پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر سے ملاقات کی جس میں خطے کی مجموعی صورت حال، امن و استحکام اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی جب محسن نقوی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ایران کا اہم دورہ مکمل کر کے آج ہی وطن واپس لوٹے ہیں۔
وزارت داخلہ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں خطے کی صورت حال کے ساتھ مختلف شعبوں میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون مزید بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران پولیس افسران کے باہمی پروگرامز اور تربیتی اقدامات سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔
دونوں جانب سے منظم جرائم، منشیات اور انسانی سمگلنگ کے خلاف باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اس موقعے پر امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن و استحکام کے لیے فیلڈ مارشل کے مثبت سفارتی کردار کو بھی سراہا۔ ملاقات میں وفاقی سیکریٹری داخلہ بھی موجود تھے۔
اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران ایرانی صدر، سپریم لیڈر کے نمائندے سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات سے ملاقات کے بعد مکمل ہو گیا۔
آئی ایس پی آر نے پیر اور منگل کی درمیانی شب جاری ایک بیان میں کہا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ دورہ جاری امریکہ - ایران تنازعے کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں اور خطے میں پائیدار امن اور مستقل طور پر عدم استحکام کے خاتمے کے لیے راستے تلاش کرنے کے سلسلے میں کیا گیا۔
پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر محسن نقوی کے ہمراہ پیر کی صبح تہران پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر کے نمائندے برائے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی، ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی اور ایرانی وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔
ایرانی صدر سے ملاقات کو محسن نقوی نے ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ’فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میری ایران کے صدر کے ساتھ انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی۔
’ہماری گفتگو میں ایران-امریکہ تنازع، مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آگے بڑھنے کے راستے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر سے ملاقات میں ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی بحالی کے لیے دونوں جانب سے درکار اقدامات بھی زیرِ بحث آئے، تاکہ اس کے نتیجے میں تنازع کا جامع حل ممکن ہوسکے۔‘
ایرانی صدر نے اپنی حکومت کے مؤقف اور خدشات کھل کر ہمارے سامنے رکھے اور ہم نے متعلقہ امور پر انتہائی تعمیری انداز میں تبادلۂ خیال کیا۔
Field Marshal Syed Asim Munir and I had a very positive and productive meeting with the President of Iran. Our discussion focused on the Iran US conflict, tensions in the Middle East and the way forward, as well as the steps needed by both sides for restoration of the Islamabad… https://t.co/jt1wtlESCa
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 24, 2026
ساتھ ہی محسن نقوی نے ’اہم پیش رفت‘ کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ’ہمیں امید ہے کہ یہ رفتار آگے مزید پیش رفت اور خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف سے ملاقات میں خطے میں امن و سلامتی کے فروغ کے لیے بات چیت ہوئی۔
ارنا کے مطابق ملاقات کے دوران باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اس دورے کے اختتام پر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقاتوں میں مزید کشیدگی کو روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تنازع کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات پر جامع تبادلۂ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں جانب سے خطے میں امن اور تنازعات کے لیے مذاکرات کے ذریعے حل تک پہنچنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ ہوا اور ایرانی قیادت نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔