سراج حقانی کی عسکریت پسندی کے خلاف پاک افغان رابطہ میکانزم کی تجویز

افغان وزیر داخلہ کے مطابق عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے بعد ان کے خلاف اقدامات اٹھانا طالبان اہلکاروں کی ذمہ داری ہو گی۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی یکم فروری، 2023 کو کابل میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی/ ولی کوہسار)

افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں روکنے اور ان کی نگرانی کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطہ کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

کابل میں گذشتہ دنوں ایک خصوصی ملاقات میں افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شیئر کرنے کے بعد ان کے خلاف اقدامات اٹھانا طالبان اہلکاروں کی ذمہ داری ہو گی۔

انہوں نے کہا طالبان امیر ہبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایات کی روشنی میں بنائی گئی نئی سرکاری پالیسی کے تحت افغانستان میں کسی بھی غیر ملکی مسلح گروپ کے اراکین کا ایک سے دوسری جگہ اور سرحدوں تک جانے پر مکمل پابندی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

سراج الدین حقانی افغان طالبان تحریک کے نائب امیر بھی ہیں۔ وہ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیر داخلہ ہیں۔

وہ جلال الدین حقانی کے بیٹے ہیں، جنہوں نے 1970 کی دہائی میں حقانی نیٹ ورک قائم کیا تھا۔ سراج الدین حقانی بعد میں اس طاقت ور عسکری نیٹ ورک کے سربراہ بنے۔

سراج الدین حقانی سے، جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران پاکسانی طالبان اور ریاستی اداروں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب پوچھا گیا کہ پاکستان کو شکایت ہے کہ طالبان حکومت پاکستانی عسکریت پسند گروپوں کے خلاف عملی اقدامات سے انکار کرتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’میں نے پاکستان کو اس لیے کمیٹیاں بنانے کی تجویز دی ہے۔ اس معاملے پر ایک مفاہمت کی ضرورت ہے تاکہ اعتماد کی فضا پیدا ہو۔

’مسائل کے حل کے لیے ایک میکنزم بنانے کی ضرورت ہے تاکہ آگے جایا جاسکے۔‘  البتہ انہوں نے کہا ان کی اس تجویز پر پاکستان کے جواب کا انتظار ہے۔

پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے درمیان افغانستان میں مذاکرات فریقین کی سخت شرائط کی وجہ سے ناکام ہوگئے تھے۔

عمران خان حکومت کے خاتمے کے بعد اسلام آباد نے مذاکرات کی پالیسی ختم کرکے ان گروہوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ یہ پالیسی اب بھی جاری ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے حکومت میں آنے کے بعد پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغان سرزمین سے ہوتی ہے۔

افغان طالبان پاکستان کے موقف مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ کسی کو اپنی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔ وہ اسے پاکستان کا داخلی مسئلہ بھی قرار دیتے ہیں۔

 پاکستان میں وزیر اعظم سے لے کر افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی نے افغان طالبان سے بار بار کہا ہے کہ وہ پاکستان یا کالعدم ٹی ٹی پی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے۔

پاکستانی اور افغان حکام سے رابطوں کے دوران معلوم ہوا  کہ چین کے شہر ارومچی میں اس سال اپریل کے پہلے ہفتے میں چین کی ثالثی سے ہونے والے طالبان اور پاکستانی حکام کے درمیان مذاکرات میں اسلام آباد نے ان گروہوں سے نمٹنے کے لیے ایک میکنزم کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کا مزید اصرار ہے کہ افغان طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کے خلاف ’قابل تصدیق‘ اقدامات اٹھائے جن میں ان کو غیرمسلح کرنا یا مارنا، پاکستان کے حوالے کرنا، ان کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنا اور سرحدی علاقوں سے دور رکھنا شامل ہیں۔

’خلیفہ‘ کے نام سے بھی یاد کیے جانے والے سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغان حکومت نے اپنے وسائل سے پاکستانی گروپس اور ان کے خاندانوں کے لیے سرحدی علاقوں سے دور دو ہزار مکان بنائے ہیں۔

انہوں نے کہا غیر ملکی عسکریت پسند ایک جنگجو کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک عام پناہ گزین کی حیثیت سے افغانستان میں زندگی گزار سکتے ہیں۔

’اگر کوئی مسلح نقل وحرکت کرے گا تو گرفتار ہو گا اور ان کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سرحدیں کنٹرول ہوں گی اور کوئی ان سے گزر نہیں سکے گا۔ کنٹرول کی میں ذمہ داری لیتا ہوں۔‘

اس سے پہلے افغان طالبان نے کہا تھا کہ پاکستانی گروپس کا ساتھ دینے پر سینکڑوں افغان طالبان کو گرفتار اور عدالتوں سے انہیں سزائیں بھی دلوائی گئی تھیں۔

افغان طالبان کے دارالافتا نے، جن ان کا ایک مذہبی و فقہی ادارہ ہے جو شریعت سے متعلق سوالات پر فتویٰ اور شرعی آرا جاری کرتا ہے، 2023 میں اور گذشتہ سال کابل میں تقریباً ایک ہزار علما نے افغانستان سے باہر جنگ کے لیے جانے والوں کو امیر کا حکم نہ ماننے کی وجہ سے باغی قرار دیا تھا۔ 

 پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت دوطرفہ تعلقات میں ’سفارتی جمود‘ موجود ہے۔ حالیہ برسوں میں ثالثی کی تمام کوششیں موثر ثابت نہیں ہو سکیں۔

چین کے افغانستان کے لیے نمائندے خصوصی نے اگست میں اسلام آباد اور کابل کے دورے میں ’ارومچی پراسیں‘ کی دوسری نشست کی تجویز پیش کی تھی لیکن اس کے لیے بظاہر نہ تو طالبان اور نہ پاکستان تیار ہوئے۔

ثالثی سے متعلق ایک سوال پر افغان وزیر داخلہ نے کہا کہ دوطرفہ مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔

دونوں ہمسائہ ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے مشترکہ سرحد بھی 10 ماہ سے بند ہے۔

سراج الدین حقانی نے کہا کہ ان کی حکومت نے ایک دوسری کمیٹی بنانے کی تجویز بھی پیش کی ہے تاکہ تجارت میں مشکلات کے حل، ٹرانزٹ کی بحالی اور راستے دوبارہ کھولنے سے متعلق مشورے کیے جاسکیں کیونکہ راستوں کی بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں کو شدید مالی نقصان پہنچایا ہے۔

’یہ کمیٹی پناہ گزینوں کی مشکلات دور کرنے کے لیے بھی کام کرے گی۔‘

اس کے علاوہ پانچ ماہ سے پاکستان نے افغان باشندوں کے لیے ویزے بھی بند کر رکھے ہیں۔

اسلام آباد میں افغان طلبہ یونین کے صدر صدیق شریعتی کے مطابق 15 ماہ سے افغان طلبہ وطالبات کے ویزوں میں توسیع نہیں ہو رہی، جس نے ان کا تعلمی عمل رکا ہوا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں طبی تعلیم حاصل کرنے والے افغان ڈاکٹرز کا بھی کہنا ہے کہ ان کے ویزوں میں توسیع نہیں ہو رہی۔

جب سراج الدین حقانی سے پاکستان کے اس الزام کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ افغان طالبان پاکستانی عسکریت پسندوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں تو انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان سے ثبوت مانگے۔

ان کا کہنا تھا ’افغانستان میں بھی اب یہ بحث عام ہے کہ افغان طالبان کے مسلح مخالفین پاکستان میں موجود ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ہم افغانستان میں غیر ملکیوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ مانتے ہیں اور یہ یقین دہانی بھی کرتے ہیں کہ کوئی بھی افغانستان سے پاکستان داخل نہیں ہوسکے گا۔

’اگر پاکستان ہمیں کنڑ یا دیگر علاقوں سے مسلح افراد کے داخل ہونے کے ثبوت فراہم کرے تو ان کو منع کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

’ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان نے باڑ لگائی ہے۔ پاکستان کے پاس بہت وسائل ہیں تو اپنے علاقوں میں اقدامات اٹھائے اور ہمارے ساتھ اس کام کے لیے رابطہ اور ہم آہنگی ضروری ہے۔‘

سراج الدین حقانی کا اسلام آباد کے اس موقف کے بارے میں کہ پاکستانی عسکریت پسندوں اور افغانستان کے ساتھ جنگ ایک ہے، کہنا تھا ’ہم اس موقف سے متفق نہیں۔‘

پاکستانی عسکریت پسندوں کو روکنے کے لیے نظام

کابل میں قابل اعتماد ذرائع کا کہنا تھا کہ وزارت داخلہ، انٹیلی جنس ادارے جی ڈی آئی اور وزارت دفاع نے ایک مشترکہ کمیٹی بنائی ہے جس کو چیک پوائنٹس پر پاکستانی عسکریت پسندوں کو روکنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان چیک پوائنٹس پر اگر کوئی پاکستانی طالبان مسلح آتا ہے تو ان کو تحقیقات کے لیے حراست میں لیا جائے گا اور اس سے اسلحہ لے لیا جائے گا۔    

پاکستان کا موقف

ایک پاکستانی عہدے دار سے افغان طالبان کے اقدامات سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے جو افغان طالبان کو معلوم ہے۔

نام نہ بتانے کی شرط پر پاکستانی عہدے دار نے کہا کہ جب تک افغان طالبان پاکستانی گروپس کے خلاف عملی اقدامات نہیں اٹھاتے تعلقات معمول پر نہیں آسکتے۔

’ہم نے افغان طرف سے ان اقدامات کے لیے ایک روڈ میپ کا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ماہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف کیا اقدامات اٹھائیں گے؟

’ہم صرف بیانات سے مطمئن نہیں ہوں گے اور ہم نے ثالثوں کو بھی طالبان کے لیے یہ پیغام دیا ہے۔‘

سراج الدین حقانی کی رابطہ کمیٹیوں کی تجویز کتنی قابل عمل اور پاکستان کے لیے قابل قبول ہے یہ ابھی واضح نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا