خیبرپختونخوا میں متعدد کارروائیاں، 21 عسکریت پسند مارے گئے: فوج

پاکستانی فوج نے اتوار کو بتایا ہے کہ تین سے پانچ ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں ہونے والی متعدد کارروائیوں میں ’انڈین سرپرستی‘ میں سرگرم 21 عسکریت پسند مارے گئے۔

ایک پاکستانی فوجی 18 اکتوبر 2017 کو ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈہ میں افغان صوبے پکتیکا سے ملحقہ سرحد پر نئی نصب کی گئی باڑ کے ساتھ پہرہ دے رہا ہے (عامر قریشی/ اے ایف پی)

پاکستانی فوج نے اتوار کو بتایا ہے کہ تین سے پانچ ستمبر کے دوران خیبر پختونخوا میں ہونے والی متعدد کارروائیوں میں ’انڈین سرپرستی‘ میں سرگرم ’فتنہ الخوارج‘ کے 21 عسکریت پسند مارے گئے۔

’فتنہ الخوارج‘ کی اصطلاح پاکستانی حکومت اور فوج کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتی ہے، جن کے بارے میں اسلام آباد کا موقف ہے کہ ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے اور انہیں انڈیا کی سرپرستی حاصل ہے۔ تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب افغانستان سے متصل صوبے خیبرپختونخوا میں عسکریت پسندی میں اضافہ ہوا ہے، جہاں حالیہ مہینوں کے دوران عسکریت پسند گروہوں نے سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنایا ہے، جن میں متعدد اموات ہوئی ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں۔ 

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے اتوار کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان افغان سرحد کے ساتھ پیش آنے والے یہ مسلسل واقعات ایک بار پھر افغان طالبان حکومت کی اس ناکامی کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اپنی سرپرستی میں دہشت گرد تنظیم کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔ ‘

مزید کہا گیا کہ ’افغان طالبان حکومت مؤثر سرحدی انتظام کو یقینی بنانے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’پاکستان کی سکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے اپنے عزم پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں۔ علاقے میں موجود دیگر انڈین سرپرستی میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے علاقے کو کلیئر کرنے کی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ وفاقی ایپکس کمیٹی برائے قومی ایکشن پلان سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے جاری انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔‘

وزیر داخلہ محسن نقوی نے عسکریت پسندوں کے مارے جانے پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’سکیورٹی فورسز انڈین سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔‘

آئی ایس پی آر اور وزیر داخلہ کے اس بیان پر نئی دہلی کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب رواں ہفتے ہی پاکستانی فوج نے کہا تھا کہ  31 اگست اور یکم ستمبر 2026 کی درمیانی شب، سکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان میں پاکستان افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 15 عسکریت پسندوں کو مار دیا تھا۔

اتوار کو جاری بیان میں آئی ایس پی آر نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں مزید عسکریت پسندوں کو بھی مار دیا گیا، جس کے بعد اس ضلع میں دراندازی کی کوشش میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی مجموعی تعداد 25 ہوگئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان