سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو منتخب کرکے انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔‘

مزید کہا گیا کہ ’ابتدائی اطلاعات کے مطابق 22 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ان ٹھکانوں میں ذخیرہ کیا گیا بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ کر دیا گیا۔‘

دوسری جانب افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی گئی بمباری میں نو عام شہری جان سے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ مزید 11 افراد زخمی بھی ہوئے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر لکھا: ’ان حملوں میں افغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں تین مکانات تباہ ہوئے۔‘

ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا: ’ہم اس اقدام کو جارحیت اور تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے گئے جرم کے طور پر مذمت کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ان عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتا ہے جو افغانستان سے پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ افغانستان عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کی تردید کرتا ہے۔

پاکستانی طالبان، جنہیں باضابطہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کہا جاتا ہے، نے 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی سکیورٹی فورسز پر حملوں میں اضافہ کیا ہے۔

پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں اور انہیں افغان طالبان اور انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

وزارت اطلاعات نے ملک میں ہونے والی حالیہ عسکریت پسندی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’پاکستان کو لاحق خطرہ افغانستان سے جنم لے رہا ہے۔ اسی تناظر میں ہماری کارروائی میں دہشت گردوں کے مراکز کو درست طور پر نشانہ بنایا گیا۔ زیادہ سے زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ کوئی ضمنی نقصان نہ ہو۔‘

مزید کہا گیا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت جاری دہشت گردی کے خلاف ہماری مسلسل مہم ’غضب لِلحق‘ پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان