آٹھ فروری کے انتخابات پر کوئی شکوک و شبہات نہیں: انوار الحق کاکڑ

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں عمران خان کی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے کہا کہ ابھی تک تو پی ٹی آئی پرکوئی قدغن نہیں ہے۔

پاکستان کے نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ قوم کو آٹھ فروری کے عام انتخابات کے بارے میں کوئی شکوک و شبہات نہیں ہونے چاہییں۔ ’مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ یقیناً انتخابات ہوں گے اور ’خدشات بسا اوقات ہمارے سیاسی نظام کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ ہماری اپنی ایک تاریخ ہے۔ لیکن جب میں نسبتاً کہتا ہوں تو اس پر بھی مجھ پر تنقید ہوتی ہے۔ اس خطے میں فری اینڈ فیئر کا جو پیمانہ ہے، اس کے مطابق مجھے امید ہے کہ وہ (انتخابات) فری ہوں گے۔‘

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ وہ 70 کی دہائی کے عام انتخابات کو بھی کوئی پیمانہ نہیں سمجھتے ہیں۔ ’ان انتخابات کے بارے میں بھی بہت سے لوگوں کی مختلف آرا ہیں۔ یہ یقیناً ہے کہ وہ بہت زیادہ شفاف تھے۔ اس وقت انتخابات سے پہلے ہی طے ہوچکا تھا کہ انہوں نے کس طرف جانا ہے تو میں اسے ایک مسئلہ سمجھتا ہوں۔

’لیکن جو انتظامات ہیں اور مداخلت یا عدم مداخلت ہے، اس حوالے سے جو سوالات ہیں، اس پر مجھے قوی امکان اور امید ہے کہ ہم نسبتاً ایک بہتر انداز میں نتائج دے سکیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ الیکشن کمیشن کے تاخیر کے تردیدی بیان کی توثیق کرتے ہیں۔ ’انہوں (الیکشن کمیشن) نے ہی (انتخابات) کروانے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔‘  

انتخابی کمیشن کہہ چکا ہے کہ انتخابات کا شیڈول 56 روز پر محیط ہوگا، جس کے اعتبار سے 14 دسمبر تک انتخابی شیڈول کا اعلان ہو جانا چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کچھ لوگوں کے خیال میں انتخابات عمران خان کی مقبولیت میں کمی اور انتخابی عمل سے انہیں باہر کرنے سے جڑے ہیں، نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی تجزیے ہیں، مختلف لوگ مختلف آرا رکھتے ہیں۔ ’تاہم ہماری ایک واضح پوزیشن ہے، الیکشن کمیشن اعلان کرچکا ہے کہ کس رہنما کی کتنی مقبولیت ہے یا نہیں ہے۔ اس کا اندازہ انتخابات میں ہو جائے گا۔‘

عمران خان یا ان کی پارٹی کو انتخابات میں حصہ لیتے دیکھ رہے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو ان پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

’تاہم اگر کوئی غیرمعمولی چیز جس کا ہمیں آج علم نہیں ہے، آ جاتی ہے تو اس کے بارے میں میں ابھی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آج تک تو وہ (انتخاب) لڑنے کی پوزیشن میں ہیں اور وہ لڑیں گے۔‘

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں تین سال کی سزا کے بعد نااہل قرار دیا جا چکا ہے، تاہم عمران خان کی اپیل پر ان کی سزا معطل کر دی گئی تھی۔ اس مقدمے کی سماعت اب بھی جاری ہے۔ انتخابات میں حصہ لینے کی اہلیت سے متعلق اسی وجہ سے عمران خان نے اپنی جماعت کے انٹرا پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔

نگران حکومت کے دور میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گمشدگیوں، منظرعام پر آنے  اور پھر سیاست چھوڑنے کے اعلانات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اسے ’روپوش‘ کہیں گے۔ ’نو مئی کو ریاستی اداروں پر حملے ہوئے وہ انہیں پکڑنا چاہتے تھے، اس سلسلے میں کئی لوگ روپوش ہوئے۔ اس روپوشی کے دوران انہوں نے شاید کوئی سوچ بچار کی اور اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ پی ٹی آئی یا سیاست سے کنارہ کشی کر لیں۔ یہ ان کا ذاتی فیصلہ تھا، میں اس بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں۔‘

پاکستان کے نگران وزیراعظم نے مزید کہا کہ ان کے علم میں ’ریاستی زبردستی‘ کا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے لیکن ان لوگوں میں سے کسی نے ’ریاستی جبر‘ کی بات نہیں کی ہے۔ ’اس وقت تک تو یہ محض الزامات کی حد تک ہے۔‘

وہ اس تجویز سے متفق نہیں تھے کہ نو مئی کا فیصلہ عوام پر ان انتخابات میں چھوڑ دیا جائے۔ انہوں نے لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔

معیشت

انوار الحق کاکڑ نے اب تک کی ان کی حکومت کی قومی معشیت کو بہتر بنانے کی اپنی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ ان کے پاس ایک محدود مینڈیٹ ہے اور وہ اس میں رہتے ہوئے جو کام کرسکیں گے وہ کریں گے۔ ’باقی کام کا بلو پرنٹ اگلی حکومت کے لیے چھوڑ کر چلے جائیں گے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

معیشت کی بہتری کے لیے ڈالر کو قابو کرنے اور سمگلنگ روکنے کے لیے کوششیں سابق حکومت میں کیوں نہیں ہوئیں؟ کیا سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار میں کمی تھی یا مسئلہ کچھ اور تھا؟ اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کمی کے بارے میں تو کچھ نہیں کہیں گے لیکن بقول نگران وزیراعظم جو معلومات حکومتی نظام میں آ رہی ہوتی ہیں وہ بھی حالات کی درست عکاسی نہیں کرتیں۔ ’بعض پہلوؤں کو چھوٹے فائدے کے لیے نظر انداز کیا جاتا ہے۔‘

انٹرویو کے دوران قومی ایئرلائن پی آئی اے کے حوالے سے بھی بات ہوئی، جس کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ادارے کی نج کاری وہ عناصر کروانے پر تلے ہیں جو اس کے قیمتی اثاثوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اسے اونے پونے داموں خریدنا چاہتے ہیں؟ تاہم نگران وزیراعظم نے اس تاثر کو درست قرار نہیں دیا اور کہا: ’میں وزیراعظم ہوں، مجھے بتائیں کہ کون سے عناصر اس کے پیچھے ہیں۔ یہ تمام سازشی مفروضے ہیں جنہیں سناتے سناتے اور سنتے سنتے ملک کو اس نہج تک پہنچایا گیا۔ کیا یہ پی آئی اے کو خلیجی ایئرلائن سے بہتر بنا سکتے ہیں؟‘

ان کا کہنا تھا کہ نج کاری کے لیے ماہر مشیر مقرر ہوئے ہیں۔ ’یہ یونین کی سطح کی باتیں نہیں ہیں۔ بہترین طریقہ کار کو عمل میں لایا جا رہا ہے۔ وہ اس پر مشورہ دیں گے جو عالمی منڈی میں جاری رجحان کے مطابق ہوگا۔ ان کے آج سے 50 سال بعد بھی آڈٹ ہوسکیں گے۔ ایسے نہیں ہوتا۔‘

نگران وزیراعظم کا اصرار تھا کہ اگر ملازمین بہتر چلا سکتے تو آج بھی پی آئی اے ان کے پاس ہے، کیوں نہیں چل رہا؟ بقول انوار الحق کاکڑ: ان کا یہ خیال ہے کہ حکومتیں کاروبار نہیں چلا سکتی ہیں۔

نوٹ: انٹرویو کا دوسرا حصہ جس میں افغانستان اور دیگر عالمی امور پر بات چیت کی گئی وہ بھی جلد شائع کیا جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست