کشمیر انتخابات کے بعد ن لیگ کی پیپلز پارٹی کو منانے کی کوششیں

وفاق میں اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے اثرات اب وفاقی پارلیمان میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

وفاق میں اتحادی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں، جس کے اثرات اب وفاقی پارلیمان میں بھی نظر آ رہے ہیں۔

ایک جانب پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے ساتھ پارلیمان میں تعاون سے گریز کر رہی ہے وہیں ن لیگ پیپلز پارٹی کو منانے کی کوششیں کر رہی ہیں۔

قومی اسمبلی کی کارروائی میں ارکان کی کم حاضری نمایاں رہی، جس کی ایک بڑی وجہ وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور اس کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف ہے، جو بنیادی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ انتخابات کے معاملے پر ہے۔

ادھر مظفرآباد میں کشمیر کی نئی قانون ساز اسمبلی نے حکومت سازی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے، لیکن اسلام آباد میں دونوں اتحادی جماعتیں اب بھی اپنے اپنے مؤقف پر قائم نظر آتی ہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے انتخابات کے نتائج نے دونوں جماعتوں کے درمیان موجود دوریوں کو مزید نمایاں کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قانون سازی میں مسلم لیگ ن کا ساتھ دینے کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی نے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نفیسہ شاہ نے مزید کہا کہ ’حکومت نے کشمیر میں فارم 47 اور 49 والی کارروائی کی۔ اس پر ہمارے تحفظات ہیں۔‘

نفیسہ شاہ کا کہنا ہے کہ کشمیر کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی فاصلے بڑھا دیے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے معاملات پر مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات ختم کرنے کے لیے رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس کے اب تک دو اجلاس ہو چکے ہیں اور ان اجلاسوں میں اتحادی جماعت کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان معاملات کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

کشمیر حکومت سازی کے عمل کا آغاز تو ہو گیا ہے لیکن دونوں اتحادی جماعتیں اب بھی اپنے اپنے مؤقف پر قائم نظر آتی ہیں تو اب سوال یہ ہے کہ کشمیر کے انتخابات سے پیدا ہونے والی سیاسی خلیج کس حد تک برقرار رہتی ہے؟

کیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کسی متفقہ لائحہ عمل پر پہنچ پائیں گی اور دونوں کے درمیان ہونے والی سیاسی ڈیل وفاقی حکومت کی سیاست کو کس سمت لے جائے گی، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست