سراج الدین حقانی کا مبینہ پاکستانی پاسپورٹ، انکوائری جاری ہے: وزیر داخلہ

نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کے مطابق معاملے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی متعلقہ تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔

طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی پانچ اکتوبر، 2023 کو کابل میں پولیس اکیڈمی میں گریجویشن کی تقریب میں شریک ہیں (اے ایف پی/ وکیل کوہسار)

پاکستان کے نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے جمعے کو افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے مبینہ طور پر پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرنے سے متعلق خبروں پر کہا کہ ’معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور انکوائری ہونے تک اور کسی کو convict کرنے کے بعد ہی متعلقہ تفصیلات شیئر کی جائیں گی۔‘

سرفراز بگٹی نے آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سراج الدین حقانی سے متعلق انڈپینڈنٹ اردو کے ایک سوال پر مزید کہا کہ ’احتساب کا اپنا طریقہ ہوتا ہے، یہ احتساب کا فورم نہیں۔

’جب احتساب و انکوائری ہو جائے اور ہم کسی کو convict کرنے تک پہنچ جائیں۔ یہ انفارمیشن شیئر کرنے کا درست وقت نہیں، تمام تحقیقات ہونے کے بعد تفصیلات شئیر کر لی جائیں گی۔‘

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ سے بھی موقف جاننے کی کوشش کی لیکن اس خبر کی اشاعت تک ان کا جواب موصول نہیں ہوا۔ 

جمعرات کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ممتاز زہرہ نے سراج الدین حقانی کے پاکستانی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے دوحہ مزاکرات میں شمولیت اختیار کرنے سمیت دیگر دوروں سے متعلق سوال پر کہا تھا کہ ’میں نے ابھی یہ رپورٹ دیکھی ہے، میرے پاس آپ کے سوال کا جواب دینے کے لیے حقائق نہیں۔

’جب میرے پاس مزید معلومات ہوں گی تو شاید میں کسی اور موقعے پر بات کر سکوں گی۔‘

نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے جمعے کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اس معاملے پر بیان دے دیا ہے۔

اس سوال پر کہ کن لوگوں کی جانب سے پاسپورٹ کا اجرا کیا گیا؟ وزیر اطلاعات نے جواب دیا کہ جو بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

’غیر ملکیوں کو سیاست کرنے پر ملک بدر کیا جائے گا‘

آج پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاست کا حق پاکستانیوں کو ہے اور کوئی غیر ملکی کسی بھی دستاویز پر آیا ہو سیاسی سرگرمی پر ملک بدر کر دیا جائے گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 10 کے قریب غیر ملکیوں کے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی جنہیں ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے۔

سرفراز بگٹی کے مطابق پاکستان میں مقیم 90 فیصد غیر ملکی (تقریباً چار لاکھ) خود ہی واپس جا چکے ہیں۔ ’غیر ملکیوں کی واپسی کے دوران ایک کیس بھی خواتین یا بچوں کو ہراساں کرنے کا سامنے نہیں آیا۔‘

انہوں نے کہا: ’پاکستان نے ایک دن ہارڈ سٹیٹ بننا ہے کب تک ہم سافٹ ریاست رہیں گے؟‘

’سیاسی قیادت کو خطرہ ہے‘

سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ سیاسی قیادت کو عمومی خطرہ ہے، سیاسی رہنما جلسے جلوسوں میں شہریوں کے درمیان آتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے پر روک بھی نہیں سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’ماضی میں پاکستان میں متعدد سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے دھمکی ملی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وزرات داخلہ کی ڈومین پیراملٹری فورس ہے۔ وزرات داخلہ کی پیرا ملٹری فورس الیکشن میں سکیورٹی فراہم کرے گی، جہاں تک فوج کا تعلق ہے تو اس حوالے سے وزارت دفاع فیصلہ کرے گی۔‘

’نادرا کو صحیح معنوں میں قومی سلامتی کا ادارہ بننا ہے‘

نگران وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسے شخص کی ضرورت تھی جن کا آئی ٹی کا بھی تجربہ ہو۔

’نادرا نیشنل سکیورٹی کا ادارہ بن چکا ہے اس لیے وہاں لیفٹیننٹ جنرل کو لگایا گیا ہے، اسے اب صحیح معنوں میں نیشنل سکیورٹی کا ادارہ بننا ہے۔ 

’پاکستان میں کب تک جس کا جی چاہے پاسپورٹ بنا لے جب دل چاہے شناختی کارڈ بنا لے۔ اس وجہ سے قانونی کام کرنے والے بھی ہمارے سسٹم پر یقین نہیں کرتے۔ شناختی چوری کے کیسز میں ملوث کرداروں کو سامنے لایا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان