عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن سے کیوں دستبردار ہوئے؟

پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے بیرسٹر گوہر علی خان کو قائم مقام چیئرمین کا امیدوار بنایا ہے لیکن عمران خان اس الیکشن سے الگ کیوں ہوئے؟

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان 16 اپریل، 2015 کو اسلام آباد میں 2013 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق پہلے جوڈیشل کمیشن کی سماعت میں شرکت کے بعد سپریم کورٹ سے نکلتے ہوئے (اے ایف پی)

پاکستان میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتیں اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر چکی ہیں، لیکن اس موقعے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کروانے پڑیں گے۔

پی ٹی آئی کی سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے اعلان کیا کہ پارٹی دو دسمبر کو انٹرا پارٹی انتخاب کروانے جا رہی ہے، جس میں ان کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان قائم مقام چیئرمین کے امیدوار ہوں گے۔

علی ظفر نے ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ’کسی پارٹی کے اہم سیاسی رہنما کو اس عہدے کے لیے نامزد نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ایسا تاثر قائم نہ ہوسکے کہ مائنس ون یا پارٹی میں ’کو‘ ہو گیا ہے۔

’یہ فیصلہ عمران خان کی ہدایت پر کیا گیا تاکہ انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جا سکیں۔‘

پی ٹی آئی کے نظریاتی گروپ سے تعلق رکھنے والے اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ ’ہم صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں جس طرح وکلا کے ذریعے کارکنوں میں ابہام پیدا کیا جا رہا ہے اس کے لیے جلد لائحہ عمل دیں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ابھی الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کی مہلت دی ہے۔ جب رپورٹ جمع کروائی جائے گی ہم اس کے مطابق الیکشن کمیشن میں اپنا موقف پیش کریں گے۔‘

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق: ’تحریک انصاف نے جس طرح عارضی طور پر چیئرمین بیرسٹر گوہر کو نامزد کیا ہے وہ الیکشن کمیشن میں پارٹی بچانے کے لیے ضروری تھا۔

’مگر اس سے تحریک انصاف کی سیاست پر کوئی فرق پڑتا دکھائی نہیں دیتا کیونکہ یہاں پارٹیاں لیڈر کے گرد ہی گھومتی ہیں۔‘

انٹرا پارٹی الیکشن میں عمران خان کو دستبردار کیوں ہونا پڑا؟

علی ظفر نے اسلام آباد میں بدھ کو پریس کانفرنس میں کہا کہ ’توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو الیکشن کمیشن نے کیونکہ نااہل قرار دیا تھا اور دیگر کیس بھی ان کے خلاف زیر سماعت ہیں لہٰذا ہم نہیں چاہتے کہ انٹرا پارٹی انتخاب لڑنے سے ان پر کوئی اعتراض کیا جائے۔

’اس لیے انہی کی منظوری سے بیرسٹر علی گوہر کو قائم مقام کے طور پر پارٹی کے چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اس عہدے کے لیے کسی سیاسی پارٹی رہنما کو اس لیے نامزد نہیں کیا گیا کہ ایک تو وہ پہلے ہی پارٹی کے اہم عہدوں پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔

’دوسرا پارٹی ہائی جیک ہونے یا کسی کے دباؤ پر عمران خان کے پیچھے ہٹنے کا تاثر نہ رہے۔‘

اکبر ایس بابر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’افسوس ناک بات یہ ہے کہ گذشتہ کئی روز سے جیل میں عمران خان سے ملنے والے وکلا کے مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں۔

’کوئی کہتا ہے وہ چیئرمین کا انتخاب لڑیں گے کوئی کہتا ہے کہ وہ عارضی طور پر پارٹی سربراہی کسی اور کو دے رہے ہیں۔

’پہلے شیر افضل مروت نے اعلان کیا کہ عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن میں چیئرمین کے امیدوار نہیں ہوں گے یہ ان کا فیصلہ ہے۔

’پھر پی ٹی آئی کی جانب سے اس بیان کی تردید کر دی گئی حالانکہ وہ پارٹی کے نائب صدر ہیں۔‘

اکبر ایس بابر کہتے ہیں کہ ’اس کے بعد لطیف کھوسہ نے دعویٰ کیا کہ وہ جیل میں عمران خان سے ملے ہیں، انہوں (عمران خان) نے کہا ہے کہ میں ہی پارٹی چیئرمین کے انتخاب میں امیدوار ہوں کسی اور کو نامزد نہیں کیا جائے گا۔

’پھر کچھ دیر بعد بیرسٹر علی ظفر نے بیرسٹر گوہر کے ساتھ پریس کانفرنس کر دی کہ عمران خان سے مشاورت ہوئی ہے۔

’انہوں نے پارٹی الیکشن دو دسمبر کو کرانے کی منظوری دی اور خود حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کے بقول: ’عمران خان نے اب بیرسٹر گوہر کو چیئرمین نامزد کرنے کی منظوری دی ہے، معلوم نہیں یہ بات بھی ٹھیک ہے یا نہیں۔

’ہم اس ساری صورت حال کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان ماضی کی طرح پارٹی کے لوگوں کے ذریعے کارکنوں کو کنفیوژ کر رہے ہیں۔

’وہ کبھی خود کو قیادت سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ نہ ہی شفاف انٹرا پارٹی الیکشن کروانے میں ان کی کبھی دلچسپی رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عمران خان نے ہمیشہ پارٹی انٹرا انتخابات متنازع رکھے تاکہ لوگ تقسیم رہیں اور ان کی سربراہی پر سوال نہ اٹھائے جا سکیں۔

’دراصل وہ بھی باقی پارٹیوں کی طرح پارٹی میں حقیقی جمہوریت کے کبھی حامی نہیں رہے۔

’یہ انٹرا پارٹی الیکشن کروا کے رپورٹ پیش کریں گے تو ہم پھر اپنا موقف الیکشن کمیشن میں دیں گے تاکہ کارکنوں کو اس ابہام سے نکال کر عام انتخابات کے لیے پارٹی کو تیار کر سکیں۔‘

چیئرمین بدلنے سے پارٹی سیاست پر فرق پڑے گا؟

تجزیہ کار سلمان غنی اس ساری صورت حال پر کہتے ہیں کہ ’پاکستان میں کسی پارٹی میں جمہوریت نہیں کیونکہ پارٹیاں قیادت کے گرد ہی گھومتی ہیں، جس طرح بھٹو کو جیل میں بند کر کے ان کی زندگی میں پیپلز پارٹی کی متبادل قیادت تیار نہ ہوسکی، نواز شریف کو بند کرنے سے ن لیگ میں ان کا نعم البدل تیار نہیں کیا جا سکا۔ اسی طرح عمران خان چاہے جیل میں رہیں پی ٹی آئی کا دوسرا نام عمران خان ہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سلمان غنی کے بقول: ’انٹرا پارٹی الیکشن میں چاہے بیرسٹر گوہر چیئرمین منتخب ہو جائیں، فیصلے عمران خان کے ہی ہوں گے اور ٹکٹیں بھی انہی کی مرضی کے لوگوں کو ملیں گی۔

’تحریک انصاف کے کارکن بھی باقی جماعتوں کی طرح اپنی قیادت کے اشارے پر ہی ووٹ دیں گے اور حمایت کریں گے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک عمران خان موجود ہیں تحریک انصاف کی شہرت وہی رہے گی جو پہلے سے ہے، لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ حلقوں میں شہروں میں انتخابی مہم چلانے یا ٹکٹ لینے کے لیے رہنما موجود نہیں۔

’بیشتر پارٹی چھوڑ چکے ہیں، جو بچے ہیں وہ پولیس سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ وکلا کو قیادت اور عہدے تو دیے جاسکتے ہیں لیکن مہم چلانے اور الیکشن لڑنے کے لیے سیاسی رہنماؤں کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔‘

اکبر ایس بابر نے کہا کہ ’پہلے تحریک انصاف کو سرمایہ داروں نے لوٹا، پھر موقع پرست آگئے اب رہی سہی کسر وکلا نے پوری کر دی۔

’جن وکلا پر انحصار کیا جا رہا ہے ان کے تو بیانات نہیں ملتے پارٹی کو کیا سنبھالیں گے۔ پی ٹی آئی اس وقت کٹی پتنگ بنی ہے جس کے ہاتھ ڈور آ رہی ہے وہی لوٹ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں عام انتخابات تو دور کی بات انٹرا پارٹی انتخابات میں بھی تماشہ لگے گا۔

’یونین کونسل، پھر ضلع اس کے بعد صوبے کی سطح پر منتخب ہونے والے پارٹی قیادت کا فیصلہ کرتے ہیں، یہ 14 دن میں کیسے ممکن ہوگا۔

’جیل میں بیٹھ کر عمران خان کسی کو کیسے نامزد کر سکتے ہیں یہاں کوئی بادشاہت ہے، جسے کارکن چاہیں منتخب کریں لیکن ایسا نہیں کیا جا رہا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست